Search
Close this search box.
منگل ,14 جولائی ,2026ء

بھارت ہندوتو اکی زد میں

بھارتی معاشرہ ہندوتو ا کے زعفرانی انقلاب کی زد میں ہے۔ نریندر مودی کی زیر قیادت بھارتیہ جنتا پارٹی سر توڑ کوششیں کر رہی ہے کہ بھارت کو ہندو راشٹر کا روپ دیا جائے ۔حالیہ الیکشن کے اکھاڑے میں اترنے سے پہلے مودی سرکار نے 400 سے زائد نشستیں جیتنے کا سپنا دیکھا تھا ۔مقصد یہی تھا کہ مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے کے بعد بھارتی آئین میں من مانی ترامیم کر کے برائے نام سیکولرازم سے جان چھڑوا کر ہندوتوا نظریے کے تحت بھارت کا آئینی تشخص بدلا جائے۔ مودی سرکار کا یہ سپنا چکنا چور ہو گیا۔ کانگرس نے راہول گاندھی کی قیادت میں جو انتخابی اتحاد تشکیل دیا وہ حکومت تو نہ بنا سکا تا ہم بی جے پی کو فیصلہ کن اکثریت سے محروم کر گیا۔ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ نریندر مودی نے گزشتہ دو ادوار میں دائیں بازو کے انتہا پسند ہندو طبقات کے مذہبی جذبات کو مشتعل کر کے سیاسی فوائد بٹورے۔ مذہبی نفرت کے زہر سے آلودہ اس طرز سیاست پہ عالمی میڈیا میں شدید تنقید ہوتی رہی ہے ۔مطلوبہ اکثریت سے محرومی کے باوجود بی جے پی حکومت بنانے میں کامیاب ہو چکی ہے ۔الیکشن میں ناقص کارکردگی کا غصہ اب اقلیتوں پہ نکالا جا رہا ہے۔
بی جے پی کے شر پسند عناصر خاص طور پہ اپنے علاقوں میں مسلمانوں کو تشدد اور مذہبی تعصب کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں ریاستی تشدد کا سلسلہ مزید دراز ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ حالات پہ قابو پانے کے جھوٹے دعوئوں کی قلعی اس حقیقت سے کھل چکی ہے کہ مودی سرکار تا حال مقبوضہ جموں و کشمیر میں الیکشن سے گریزاں ہے۔نوجوان کشمیری حریت پسند مظفر برہان وانی شہید کی آٹھویں برسی کے موقع پہ مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر میں کشمیری برادری نے غاصب بھارتی ریاست کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔ برہان وانی اپنی شہادت سے پہلے غاصب بھارتی افواج کے لیے ایک ڈراونا خواب بن چکا تھا ۔بھارتی افواج کے ہاتھوں تشدد اور ذلت آمیز رویے کا شکار رہنے کے بعد برہان وانی نے ریاستی جبر کے خلاف ہتھیار اٹھا کر تحریک حریت کشمیر میں ایک نئی روح پھونک دی۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے گلی کوچے برہان وانی کی صدائے حریت سے گونج اٹھے ۔بھارتی جبر کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے برہان وانی نے سوشل میڈیا سمیت جدید ذرائع ابلاغ کا بھرپور استعمال کیا ۔برہان وانی کے پیغام حریت کی نوجوانوں میں پذیرائی بھارتی غاصب حکمرانوں کی آنکھ میں کانٹا بن کر کھٹکتی رہی ۔موقع ملتے ہی بھارتی افواج نے برہان وانی کو شہید کر دیا ۔اس ظالمانہ ماورائے عدالت قتل کے بعد مقبوضہ کشمیر سراپا احتجاج بن گیا۔ شہید برہان وانی کی نماز جنازہ میں 10 لاکھ سے زائد کشمیری شریک ہوئے ۔چالیس سے زائد نماز جنازہ کا اہتمام کیا گیا۔ برہان وانی کی شہادت نے تحریک حریت کشمیر میں نیا ولولہ پیدا کر دیا ۔دنیا بھر میں شہید برہان وانی کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا گیا ۔آٹھ برس بعد بھی شہید برہان وانی کی برسی کے موقع پر کشمیری عوام نے بھارتی غاصب حکمرانوں کے خلاف احتجاج کی صورت میں چارج شیٹ پیش کی ہے ۔
آج بھی غاصب بھارتی افواج شہید برہان وانی کے پیغام حریت سے خائف دکھائی دیتی ہے۔ عوامی احتجاج کو دبانے کے لیے ریاستی تشدد کا ہتھیار بے دریغ استعمال کیا گیا ۔شدت پسند نظریات کی پیروکار جماعت بی جے پی نے نریندر مودی کی معتصبانہ قیادت میں مقبوضہ کشمیر کو عقوبت خانے میں تبدیل کر دیا ہے۔ جس طرح بھارت کی سیکولر شناخت کو ہندوتوا کا زعفرانی چولہ پہنا کر بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے اسی طرح مقبوضہ جموں و کشمیر میں کی مسلم شناخت کو تبدیل کرنے کے لیے ریاستی تشخص ختم کر دیا گیا ہے۔مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لیے آر ایس ایس کے کارکنوں کو جموں میں آباد کیا جا رہا ہے۔ مودی کے 10 سالہ عہد اقتدار میں بھارتی سماج تیزی سے شدت پسندی کی لپیٹ میں آتا جا رہا ہے۔
بھارتی نوجوانوں کے ذہن میں دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت کے بیج بونے کے لیے بی جے پی نے تعلیمی نصاب میں آر ایس ایس کا متنازعہ مواد شامل کروا دیا ہے۔ بھارت میں متوازن سوچ کے حامل سیاسی اور صحافتی طبقات بی جے پی کی نئی واردات پہ سوال اٹھا رہے ہیں۔ لگ بھگ 65 برس پہلے قائم کیے گئے سینک سکولوں میں ہندوتوا نظریات کے پرچار کے لیے بی جے پی نے منظم کارروائی شروع کر رکھی ہے ۔کیڈٹ کالج کی طرز پہ قائم کیے گئے سینک سکول اب رفتہ رفتہ آر ایس ایس کے زہریلے نظریات کی ترویج کے اڈے بن رہے ہیں۔آثار بتا رہے ہیں کہ اقتدار کے تیسرے دور میں نریندر مودی مسلم دشمنی کی آگ بھڑکا کر بی جے پی کی زوال پذیر سیاست کو دوام بخشنے کی بھرپور کاوشیں کرے گا ۔انتخابات کے بعد مسلمانوں کے خلاف تشدد اور قتل و غارت کا سلسلہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارت میں بی جے پی مسلمانوں سمیت تمام مذہبی اقلیتوں پہ زمین تنگ کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں