صیہونی جنگ جو عربی اصطلاح میں نکبہ ،بڑی تباہی کے نام سے معروف ہے، اس کا پس منظر یہ ہے کہ پہلی جنگ عظیم میں خلافت عثمانیہ کے خاتمہ پر برطانیہ اور فرانس نے فلسطین اور بلادالشام اور عرب ملکوں پر قبضہ کرلیا اور پھر فلسطین ، اردن اور عراق پر برطانوی کنٹرول قائم ہوگیا گیا اور شام و لبنان فرانس کے ماتحت ہوگیا۔ 1948 ء میں برطانیہ نے بلفور ڈیکلریشن کے ذریعہ فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کے قیام کا اعلان کردیا۔ جس کے نتیجے میں فلسطین کی سر زمین پر اسرائیل کی ریاست کے قیام کے دوران اور اس کے بعد عربوں اور یہودیوں کے درمیان نہ ختم ہونے والی والی کشمکش اور معرکہ آرائی شروع ہو گئی ،جہاں فلسطینیوں کا غیر انسانی اور وحشیانہ قتل عام آج تک جاری ہے۔مغرب ممالک کو نہ اسرائیلی جرائم اور سنگین غلط کاریاں نظر آتی ہیں، نہ ہیومن رائٹس (حقوق انسانی)کی کھلی غیر انسانی کارروائیاں اور نہ ہی قانونی اور آئینی شدید خلاف وزریاں۔ جن میں لاکھوں کی تعداد میں اہل فلسطین کو بالجبر اپنے ملک سے مسلسل ہجرت پہ مجبور کرنا ، فلسطینی عوام کو غزہ اوررام اللہ تک محدود کردینا اور اب اس سے بھی جبراً بے دخل کے لیے بے دریغ اور بہیمانہ قتل عام نو ماہ سے مسلسل جاری ہے جس میں بچوں ، عورتوں اور بوڑھوں سمیت چالیس ہزار بے گناہوں کو بے دردی اور سنگدلی سے قتل کیا جارہا ہے۔
اہل فلسطین کے گھر مکان، سکولز، ہسپتال ،مساجد تک کو وحشیانہ بم مار کرکے مسمار کردیا جارہا ہے اور سامان خورد و نوش حتیٰ کہ پانی اور ادویات تک کو ان تک پہنچنے نہیں دیا جا رہاہے۔ان تمام ظالمانہ و بہیمانہ سلوک پر حقوق انسانی اور قانون کے مغرب دعویداروں زبانیں گنگ ہیں۔
اسرائیلی ظلم وبربریت نے تاریخ عالم کے تمام ریکارڈ نہ صرف توڑ دئیے ہیں بلکہ نو ماہ سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس پر کوئی قانون نافذ نہیں ہو رہا ہے۔اسے کسی قانونی شکنجے کے تحت پابند سلاسل نہیں بنایا جا رہا ہے، حد تو یہ ہے کہ مسلم ممالک بھی خوف و دہشت سے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ اس غیر انسانی اور وحشیانہ صیہونی جنگ نے مشرق وسطیٰ کی سیاست، معاشرت اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔موجودہ صیہونی تحریک کا آغاز انیسویں صدی کے آخر میں ہوا، جس کا مقصد یہودیوں کے لیے ایک قومی وطن کا قیام تھا۔ بالآخر، 1948ء میں اقوام متحدہ کی قرارداد 181 کے تحت فلسطین کو دو ریاستوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے بعد اسرائیل کی ریاست کا قیام عمل میں آیا۔ اس کے ساتھ ہی جنگ چھڑ گئی جس میں فلسطینی عربوں اور عرب ممالک نے اسرائیل کے جبری قیام کے خلاف جدوجہد شروع کردی،
صیہونی جنگ کے نتیجے میں اسرائیل کی ریاست قائم ہوئی، جو مشرق وسطیٰ کی سیاست میں غیر معمولی ، طاقتور اور خاتمانہ رول چاہتی ہے اور فلسطین کا مکمل خاتمہ اس کا خواب ہے۔جہاں پورے فلسطین کو تباہ و برباد کرکے اسرائیل عظمیٰ کا قیام اس کا آخری ہدف ہے، اسی لئے فلسطینیوں کا سفاکانہ قتل عام مسلسل جاری ہے۔صیہونی جنگ نے خطے کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا،صیہونی جنگ نے مشرق وسطیٰ کی تاریخ اور سیاست کے پورے نقشے کو بدل کر رکھ دیا ہے، اس کے اثرات و نتائج ہر چہار جانب محسوس کیے جارہے ہیں اور خطے میں امن وامان کی بحالی ایک مشکل ترین اور ناممکن صورت نظر آرہی ہے اور واضح طور پر جنگ عظیم کی طرف بڑھتی ہوئی نظر آرہی ہے، جو غالباً ملحم البر کی صورت میں ہوگی۔ صیہونوں کا ماننا ہے کہ تیسری بار انہیں پوری دنیا پر حکمرانی اور اقتدار حاصل ہوگا۔ اس کے لیے انہیں مسجد اقصیٰ کو منہدم کرنا ہوگا، جس کی وہ پوری تیاری کرچکے ہیں۔ اس کے بعد ہیکل سلیمانی تعمیر کرکے تابوت سکینہ وہاں رکھنا ہے۔ اس حوالے سے آخر مسئلہ سرخ گائے کا تھا، کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق وہ اس وقت تک ہیکل سلیمانی تعمیر نہیں کرسکتے،جب تک سرخ گا ئے کی قربانی نہ ہو ۔
ایک عرصہ سے وہ اس سرخ گائے کی تلاش میں تھے اب جاکر انہیں وہ سرخ گائیں مل گئیں ہیں ، جن کے جسم پر سرخ رنگ کے علاوہ اور کوئی بال نہیں ہے۔ الغرض وہ مسیح الدجال کے ظہور کی تمام تر تیاریاں کرچکے ہیں۔ اپنی مرضی کے ڈاکٹر، انجینئر بچے پیدا کرنا، نائن ڈی ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک جگہ ہوتے ہوئے کئی جگہ موجود رہنا، اپنی مرضی کے موسم بنانا، جب چاہو بارش برسا دینا، چند دنوں میں پوری دنیا گھوم لینا یہ سب دجالی نشانیاں ہیں جو آج کے دور میں کوئی مشکل کام نہیں رہا ہے۔
اسلام میں بتائی گئی آخر نشانیوں کی روشنی میں اسرائیل نے غرقد کے درخت لگا دئیے ہیں، جو انہیں پناہ دیں گے۔ اسی حوالے سے احادیث کے مطابق دجال کا حضرت عیسی علیہ السلام کے ہاتھوں قتل ہونے کا باب لد کے مقام کا ذکر ہے ۔ آج باب لد کے مقام پر اسرائیل نے ایئر پورٹ بنایا ہے۔تاکہ اگر اصل مسیح حضرت عیسیٰ بن مریم کا مسیح الدجال کو سامنا ہو تو وہ بآسانی بھاگ سکے۔احادیث کے مطابق آخری زمانے کی نشانیوں میں یہ ہے کہ مسلمان بہت کمزور ہوجائیں گے ، آج ہماری یہ حالت ہے کہ ہم فلسطینیوں کے لیے کھل کر دعا بھی نہیں کرسکتے۔
آج ہم دنیا کی آسائشیں، شان و شوکت اور دنیاوی ترغیبات کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں، یہود و نصاریٰ کو ہم اپنا مسیحا بنا ہوئے ہیں۔ جبکہ قرآن کا حکم ہے کہ ہم ان کو اپنا دوست نہ بنائیں۔ ہمیں عسقلان و خراسان کی احادیث میں مذور مجاہدین نہ تلاش ہے اور نہ دلچسپی۔ اگر آج دجال ظاہر ہوجائے تو ایسا لگتا ہے ہماری اکثریت اس کو مسیحا مان لے گی ۔ جس کا اشارہ بھی احادیث میں جا بجا موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں آخری زمانے کے فتنوں سے بچاکر حق کے راستے پر قائم رکھے اور ہماری مدد فرما۔