جولائی کے آخری دن، کابل کے لوگ گرجدار دھماکوں کی آواز اور گہرے سیاہ بادلوں میں ڈھکی ہوئی آسمانی لکیر سےبیدار ہوئے۔افواہوں کی بھرمار تھی لیکن دو دن بعد جب امریکہ نے سی آئی اے کے ڈرون حملے میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کو ہلاک کرنے کا اعلان کیا تو اس کے بارے میں سرکاری طور پرکچھ نہیں کہاگیا تھاکہ 9/11 کے حملوں کاوہ بھی ایک اہم منصوبہ سازتھا۔ دوتباہ کن میزائلوں کےفائر نےشیر پور کے محلے میں ایک ولاکو نشانہ بنایاجہاں طالبان میں ڈاکٹرصاب کےنام سےمشہور الظواہری مبینہ طور پر طالبان کےدور میں مہینوں تک مقیم رہے۔ظواہری کا قتل طالبان قیادت کے لیےایک زوردار دھماکہ تھا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ تیسرا میزائل امریکہ کی طرف سے بھیجا گیا پیغام تھا کہ افغانستان سے ان کے نکلنےکامطلب انکی فوجی کارروائی کاخاتمہ نہیں ہے۔ طالبان نے القاعدہ سمیت غیر ملکی عسکریت پسندوں سےتعلقات ختم کرنےاوردہشت گردی میں ملوث افراد کوپناہ نہ دینے کاعہدکیاتھا۔ عہد کی دھوکہ دہی کی فوری قیمت انہیں چکانی پڑی۔ جب سے طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا ہے، وہ ایک دوراہے پر ہیں۔ ان کا القاعدہ کے ساتھ نسلی اور نظریاتی اوروسطی ایشیائی عسکریت پسندوں اورپاکستانی طالبان(ٹی ٹی پی) کےساتھ تعلق ہےجو نیٹو افواج کے خلاف جنگ میں ان کے شانہ بشانہ لڑے تھے۔ وہ افغانستان کو دہشت گردی کےنیٹ ورکس سے پاک کرنے کے اپنےعہد کو پورا نہیں کر سکتے اور نہ ہی وہ تلخ حریفوں،داعش یاآئی ایس کے پی، کے مقابلے میں تنہائی میں جانے کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ افغانستان کی آج کی بھیانک تصویرکئی دہائیوں کی جنگ، غیر ملکی حملوں اورمداخلتوں، موت اورتباہی،جنگجوئوں کی مہلک لڑائی اور نسلی اور فرقہ وارانہ کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے۔ 9/11 کے بعد کی نوجوان نسل ڈیجیٹل دنیامیں پیدا ہوئی اورمغربی اقدارسےروشناس ہوئی سڑکوں پرطالبان کےپرانےفیصلوں کےخلاف مزاحمت کر رہی ہےجیسےلاکھوں لڑکیوں کوہائی سکول کی تعلیم سے محروم کرناجس پر لڑکیوں نے کابل کے قلب میں مظاہرے کیے ہیں۔روٹی،کام، تعلیم، آزادی، انہوں نے نعرے لگائے اور طالبان سپاہیوں نےمظاہرین خواتین اورلڑکیوں کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کاسہارا لیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق طالبان کی ظالمانہ پالیسیاں لاکھوں خواتین اورلڑکیوں کو محفوظ،آزاداوربھرپور زندگی گزارنے کےمواقع سےمحروم کر رہی ہیں۔ افغانستان کے طالبان سنگدل نہیں ہیں اور قیادت، جنگ سےحکمرانی کی طرف منتقلی کے لیےجدوجہد کررہی ہے۔ قیادت ان لوگوں کے درمیان تقسیم ہےجوچاہتے ہیں کہ ملک 1996 ء میں واپس آجائے۔انٹرنیٹ،سوشل میڈیاتک رسائی دیہی اورشہری دونوں مراکز میں جہاں پہلے کبھی ممکن نہیں تھی اب موجود ہے۔ عام آبادی کی اس رسائی کی وجہ سے طالبان کواپنی مرضی مسلط کرناممکن نہیں رہا۔غیرملکی امدادپرانحصارکرنیوالاافغانستان، طالبان کےکنٹرول میں ہے۔کس کوموردالزام ٹھہرایاجائے؟طالبان کو؟ جو اب بھی بین الاقوامی شناخت حاصل کرنےکےلیےجدوجہد کررہےہیں۔ روسی، امریکی،علاقائی کھلاڑی؟ طاقت کے بھوکے افغان جنگجو؟ یا کرپٹ لیڈرجنہوں نے اس نازک موڑ پر انہیں چھوڑ دیا؟
مغرب،امریکہ نے افغانستان کو کبھی نہیں سمجھا۔ نہ تو انہوں نے اسے سمجھنے کے لیے ضروری کوششیں کیں اور نہ ہی ان کے پاس کوئی واضح حکمت عملی تھی کہ کیسے جیتنا ہے یا کیسے باہر نکلنا ہے، گینن نے کہا۔
آج، ملک اس صورتحال کا سامنا کر رہا ہےجسے اقوام متحدہ دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران قرار دیتا ہے۔ اس کے 38 ملین افراد میں سے نصف سے زیادہ غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں، لاکھوں بچےاس کا شکار ہیں جبکہ اس کی معیشت تباہ ہو چکی ہے۔ امریکہ نے افغانستان کے اربوں ڈالر منجمد کر کے ملک کی معیشت کو مفلوج کر دیا ہے۔ مغربی دنیا نے خواتین کے حقوق اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے طالبان کے ہاتھ میں رقم دینےسے انکارکرتے ہوئےغیر ملکی امداد کو روک دیا ہے۔ہیومن رائٹس واچ کی افغانستان کے بارےمیں حال ہی میں جاری کردہ رپورٹ میں فرستہ عباسی نے نوٹ کیا، افغان عوام انسانی حقوق کے ڈراونے خواب میں جی رہے ہیں، طالبان کےظلم اور بین الاقوامی بےحسی دونوں کا شکار ہیں۔ طالبان اپنے ماضی کی غلطیاں دہرا رہے ہیں۔ لڑکیوں کے اسکولوں کی بندش اور ایمن الظواہری کی میزبانی کی طرح اپنی خود ساختہ تخریب کاری کو دہراتے ہوئے وہ پہچان کے خواہاں ہیں جیسا کہ انہوں نے 90 کی دہائی میں کیا تھا۔ کابل میں امریکن یونیورسٹی کے مبصر اور لیکچرر، عبید اللہ بحیر کہتے ہیں، ان کے پریشان کن اقدامات بین الاقوامی شناخت کے ان کے اپنے حصول کو نقصان پہنچارہے ہیں۔طالبان اپنی ناکامی کے ذمہ دار ہیں۔ یہ کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امریکہ اس عمل میں پوری طرح ایماندار رہا ہے، لیکن طالبان اپنی غلطیوں کے لیے خود جوابدہ ہیں۔لڑکیوں کی تعلیم کے سوال پر طالبان کے اندر اختلافات ہیں۔ طالبان کو تین وسیع شاخوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ نظریاتی یا پیوریسٹ، سیاسی لاٹ کے نام نہاد اعتدال پسند اور جنگ میں سخت جنگی قوت۔ کابینہ یا سیاسی گروپ کے ارکان، بشمول ملا برادر، حقانی برادران- سراج الدین جنہیں خلیفہ اور انس کے نام سے جاناجاتا ہے، اور عبدالقہار بلخی، سب کابل میں بیٹھتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر مغربی دنیا کی سفارتی برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں، اور لڑکیوں کی تعلیم کی اجازت دینے کے حق میں تھے۔ شوری کونسل کے ارکان کا نظریاتی گروپ، سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخونزادہ کے ساتھ، زیادہ تر اپنے ہیڈکوارٹر، قندھار میں، 90 کی دہائی کے ملا عمر کے دور کی طرح رہتا ہے اور 90 کی دہائی کی طرح کاہی طرزحکمرانی ہے۔امداد پر انحصار کے پیش نظر، بین الاقوامی شناخت کے بغیر افغانستان کو چلانے والے طالبان کو تب تک جدوجہد جاری رکھنی ہے جب تک کہ وہ اپنے طرز حکمرانی کو تبدیل نہیں کرتے اور ایک جامع حکومت تشکیل نہیں دیتے۔ افغانوں کے لیے مستقبل بےیقینی سےبھراہے۔ افغان معاشرےسےمفاہمت کی کوشش کرنے والے ایک وکیل باہیرکہتےہیں کہ ان کو صرف افغان ہی داخلی جواز فراہم کرسکتے ہیں جو محسوس کرتے ہیں کہ ان کے حقوق طالبان کے دورحکومت میں محفوظ ہیں لیکن دل میں وہ یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ افغانستان کہیں کھو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگست 2021 ء میں ہم نے افغانستان کودوبارہ کھو دیا۔ گزشتہ سال اسے تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ (اویس توحید،عرب نیوز)