یہ معاملہ بہت تعجب خیز ہے کہ اسلامی جہاد کی نقاب پہن کر ہتھیار اٹھانے والی تنظیمیں اکثر ان اہداف پر حملہ آور ہو رہی ہیں جن کا مسلم دشمن قوتوں سے دور کا بھی تعلق نہیں ۔ اس کی ایک مثال مسقط کی امام بارگاہ علی بن ابی طالب میں ہونے والا وہ دہشت گرد حملہ ہے جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔ بظاہر یہ حملہ شیعہ سنی فرقہ وارانہ مخاصمت کو ہوا دینے کی ایک کوشش محسوس ہو رہا ہے۔ یہ امکان بھی ہے کہ داعش نے اس حملے کے ذریعے اپنی قوت کا لوہا منوانے کی کوشش کی ہے۔
تاہم یہ سوال اب بھی جواب طلب ہے کہ دہشت گرد حملوں میں مسلمانوں کو ہدف بنانے سے عالمی سطح پہ اسلام کو کیا تقویت حاصل ہوسکتی ہے۔ اسرائیل نے غزہ میں گذشتہ نو ماہ کے دوران مسلم دشمنی کی انتہا کر دی ہے۔ تاحال انتالیس ہزار کے لگ بھگ نہتے مسلم نوجوان ، ضعیف العمر بیمار شہری اور کمسن بچے شہادت پا چکے ہیں۔ زخمیوں کی تعداد نوے ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ مقام حیرت ہے کہ القاعدہ ، داعش اور ٹی ٹی پی جیسی نام نہاد جہادی تنظیموں نے اسرائیلی ریاستی دہشت گردی پر معنی خیز خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
مسلم ممالک میں نہتے اور بے گناہ شہریوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے ان تنظیموں کے کارندے غلطی سے بھی تل ابیب کی جانب ایک کنکر بھی نہیں اچھال پاتے۔ یہی جعلی جہادی مسلم ممالک میں مساجد ، uدرس گاہوں،خانقاہوں اور گلی کوچوں میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلتے دکھائی دیتے ہیں ۔ ان دہشت گرد تنظیموں کے گرفتار ہونے والے کارندوں نے دوران تفتیش یہ انکشافات بھی کئے ہیں کہ جذباتی نوجوانوں کے ناپختہ ذہنوں میں گمراہ کن مذہبی تعبیرات کے ذریعے جہاد کی آڑ میں دہشت گردی کے بیج بوئے جاتے ہیں ۔ تشدد کی کانٹے دار فصل کاشت کرنے کے لئے سوشل میڈیا پہ دستیاب جدید ذرائع ابلاغ کا بھر پور استعمال کیا جا رہا ہے۔ شدت پسندی اور انتہا پسندی کی جڑیں مضبوط کرنے کے لئے ریاست کے خلاف مذموم پروپیگنڈے کے ذریعے باغیانہ جذبات کی آبیاری کی جا رہی ہے۔
یہ امر ہمیشہ پیش نظر رہے کہ پاکستان کے جید علماv کرام نے پیغام پاکستان کی اہم دستاویز میں اسلامی ریاست پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے گروہوں کو عہد حاضر کے خوارج قرار دیا ہے۔ آئین پاکستان کی رو سے پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے۔ دہشت گردی کے بل بوتے پہ ریاست کو کمزور کرنے والے عناصر درحقیقت دشمن کے منصوبوں پر کار فرما ہیں۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ بیشتر دہشت گرد گروہ افغانستان میں دستیاب محفوظ پناہ گاہوں میں بھارتی سر مائے کے بل پہ پاکستان میں عدم استحکام پھیلانے کے لئے سی پیک سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں پہ حملہ آور ہو رہے ہیں۔ مسلم ریاست کی بنیادیں کمزور کرنے اور بے گناہ مسلمانوں کے خوں سے ہولی کھیلنے والے گروہ دہشت گرد ہیں۔ یہ شرعی مجرم در حقیقت جہاد کی آڑ میں فساد فی الارض کے داعی ہیں۔ فساد کا شیطانی چکر خوارج کے اس گروہ تک ہی محدود نہیں جو مذہب کا نقاب اوڑھ کر نوجوانوں کو دہشت گردی کی آگ میں ایندھن کی طرح استعمال کر رہا ہے ۔ فساد کی آگ پہ تیل ڈالنے والا دوسرا گروہ بظاہر مذہب بیزار لبرل اور سیکولر نظریات اوڑھنے والا قوم پرستوں کا گروہ ہے۔ نسلی تفاخر اور علاقائی تعصبات کے زہریلے ہتھیاروں سے لیس یہ فسادی ٹولہ صبح و شام سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو تشدد پہ اکساتا رہتا ہے۔ انسانی حقوق اور نسلی امتیاز کے علمبردار یہ عناصر موقع ملنے پر دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے محنت کش مزدوروں کے خون سے ہاتھ رنگنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اس گروہ نے لاپتہ افراد کے معاملے کو بنیاد بنا کر ریاست کے خلاف اندرون ملک اور بیرون ملک نفرت انگیز بیانئے گھڑ کر دشمن ممالک کے مقاصد کی تکمیل میں بنیادی کر دار ادا کیا ہے۔ ایک جانب یہ گروہ صوبائی حقوق کا مطالبہ کرتا ہے تو دوسری جانب ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے دہشت گردی کا ارتکاب کر تا ہے ۔
بلوچ نوجوانوں کو قلم کتاب اور ہنر سے محروم کر کے ہتھیار تھما نے والا یہ طبقہ بھی سو شل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے تفریق و عدم استحکام کی آگ بھڑکا رہا ہے۔ اس جعلساز طبقے کے جھوٹ کی قلعی متعدد بار اس وقت کھلی جب لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل فرد دہشت گرد حملوں کے دوران مارے جانے والے فسادیوں میں شناخت ہو گیا۔ ملک کو استحکام درکار ہے لیکن فسادی صرف تباہی کے متمنی ہیں۔ نوجوانوں کو روزگار درکار ہے لیکن فسادی انہیں ہتھیار تھما کر حرام موت کا راستہ دکھا رہے ہیں۔ دنیا میں نوجوان آئی ٹی کے شعبوں میں مہارت حاصل کرنے کے لئے کو شاں ہیں لیکن فسادی عناصر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوانوں کو شدت پسندی کی راہ پہ ڈالنے کے لئے برین واشنگ کر رہے ہیں ۔ بھارت ان فسادیوں کے ناں و نفقے کا ذمہ دار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نام نہاد مذہبی اور جعلی سیکولر فسادی بلوچستان میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ سر گرم عمل ہیں۔ ان کا بنیادی ہدف مقامی نوجوانوں کی تباہی اور صوبے کی بر بادی ہے ۔ بھارت کے ایجنڈے پہ کار بند فسادی گروہوں کا قلع قمع کئے بغیر پاکستان میں استحکام کی بحالی ممکن نہیں۔