Search
Close this search box.
منگل ,14 جولائی ,2026ء

ایجینٹ کے سر پر سینگ ہوتے ہیں؟

ملکی سیاست عوام کے لئے امید کے بجائے مایوسی کا پیغام بنتی جا رہی ہے ،ایسا کرنے میں انتشار کی سیاست کرنے والے عناصر سر فہرست ہیں ۔ یہ وہی ہیں جنہوں نے پہلا وار نوجوانوں کےاخلاق پر کیا دوسرا وار معیشت پر کیا،تیسرا وار ملک کے دفاعی ادارے پرکیا، اور اب سیاسی استحکام کے درپئے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ اور کیا ایجینٹ کے سر پر سینگ ہوتے ہیں؟ یہی وہ بے بصیرت مفاد پرست ہیں جن کی وجہ سے الیکشن کے پانچ ماہ بعد بھی قومی اسمبلی نامکمل ہے۔ سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں کے قضیئے پہ جو فیصلہ سنایا اس سے سیاسی تقسیم بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ الیکشن کمیشن نے گو فیصلے پہ عملدرآمد کا عندیہ تو دے دیا ہے تاہم سپریم کورٹ سے راہنمائی لینے کا اشارہ بھی دیا ہے۔ دوسری جانب حکمراں جماعت نون لیگ اور اس کی اتحادی پی پی پی کا موقف بھی قابل غور ہے کہ سپریم کورٹ کا دریائے منصفی ایسا جوش میں آیا کہ پی ٹی آئی کو وہ بخش دیا جو اس نے مانگا بھی نہیں تھا۔ نون لیگ کی جانب سے نظر ثانی کی اپیلیں دائر کی جا رہی ہیں ۔ ان اپیلوں کے ساتھ توقع کے مطابق اگر الیکشن کمیشن بھی ٹھوس قانونی بنیادوں پہ فیصلے پہ عملدرآمد میں حائل رکاوٹوں کی فریاد لے کر سپریم کورٹ کے در پہ پہنچ گیا تو بظاہر حل ہونے والا معاملہ مزید طول پکڑ سکتا ہے۔ نون لیگ اور تحریک انصاف کی مفادات کے گرد گھومتی رسہ کشی ملک میں سیاسی عدم استحکام کی بنیادی وجہ بنی ہوئی ہے۔ ہر ریاستی ادارہ اس سیاسی کشمکش کی زد میں ہے۔ ملک پہ حکمرانی کی ذمہ داری نبھانے والی یہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کا وجود برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ اس غیر جمہوری طرز سیاست کی وجہ سے ریاستی ادارے بھی سیاسی تنازعات میں فریق بنائے جارہے ہیں ۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے عدلیہ ، معزز جج صاحبان ، افواج پاکستان سمیت ہر اس ادارے اور اعلیٰ عہدیدار کے خلاف ہتک آمیز پرپیگنڈہ کیا جا تا ہے جس کا کوئی بھی اقدام ان دو سیاسی جماعتوں کی من مرضی کے مطابق نہیں ہوتا۔ اس کی ایک مثال مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ ہے۔ چونکہ فیصلہ بظاہر تحریک انصاف کے سیاسی بیانئے سے مطابقت رکھتا ہے لہٰذا پی ٹی آئی سپریم کورٹ کے ججوں کی شان میں قصیدے پڑھ رہی ہے۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بعض فیصلوں کو بنیاد بنا کر اسی عدلیہ کے خلاف پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پہ طوفان بدتمیزی بپا کیا ہوا تھا۔
نون لیگی حلقے اس وقت عدالتی فیصلے کو سیاسی جانبداری قرار دے رہے ہیں۔ یہ اعتراض بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ معزز جج صاحبان نے آئین کو دوبارہ لکھ ڈالا ہے۔ نون لیگ کی تلملاہٹ کا اندازہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی حالیہ گرم گفتاری سے لگایا جاسکتا ہے۔ تنقید میں استعمال کئے گئے سخت الفاظ ممکنہ طور پر توہین عدالت بھی قرار دیئے جا سکتے ہیں۔ ایڈہاک ججز کی تعیناتی کے معاملے پہ تحریک انصاف نے واویلا مچا کر سیاسی غیر سنجیدگی کا ثبوت دیا ہے۔ ہر معاملے کو جماعتی مفاد کی عینک سے پرکھنے کی روش نے تمام ریاستی اداروں کو تنازعوں کی دلدل میں دھکیل دیا ہے ۔ بدقسمتی سے نون لیگ اور انصافی لشکر کی ہٹ دھرمی اور بے لچک رویوں کی بدولت سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ سنگین سے سنگین تر ہوتا جارہا ہے۔ دہشت گردی کی نئی لہر نے کے پی اور بلوچستان صوبوں میں قومی سلامتی کے لئے ہشت پہلو خطرات پیدا کر دئیے ہیں۔ صورت حال کی سنگینی کا اداراک کئے بغیر مرکز اور صوبوں میں مسند اقتدار پہ براجمان جماعتیں مخصوص سیاسی مفادات کے حصول کے لئے سرگرداں ہیں۔ وزیر اطلاعات نے ملک دشمن سرگرمیوں کو بنیاد بنا کر تحریک انصاف پہ پابندی عائد کرنے کی تجویز کو میڈیا میں جس انداز سے پیش کیا اس سے سیاسی کشیدگی کی آگ مزید بھڑک اٹھی ہے۔ ایک جانب انصافی لشکر کے عادی بیان باز ہیں تو دوسری جانب معاملہ فہمی سے عاری حکمراں جماعت ہے۔ ان متحارب سیاسی جتھوں کے درمیان عوام کا کچومر نکل رہا ہے جو کہ پہلے ہی مہنگائی ، لاقانونیت ، معاشی بحران اور دہشت گردی جیسے سنگین مسائل کی چکی میں پس رہے ہیں۔ وزیر اطلاعات کے غیر ذمہ دارانہ بیان کی بازگشت ختم ہونے سے پہلے ایک ٹی وی پروگرام میں ویر دفاع اور پی ٹی آئی کے سینئر قانون دان حامد خان نے آئینی بحران کی پیش گوئی فرما کر سیاسی بے یقینی میں اپنا ا پنا حصہ ڈال دیا ۔ دونوں بزرگ سیاستدانوں نے ملک میں آئینی میلٹ ڈائون اور آئینی بریک ڈائون جیسی مبہم اصطلاحات استعمال کر کے جو گیان کے موتی بکھیرے ہیں اس سے کوئی امید کی کرن تو نہیں پھوٹی تاہم سیاسی افواہ سازی کا بازار ضرور گرم ہو گیا۔ آئین کا نوحہ پڑھنے سے بہتر تھا کہ دونوں بزرگ سیاستدان اپنی اپنی جماعتوں کے غیر جمہوری کر توتوں کا اعتراف کر کے مستقبل کے لئے کوئی بہتر لائحہ عمل پیش کرتے۔ جمہوریت سے عاری سیاسی جماعتوں کے اقتدار میں آنے سے آئین کی بالا دستی پہ کاری ضرب پڑتی ہے۔
گزشتہ بیس سالوں کے دوران نون لیگ ، پی پی پی اور پی ٹی آئی کا بے ثمر عہد اقتدار آئین اور جمہوریت کو بالا دست کرنے کے بجائے مزید کمزور کرنے کا باعث بنا ۔ دو جماعتیں سیاسی گھرانوں کی گرفت میں ہیں جبکہ ایک جماعت فرد واحد کے شخصی سحر میں مبتلا ہے۔ الیکشن ہوں تو یہ جماعتیں واضح اکثریت نہیں لے پاتیں ۔ اتحادی حکومت بنائیں تو ان سے ملک نہیں چلتا ، معیشت نہیں سنبھلتی ، اصلاحات نہیں ہو پاتیں ، بے روزگاری پہ قابو نہیں پایا جاتا ۔ یہ حزب اختلاف میں ہوں تو ان سے حکومت برداشت نہیں ہوتی ۔ یہ حکومت میں ہوں تو انہیں حزب اختلاف کا وجود کھٹکتا ہے۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ عدلیہ ، پولیس ، فوج ، خفیہ ادارے اور بیوروکریسی تمام قوانین کو بالائے طاق رکھ کر ایک فرمانبردار درباری کی طرح ہر ناجائز اور غیر آئینی حکم کی تعمیل کرتے رہیں۔ ان غیر جمہوری رویوں کے ساتھ آئین کی بالا دستی دیوانے کا خواب ہی لگتی ہے۔ نون لیگی ارسطو ، پی پی پی کے جیالے اور انصافی لشکر کے انقلابی ملک پر رحم فرماتے ہوئے پہلے اپنی صفوں میں اصلاح کا نیک عمل شروع کریں ۔ یہ کام ہو گیا تو ملک میں آئین کی بالادستی ہو ہی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں