Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

انصاف زندہ باد

گورنر مصر سیدنا عمر ابن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیٹا ایک قبطی (مصر کا ایک مسیحی قبیلہ ) نوجوان سے ہار گیا ، گورنر زادے کو غصہ آیا اس نے فاتح قبطی نوجوان کو مارا اور کہا ’’ انا ابن الاکرمین ‘‘میں نجیب الطرفین معزز ہوں۔شکائت مدینہ پہنچی ، امیر المومنین سیدنا عمر ابن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ، گورنر کو صاحبزادے سمیت طلب کرلیا ۔ مسجد نبوی کے سامنے خلقت کی موجودگی میں صاحبزادے کو کھجور کے تنے سے باندھ کر قبطی کو کوڑا پکڑاتے ہوئے فرمایا ’’مارو اس ابن الا کرمین کو،اتنامارو جتنا اس نے تمہیں مارا تھا ۔‘‘ قبطی کا انتقام مکمل ہواتو حکم دیا ،’’ اس کے باپ گورنر کو بھی مارو، اس کے سر پر کوڑا مارو‘‘ فرمایا: ”متٰی استعبدتم الناس وقد ولدتهم أمهاتهم أحرارا‘‘ ( تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنالیا ، جب کہ ان کی مائوں نے تو انہیں آزاد جنا تھا۔) عمرابن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ صرف اتنا کہہ سکے ’’میں تو اس پورے قضیہ سے بے خبر تھا ، یہ نوجوان شکائت لے کر میرے پاس آیا ہی نہیں۔‘‘ عمرؓ کا انصاف پھر جلال میں آیا ، عمر ابن العاصؓ کے رسول اللہ ﷺکے جلیل القدر صحابی اور خود اپنے یعنی سیدنا عمر ؓ کے عزیز دوست ہونے کا لحٓاظ کئے بغیر حکم دیا، جو شخص اس قدر بےخبر ہو وہ گورنر کے عہدے کا مستحق نہیں اور کھڑے کھڑے برطرف کردیا۔۔۔ کل یکم محرم ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یوم شہادت ، قوم پورے جذب وعقیدت کے ساتھ یہ دن اس حال میں منائے گی کہ صرف ایک روز قبل ،عدل فاروقی کے نفاذ کےوعدہ پر قائم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالحکومت سے انصاف کا جنازہ اٹھاہے ، عدل کی پشت پر تازیانے برسانے کی خبرآئی ہے ۔ ایک باپ کو اس لئے گرفتار کرلیا گیا کہ وہ ایک بااثر شخصیت کی بیٹی کے ہاتھوں اپنے بیٹے کے قتل کے مقدمہ میں انصاف کا مطالبہ کر رہا تھا ۔وہ دوسال سے دہائی دے رہا تھا ، اس کے گھر پرحملےہوئے ، پولیس نےچھاپے مارے ،ہراساں کیا ،ڈرایا ، دھمکایا، وہ عدالت پہنچاتوحبس بےجا میں رکھا گیا ، رسوا کن سلوک کے بعد بھگادیا گیا ۔ وہ مجبور تھا کیا کرتا ؟ اس کے لخت جگر کی کٹی پھٹی ، گاڑی کے ٹائروں تلے کچلی لاش اسے چین نہیں لینے دیتی تھی ، وہ پھربےچین ہوا اور اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاج کرنے لگا ۔ رفاقت تنولی مقتول شکیل تنولی کا باپ ، بےوقوف تھا ، وہ سمجھا ہوگا کہ جس پریس کلب کے باہر ہفتوں تک پاکستان دشمن دہشت گردوں کے ایجنٹوں کو احتجاج کی کھلی چھٹی دی گئی ، جہاں ماہرنگ اور سیمی دین محمد کو پاکستان توڑنے کے نعرے لگانے اور دعوے کرنے کی مکمل آزادی دی گئی ، جس پریس کلب کے باہر ملک دشمن مظاہرین کی پشت پناہی میں میڈیا کے راتب خور ،وکیل اور عدلیہ متحرک رہی ، شائد اسے بھی وہاں احتجاج کرنے کی اجازت ہے ، اسی غلط فہمی میں وہ اپنی جان پہچان کے چند لوگوں کے ہمراہ پریس کلب کے باہر دن بھر روتا، بلکتا احتجاج کرتا اور اپنے بیٹے کے قتل پر انصاف کا مطالبہ کرتا رہا ، کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی ، جیسے ہی سورج غروب ہوا ، اسلام آباد پولیس اس پر ٹوٹ پڑی ، ان مٹھی بھر مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے برسائےاور پولیس کی گاڑی میں ڈال کر تھانے لےجایا گیا ، جہاں اب وہ انصاف مانگنے کا مزہ چکھ رہا ہے ۔
شرم کی بات یہ ہے کہ کل تک مہرنگ بلوچ اور طرح طرح کے رنگ باز ملک دشمن عناصر کے انسانی حقوق اور آزادیوں کی دہائی دینے والا میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں کہاں مر گئی ہیں ؟وہ لوگ کہاں گئے جو آزاد کشمیر میں جھوٹ بول کر فساد پھیلاتے پکڑے جانے والے یو ٹیوبر کی گرفتاری پر روز نعرہ زن ہوتے تھے ، ریاست پاکستان کو للکارتے اور بازیابی تک چین سے نہ بیٹھنے کا اعلان کرتے تھے؟ کہاں ہیں ، وہ لوگ ریاست کے خلاف کھڑے ہونے والے ہر غیر ملکی ایجنٹ کے لئے انسانی حقوق کے نام پر سیسہ پلائی دیوار بن جاتے ہیں ؟ ایک مظلوم ، محنت کش کا قتل ہوا ہے ، ایک غریب آدمی کا بیٹا کچلا گیا ہے؟ کہا گیا ’’جس پر الزام ہے چونکہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہے، اس لئے اب اس معاملے کی حمائت نہیں کی جاسکتی ۔‘‘یعنی قتل کریں ، کرپشن کی دلدل میں اتریں ، اخلاقیات کی دھجیاں اڑادیں ، اس کے بعد اسٹیبلشمنٹ کو گالی دے دیں ، سب معاف ؟اصول ، قانون ، ضابطہ، اخلاقیات کی کوئی حیثیت نہیں ؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ اگرپاکستان کی عدلیہ عالمی رینکنگ میں 140میں سے129ویں نمبر پر ہے تو اب یہ داستان جب عالمی اداروں تک پہنچے گی کہ ایک جج پر الزام لگانے والے سائل کی شکائت سننے کے بجائے ، اسے رسوا کیا گیا ،تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور گرفتار کیا گیا تو سوچیں عدلیہ کے وقار ، ججز کے احترام کا کیا بنے گا ؟ کسی نے سوچا ، ضروری تو نہیں کہ یہ الزام درست ہی ہو ، تحقیقات ، تفتیش ، آزادانہ سماعت تو کی جاتی ، مدعی کو جھوٹا ہی ثابت کردیاجاتا لیکن کسی قاعدے،ضابطے کے تحت تو معاملہ حل کیا جاتا ،یہ تشدد، گرفتاریاں کیا ہیں ؟ یہ پیغام کیوں دیاجا رہا ہے کہ کچھ لوگ اور مخصوص عہدے ، ملک معاشرے ، اداروں اور قوانین سے ماوریٰ ہیں ۔ کیا نہیں معلوم کہ اگر عدلیہ کا وقار نہ رہا ،ججز کا احترام نہ رہا تو معاشرے کا کیا بنے گا ؟
ہاتھ اِنصاف کےچوروں کابھی کیا میں کاٹُوں
جُرم قانون کرے، اور سزا میں کاٹوں
دُودھ کی نہر ، شہنشاہ محل میں لےجائے !
تیشۂ خُوں سے پہاڑوں کا گَلا میں کاٹُوں
تیرے ہاتھوں میں ہے تلوار، مِرے پاس قَلَم
بول! سر ظُلم کاتُو کاٹے گا یا میں کاٹُوں
اب تو بندے بھی خُدا، بندوں کی تقدِیر لکھیں
دے وہ طاقت مجھے، اُن سب کا لِکھا میں کاٹُوں
پاؤں ہوتے ہوئےکب تک چلوں بیساکھیوں پر
کب تلک دوسروں کابویا ہُوا ، میں کاٹُوں
کُھلے ماحول پہ وہ حَبس کو ماموُر کرے
سانس کی دھار سے زنجیرِ ہَوا، میں کاٹُوں
چھاؤں تو اُس کو مظفر نہیں اچھّی لگتی !
کہتا مجھ سے ہے کہ یہ پیڑ گھنا میں کاٹُوں

یہ بھی پڑھیں