کیا عام شہریوں کو انصاف کی فراہمی میں ناکام ثابت ہونے والے ریاستی ادارے احترام کے مستحق ہو سکتے ہیں ؟ شفاف تفتیش کی بنیاد پہ عدالتی کارروائی کے ذریعے مجرم کو سزا دے کر مظلوم کو انصاف فراہم کرنے کا مروجہ ریاستی بندوبست تقریباً غیر موثر ہو چکا ہے۔ یہ مشور مقولہ پیش نظر رہے کہ کفر کا نظام تو چل سکتا ہے لیکن ناانصافی پہ مبنی ظلم کا نظام نہیں چل سکتا ۔ اگر ریاستی نظام مظلوم کے بجائے ظالم کی پشت پہ کھڑا ہو جائے تو بربادی اور فساد کے سوا کچھ اور نتیجہ برآمد نہیں ہو سکتا۔ یہ طویل تمہید ناانصافی کے نہ تھمنے والے اس سلسلے کی جانب توجہ دلانے کے لئے باندھی کہ جس نے عام شہریوں کی زندگیاں اجیرن کر رکھی ہیں۔ آئین کے مطابق ہر شہری برابر کے حقوق کا حامل ہے۔ ذات، پات رنگ ،نسل ، عہدے یا رتبے کی بنیاد پہ امتیاز برتنے کی کوئی قانونی گنجائش نہیں ۔ اب دل پہ ہاتھ رکھ کے یہ سوال پوچھیں کہ کیا دیمک زدہ نظام میں سب شہری یکساں حقوق کے حامل ہیں ؟ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ریاستی نظام طبقہ اشرافیہ کے ہاتھوں یر غمال ہے۔ بااثر مجرم تفتیش کے دوران قانونی موشگافیوں کی آڑ میں مکھن سے بال کی طرح نکال لیا جاتا ہے ۔ صبح شام قوم کو آئین ، قانون اور انسانی بنیادی حقوق کا بھاشن دینے والے بہت سے نامور وکلاء کا چولہا اسی قانونی کار خیر کی بدولت جلتا ہے۔ یہ صحافیانہ مبالغہ نہیں بلکہ ناقابل تردید مشاہدات کی بنیاد پہ قائم کی گئی رائے ہے۔
حال ہی میں رفاقت علی نامی ایک مظلوم باپ کی دلخراش فریاد نے جابرانہ ریاستی نظام کے لگائے وہ زخم بھی تازہ کر دئے جو رفتہ رفتہ قوم کی اجتماعی یادداشت سے محو ہوتے جارہے تھے۔ رفاقت علی کا دکھڑا سننے سے پہلے اشرافیہ کے ہاتھوں عام شہریوں کے بنیادی حقوق کی پامالی کے ان چشم کشا واقعات پہ نگاہ ڈال لیں جن کا کسی مہذب معاشرے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ بارہ برس قبل کراچی کے پوش علاقے میں شاہ زیب نامی نوجوان کو دولت کے نشے میں بدمست ایک بااثر زمیندار کے بیٹے نے قتل کر دیا ۔ پہلے بدقماش نوجوان نے مقتول شاہ زیب کی بہن سے بدتمیزی کی اور مزاحمت کرنے پر قتل جیسے سنگین جرم کا ارتکاب کیا ۔ دس برس چلنے والے مقدمے کا نتیجہ یہ رہا کہ مقتول نوجوان کے لواحقین کو مشکوک حالات میں سمجھوتہ کرنا پڑا ۔ میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے واویلا مچایا تو مجرم کو سزائے موت دی گئی ۔ تاہم انتہائی زیرک وکیلوں نے مجرم کو پھانسی کے بجائے عمر قید کروا دی۔ یہ عمر قید کیسی ہوسکتی ہے اس کا اندازہ آپ ان سابقہ رپورٹوں سے لگا سکتے ہیں جن کے مطابق مجرم جیل کے بجائے کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں پرتعیش علاج سے مستفید ہوتا رہا تھا۔ واضح رہے کہ مقتول شاہ زیب کے والد کوئی عام شہری نہیں بلکہ ایک پولیس افسر تھے تاہم ملزم کے بااثر خاندان نے ریاستی نظام کو اپنی ڈگڈگی پہ نچا کر ثابت کیا کہ انصاف اس طرح بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ سات برس قبل اپنی ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے کو ئٹہ شہر میں ٹریفک پولیس اہکار عطاء اللہ کو ایک تیز رفتار گاڑی نے کچل کر مار ڈالا۔ ملزم بلوچستان اسمبلی کا رکن اور ایک انتہائی بااثر خاندان کا فرد تھا ۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق موصوف عدالت سے با عزت بری ہو چکے ہیں۔ اسی خاندان کے ایک اہم فرد گاہے بگاہے تشکیل پانے والے قومی سیاسی اتحادوں میں آئین کی بالادستی اور جمہوریت کی بحالی کے لئے رطب السان رہتے ہیں ۔ شاہ زیب کے قاتل کو عدالتی ریلیف دلوانے میں جو نامور وکیل پیش پیش تھے وہ اپنی سابقہ سیاسی جماعت سے ناطہ توڑ کر انصاف کے نام پہ قائم ہونے والی جماعت میں شامل ہو کر انسانی حقوق اور قانون کی بالا دستی کے لئے بلاناغہ میڈیا پہ اصلاحی خطبہ ارشاد فرماتے ہیں۔ یہ تاثر بلاوجہ جڑ نہیں پکڑ رہا کہ ریاستی نظام مظلوم کی داد رسی کے بجائے مجرم کا معاون بن جاتا ہے ۔ مظلوم رفاقت علی کا معاملہ ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔
رفاقت علی کا نوجوان بیٹا شوکت اسلام آباد کے ایک مشہور ہوٹل میں ویٹر کی ملازمت کرکے روزی روٹی کماتا تھا ۔ دو برس قبل ڈیوٹی سے فراغت کے بعد رات کو واپس لوٹتے ہوئے شوکت اور اس کے دوست حسنین کو ایک تیز رفتار لگژری گاڑی نے کچل کر موت کے سفر پہ روانہ کر دیا ۔ مبینہ طور پہ ڈرائیور جو کہ ایک متمول خاندان کی لڑکی تھی موقع پر گاڑی سے اتر کر فرار ہو گئی ۔ یہ ابھی ایک افسوسناک امر تھا کہ ملزمہ نے زخمی نوجوانوں کی طبی امداد یا ریسکیو کو بھی نظر انداز کیا اور فرار ہونے میں عافیت جانی۔ مقتول شوکت کے والد نے چند روز قبل پریس کانفرنس میں اپنا مقدمہ ریاست کے سامنے رکھا ہے۔ دو برس گذرنے کے باوجود ناقص تفتیش کی بناء پہ انصاف نہیں ہوسکا ۔ رفاقت نے شکایت کی ہے کہ ملزمہ کے بااثر لواحقین نے اسے ہراساں کر کے عدالت سے باہر سمجھوتے کے لئے مجبور کیا ہے۔ رفاقت نے اعلان کیا ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے نہ ہوئے تو وہ عدالت عظمیٰ کے سامنے خود سوزی کر کے اپنی زندگی ختم کر ڈالے گا ۔
واضح رہے کہ رفاقت علی کا دعویٰ جس خاندان کے خلاف ہے اس کا تعلق اس بااختیار ایوان سے ہے جو اپنی توہین کے معاملے پہ بے حد حساس ہے۔ منصفی بال سے باریک اور تلوار سے تیز دھار پل پہ سے گذرنے جیسا پیچیدہ عمل ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاست مظلوم رفاقت کی منصف بنے گی ؟ یا ایک بار پھر اشرافیہ کا پلہ ہی بھاری رہے گا؟ رفاقت نے بیٹا کھویا ہے ۔ ریاست نے اس کی داد رسی نہ کی تو وہ اپنی ساکھ کھو بیٹھے گی ۔ سادہ لفظوں میں پولیس اور عدلیہ کی ساکھ بھی دائو پہ لگی ہے۔ امید تو یہی ہے کہ ریاست ، پولیس اور عدلیہ کی ساکھ بچ جائے اور اشرافیہ کے بجائے نظام انصاف رفاقت کے زخموں پہ مرہم لگائے۔