Search
Close this search box.
منگل ,14 جولائی ,2026ء

دہشت گردی ،علاقائی سلامتی اور ہٹ دھرم افغان طالبان

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والی سرحد پار دہشت گردی تمام خطے کے لئے خطرہ بن چکی ہے۔ پاکستان اس دہشت گردی کا سب سے زیادہ متاثرہ فریق ہے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی کی افغانستان کی سرزمین پر موجودگی نے کئی سوالوں کو جنم دیا ہے۔ یہ وہی سوالات ہیں جن کو پاکستان نے سفارتی اور غیر سفارتی ذرائع سے متعدد بار افغان طالبان تک پہنچانے کے بعد دہشت گرد گروہوں کی سر کوبی کا مطالبہ کیا ۔ یہ ایک افسوس ناک اور تلخ حقیقت ہے کہ افغان عبوری حکومت نے پاکستان کے جائز مطالبات کو نظر اندازکرتے ہوئے دہشت گرد گروہوں کی سر پرستی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ افغان سر زمین پر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ تمام خطے کی سلامتی کے لئے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے تحت داعش اور القاعدہ کی سرگرمیوں کی مانیٹر نگ پہ مامور کمیٹی نے گزشتہ ہفتے ایک اہم رپورٹ سیکیورٹی کونسل میں پیش کی ہے۔ اس چشم کشا رپورٹ نے پاکستان کے ان تمام خدشات پر مہر تصدیق ثبت کی ہے جن کا تعلق افغانستان سے جنم لینے والی سر حد پار دہشت گردی سے ہے۔
اس رپورٹ کے مندرجات نے قومی اور بین الاقوامی میڈیا پہ نہایت زوردار ارتعاش پیدا کیا ہے۔ یہ حقیقت ایک مرتبہ پھر آشکار ہوئی ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو افغان طالبان کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کو کامیاب بنانے کے لئے افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کو معاونت فراہم کی جارہی ہے ۔ یہ معاونت دہشت گردی کی تربیت ، نیٹو عسکری معیار کے جنگی اسلحے بشمول نائٹ ویزن ڈیوائس اور محفوظ پناہ گاہوں کی صورت میں فراہم کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو ٹی ٹی پی پاکستان سے دم دبا کر بھاگ چکی تھی وہ اب جدید اسلحے سے لیس ہو کر وطن عزیز میں خون کی ہولی کھیلنے کے لئے دوبارہ متحرک ہوچکی ہے۔اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں پیش کی گئی رپورٹ نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ اس وقت ٹی ٹی پی افغانستان میں متحرک سب سے بڑا دہشت گرد گروہ ہے۔
افغانستان میں اس کے دہشت گردوں کی تعدادپانچ سے چھ ہزار کے لگ بھگ ہے۔ گو افغان طالبان نے دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کے الزامات کو ہمیشہ نہایت ڈھٹائی سے مسترد کیا ہے تاہم عالمی اداروں کی جانب سے پیش کئے جانے والے مستند حقائق نے کابل کے حکمرانوں کو عالمی کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ معاملہ پاکستان دشمن ٹی ٹی پی تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق القاعدہ برصغیر شاخ اور داعش خراسان شاخ بھی افغانستان میں متحرک ہیں۔
موخر الذکر گروہ تو روس اور وسطیٰ ایشیاء میں بھی اپنی جڑیں پھیلا رہا ہے۔ دوسری جانب ٹی ٹی پی پاکستان میں چینی اہداف پہ حملوں کے ذریعے اپنے شیطانی ایجنڈے کو وسعت دے رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ افغانستان سے سر اٹھانے والی دہشت گردی سے علاقائی سلامتی کو سنگین خطرات لا حق ہیں ۔ یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ افغانستان کے حوالے سے پاکستان کا موقف مبنی بر حقائق ہے۔ طالبان عبوری حکومت عالمی دہشت گرد گروہوں کی سر پرستی کر کے خطے سمیت افغانستان کی سلامتی کو بھی دائو پر لگا رہی ہے۔
حالیہ دہشت گرد حملوں میں پاکستان نے بھاری جانی نقصان برداشت کیا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ جب فرزندان وطن دہشت گردوں کے خلاف لڑتے ہوئے شہادت کا جام نوش نہ نوش کرتے ہوں ۔ افغان طالبان کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اب دہشت گردی کا معاملہ تمام حدیں پار کرتا جارہا ہے۔ پاکستان کی جانب سے دی گئیں متعدد تنبیہوں کو رد کرنے کی روش کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں ۔ قرائن سے پتا چل رہا ہے کہ افغان عبوری حکومت اب زیادہ عرصے تک عالمی برادری اور پڑوسی ممالک کی آنکھوں میں دھول جھونک کر دہشت کرد گروہوں کی سر پرستی جاری نہیں رکھ پائے گی۔

یہ بھی پڑھیں