ملک سے باہر جا کر دیکھو تو اس کی صحیح قدر ہو گی ۔ اس کی یاد آئے گی ۔ گھر کی مرغی دال برابر ، محاورے کے مترادف اپنے ملک کی بے شمار خوبیوں کو معمولی جان کر خاص توجہ نہیں دیتے ۔ پچھلے ڈیڑھ ماہ سے میں یو کے اور یورپ کا سیاحتی دورہ کر رہا ہوں ۔ ان ملکوں میں سب سے بڑا مسئلہ گاڑیوں کی پارکنگ کا ہے ۔ اس پہ مستزاد ، چھوٹی سی ٹریفک رولز کی خلاف ورزی پہ بھاری جرمانوں کی سزا بھی ہے ۔ ایسے لگتا ہے یوکے حکومت نے جان بوجھ کر اس مسئلے کو تخلیق کر رکھا ہے ۔ اس سے قومی خزانے میں بھاری رقم جمع ہوتی ہے ۔جس سے بھی میں نے بات کی اسے پارکنگ اور جرمانے متعلقہ رولز سے تنگ ہی پایا ۔ یہاں کے ٹریفک رولز اس قدر پیچیدہ ہیں کہ سو فیصد احتیاط کے باوجود کہیں نہ کہیں لغزش ہو ہی جاتی ہے ۔ جگہ جگہ کیمرے نصب ہیں ۔ اجنبی ڈرائیور کا اس جال سے بچ نکلنا معجزے سے کم نہیں۔ ہم مانچسٹر میں تھے ۔ سوچا لندن کی سیر کو جاتے ہیں ۔ سامان گاڑی میں رکھا ۔ جس میں میری اہلیہ کی وہیل چئیر بھی شامل تھی ۔ گاڑی ہم نے موٹر وے پہ چڑھا دی ۔ جس کو میرا میزبان کزن چلا رہا تھا ۔ تمام راستہ گاڑی کی رفتار کو بار بار بدلنا پڑ رہا تھا ۔ کبھی چالیس اور کبھی ستر میل فی گھنٹہ کی رفتار کی اجازت کا بورڈ نمو دار ہو جاتا ۔ ساتھ کیمرے بھی عقابی نظروں سے تاڑ رہے ہوتے ۔
جدید ترین گاڑی مگر رفتار کسی پرانے چکھڑے جیسی تھی ۔ یہ سب ٹریفک رولز اور جرمانے کے خوف سے تھا ۔لندن کی حدود میں پہنچے تو ڈرائیور کے موبائل پر اک وارننگ ٹون بجی ۔ جس کا مطلب تھا آپ لو ایمشن زون ( LEZ) میں داخل ہو رہے ہیں ۔ جس کے لئے پیشگی فیس ادا کرنی ہے ۔ بصورت دیگر جرمانے کا پروانہ بعد میں گھر پہنچ جائے گا ۔ خیر ہم ہوٹل کی پارکنگ میں پہنچے جہاں قیام کرنا تھا ۔ میرا کزن گاڑی سے اتر کر نزدیکی کھمبے پر لگی ایک اے ٹی ایم ٹائپ مشین کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔ معلوم ہوا کہ ہوٹل پارکنگ کی بھی اپنی فیس ہے ۔ جو اس مشین کے ذریعے ادا کرنی تھی۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ اصولی طور پر ہوٹل کے کسٹمرز کو پارکنگ کی سہولت دینا ہوٹل ہی کی ذمہ داری ہے ۔ اس کی فیس لینا انتہائی غیرمنطقی اور ناقابل فہم ہے ۔ شام کو سنٹرل لندن جانے کا پروگرام بنا ۔ جہاں اہم اور مشہور سیاحتی مقامات ہیں ۔ جن میں پکاڈلی سرکٹ، ٹریفلگر سکئیر، بکنگھم پیلس وغیرہ شامل ہیں ۔ پلان تھا کہ گاڑی اس ایریا کے نزدیک پارک کر کے پیدل گھوما پھرا جائیگا۔ کم و بیش دو گھنٹے تک اس علاقے میں گاڑی گھماتے رہے ، مگر کہیں بھی پارک کرنے کی جگہ نہ ملی ۔ کبھی گاڑی موڑ کر اس سڑک پر اور کبھی اس سڑک پر لے جاتے ۔
اس زگ زیگ ڈرائیونگ کے دوران چھوٹی موٹی ٹریفک رولز کی خلاف ورزی بھی ہو گئی جس کا علم تب ہوا جب اسکے جرمانے کا پروانہ گھر کے ایڈریس پر موصول ہوا ۔ پارکنگ کے حصول کی ناکامی کے بعد ہم واپس ہوٹل چلے آئے ۔ دوسرے روز بھی پہلے والا عمل دہرایا ۔ شہر کے مرکزی علاقے کی جانب گئے ۔ یقین مانیں پھر پارکنگ کی عدم دستیابی کے وہی حالات پیش آئے ۔ تھک ہار کر پھر ہم واپس ہوٹل آ گئے ۔ الٹا جرمانوں کا تحفہ بھی ساتھ لے آئے ۔ ہمارے ملک میں ہزار ہا خامیاں ہوں گی ۔ مگر وہاں ایسے نہیں ہوتا ۔ بہت سارے معاملات میں موجیں ہیں ۔ رعایتیں ہیں ۔ جو بیرون ملک آپ کو کم ہی ملیں گی ۔ اس پر ڈیبیٹ ہو سکتی ہے ۔ مگر پھر کبھی سہی۔ گذشتہ ہفتے پارکنگ اور جرمانے کے حوالہ سے ہمارے ساتھ تین واقعات ہوئے ۔ گلاسگو میں عام شاہراہ کے ساتھ اک بہت معروف ہوٹل ہے ۔ اس کے پہلو میں دریائے کلائیڈ گزر رہا ہے ۔ ہم وہاں محض تصویر لینے کے لئے چند منٹ رکے ۔ گاڑی پارک بھی نہیں کی ۔ اسکا بھی دو روز بعد گھر میں فیس کی مد میں بھاری بھر کم جرمانے کا لیٹر پہنچ گیا ۔ میرے بیٹے اور اس کی فیملی کی مانچسٹر سے اسلام آباد کی فلائیٹ تھی ۔ ہم انہیں چھوڑے ائیرپورٹ چلے گئے ۔ غلطی سے ایک غیر متعلقہ پارکنگ میں داخل ہو گئے ۔ باہر نکلنے کا ایک ہی راستہ تھا ۔ جس کے آخر میں بیرئیر لگا ہوا تھا ۔ جس کو اوپر اٹھا کر باہر نکلنے کے لئے ساتھ لگی مشین میں پیسے ڈالنا ضروری تھا ۔ مرتے کیا نہ کرتے کے مترادف وہ کڑوا گھونٹ بھی پیا ۔ کیونکہ ہمیں فلائیٹ پکڑنی تھی اور ہم پہلے ہی کچھ لیٹ تھے ۔ اس کے بعد گاڑی لے کر ہم ڈراپ آف لین میں چلے گئے۔ جہاں انہیں اتار کر ہم نے واپس پارکنگ یا گھر چلے آنا تھا ۔ یہاں دس منٹ تک رکنے کی اجازت تھی ۔ جس کے دوران ہم مسافروں اور سامان کو گاڑی سے اتار سکتے ہیں ۔ دس منٹ کے اندر ہم نے سارا کام مکمل کیا اور گاڑی باہرایک ہوٹل کی پارکنگ میں تھوڑی دیر کے لئے پارک کر دی ۔ آپ سن کر حیران ہوں گے ہمیں دونوں مقامات کی فیس ادا کرنا پڑی ۔ جس طرح وطن عزیز میں آج کل لوگ بجلی اور گیس کے بلوں سے تنگ ہیں ، اسی طرح یو کے میں بہت سارے لوگوں کو میں نے ٹریفک رولز اور بھاری جرمانوں سے تنگ پایا ہے ۔ پارکنگ کے لئے ان پر صرف زمین ہی تنگ نہیں بلکہ سڑک پر ایسے مبہم ہدائتی نشانات لگے ہوئے ہیں جن کی خلاف ورزی سے بچ جانا بڑے نصیب کی بات ہے ۔پاکستان میں بہت ساری خوبیاں ہیں ۔ خواہ پارکنگ ہو ، پارکنگ فیس ہو ، جرمانے کا حجم اور بوجھ ہو ، گھروں کے سائز اور مسائل ہوں ، ان سب کا سامنا کرنے والوں ہی سے آبائی وطن کی قدر و منزلت کا پوچھیں ۔ معاشی حالات بے شک دگرگوں ہیں ، مگر انشااللہ ، سب ٹھیک ہو جائے گا ۔