حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا مشہور قول ہے ’’کفر کی حکومت تو چل سکتی ہے مگر ظلم کی نہیں‘‘ ظلم کسی ایک منفی فعل کا نام نہیں، بلکہ زیادتیوں اور ناانصافیوں کا مجموعہ ہے۔ جن میں ناانصافی سب سے مہلک اور خطرناک چیز ہے جس کے بطن سے دنیا کے زیادہ تر جرائم پیدا ہوتے ہیں۔ ان سے معاشرت، اخوت اور ملکی وحدت کی عمارت ڈھے جاتی ہے۔ ہرسو افراتفری اور انتشار کی آندھیاں چلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ سول جنگ کی پھونٹا پھڑکنا شروع کر دیتی ہیں۔ بروقت احساس اور سدباب نہ کیا جائے تو قومیں اور ملک قصہ پارینہ بن جاتے ہیں۔ ملکی حدود کے اندر بسنے والوں کو باہمی امن و احترام کے ساتھ رکھنے کے لئے ضوابط و قوانین کی ڈوری میں پرویا جاتا ہے۔ جو اس سے باہر نکلنے کی خلاف ورزی کرتا ہے، اس کو طے شدہ ملکی قانون کے مطابق سزا دی جاتی ہے جس کا فیصلہ آزاد عدلیہ کرتی ہے۔ جہاں عدل و انصاف کی فراہمی بلا روک بلا تحصیص اور تعصب ہوتی ہے، وہاں امن و استحکام کے پھول کھلتے ہیں۔ جن سے خوشحالی اور ترقی کی خوشبو آتی ہے۔ لوگ خوشی اور خوشحالی کی پینگیں لہراتے ہیں۔ ایسی خوشگوار فضا اور صورتحال کا نظارہ آپ آج بھی بہت سارے مہذب ممالک میں دیکھ سکتے ہیں۔ ان کی ترقی اور خوشحالی کی تاریخ کھنگا لیں تو شبانہ روز محنت کے شو اہد کے ساتھ اعلیٰ نظام عدل و انصاف کا کردار بھی دکھائی دیتا ہے۔
جنگ عظیم دوم میں سلطنت برطانیہ کو مختلف محاذوں پر شکست ہو رہی تھیں، اس دوران وزیراعظم ونسٹن چرچل کے کہے گئے ایک جملے نے بڑی شہرت پائی۔ جس کا آج بھی بطور قول زریں تحریر و تقریر میں حوالہ دیا جاتا ہے۔
اس کو جب ایک سرکاری اہلکار نے آکر بتایا کہ سلطنت برطانیہ شکست سے دوچار ہو رہی ہے۔ اس نے برجستہ استفسار کیا، کیا ہماری عدالتیں کام کر رہی ہیں اور انصاف دے رہی ہیں تو جواب ملا جی ہاں، جس پر بڑے اطمینان آمیز لہجے میں اس نے دعویٰ کیا کہ پھر ہمیں کوئی شکست نہیں دے سکتا۔
اس ایک جملے میں نظام عدل و انصاف کی اہمیت، حساسیت اور فعلیت کے گہرے سمندر کو سمو دیا ہے۔ دنیا عالم کے جتنے مہذب، ترقی یافتہ، خوشحال اور مضبوط ملک ہیں ان سب کی عدالتیں عدل و انصاف کے اعلیٰ معیار کی حامل ہیں۔ وہاں عام اور خاص کی تفریق کئے بغیر سب کو قانون کے سامنے برابر سمجھا جاتا ہے۔ عدالت کسی بھی وقت، وقت کے حکمران کو کسی معاملے میں سمن کرکے پوچھ گچھ کر سکتی ہیں۔ ناقابل تردید شواہد کی بنیاد پر قانون میں درج جزاوسزا کے احکامات جاری کر سکتی ہے۔ ان پر نہ کوئی پریشر ہوتا ہے نہ کوئی مالی و مادی طع ہوتا ہے۔ وہ صحیح معنوں میں آزاد عدلیہ ہوتی ہے۔ میری نظر میں آزاد عدلیہ صرف وہی نہیں جو بلاخوف و طمع فیصلے کرے بلکہ ہر طرح کے تعصب اور کمزوری سے بھی پاک ہو۔ ان کی ترقی اور تعیناتی فقط میرٹ پر ہوئی ہو۔ ان پر کسی کے احسان کا بوجھ نہ ہو۔ نہ ان پر ان کی فیملی اور فرینڈز فرمائش اور چوائس کا اثر ہو۔ تب جا کر وہ صحیح معنوں میں آزاد منش عدلیہ کہلانے کی مستحق ہوتی ہے۔ ایسی عدلیہ جب کوئی بھی فیصلہ کرتی ہے تو متعلقین کو اس میں سے کسی شک و شبہ کی بو نہیں آتی۔ ان کے فیصلوں پر تو تنقید اور تجزیے کرتے ہیں۔ مگر ان کے کردار، نیت اور جانبداری پر انگلی نہیں اٹھاتے۔
ایسے ججز بھی فیصلہ کرتے وقت کیس مدنظر رکھتے ہیں، فیس نہیں، وہ آئین و قانون کے دائرہ کار اور حدود کے اندر رہتے ہوئے فیصلے کرتے ہیں۔ ایسا کوئی حکم پاس نہیں کرتے، جس کی آئین میں، قانون میں گنجائش نہ ہو۔ وہ آئینی و قانونی حدود کی پابندی سے نہ صرف عدل و انصاف کے تقاضوں کو ان کی اصل روح کے مطابق پورا کرتے ہیں بلکہ عدلیہ کے وقار، اعتبار، عظمت اور شان کو بھی بلند کرتے ہیں۔ جس کے باعث ایک عام شہری کو بھی ان پر اتنا اعتماد ہوتا ہے کہ ملک کے حکمران کے خلاف شکایت لے کر ان کے پاس چلے جاتے ہیں اور انصاف لے کر واپس آتے ہیں۔ جن معاشروں میں عدل و انصاف کا یہ معیارہو، ججز کا بے داغ کردار ہو ان کے فیصلوں سے نہ کوئی ناراض ہوتا ہے نہ انکار کرتا ہے۔ اس کی من و عن تعمیل کی جاتی ہے۔ یوں ریاستی نظام کی عملداری مزید مئوثر اور مستحکم ہوتی ہے۔ جس کے بعد ملک میں آئینی و قانونی بحران کے ممکنات و خطرات ختم ہو جاتے ہیں۔ ایک ہم ہیں ہر روز ایک نئے آئینی و قانونی بحران کی زد میں ہوتے ہیں۔ اس کی وجوہات کی پرتیں کھول کر دیکھیں تو اس میں عدلیہ اور مقننہ کا مشترکہ ہاتھ نظر آئے گا۔
آخرالذکر کے مقاصد اور مفاد تو قابل فہم ہیں، جبکہ اوالذکر کو تو اس سے بالاتر ہونا چاہیے۔ انہوں نے انصاف دینا ہے۔ ان کے قلم نے لوگوں کی زندگیوں کے فیصلے کرنے ہیں۔ ان پر پوری قوم کا اعتماد ہوتا ہونا ضروری ہے۔
اب ذرا وطن عزیز کے نظام عدل پر اک نظر ڈالیں۔ کیا ہم عدل و انصاف کے پیمانوں کے مطابق انصاف بانٹ رہے ہیں۔ آئین و قانون کی طے شدہ حدود کے اندر رہ کر ہی فیصلے دے رہے ہیں۔ ہمارے فیصلوں سے ہماری سیاسی رغبت اور جانبداری کے دھبے دکھائی دیتے ہیں یا نہیں۔ کیا ہماری عدلیہ آئینی حدود سے تجاوز کرتی ہے یا نہیں؟
کیا وہ کسی بھی طرح کے دبائو میں نہیں آتی؟ چونکہ ان کا جواب ہاں میں نہیں ہے، اس لئے عالمی عدل و انصاف کی درجہ بندی میں ان کا 139نمبر ہے۔ اس لئے بحیثیت مجموعی قوم ان پر اظہار اعتماد و اطمینان نہیں کرتے۔ اس پہ مستزاد ان کے متنازعہ فیصلے ان کی ساکھ اور ملکی حالات کو مزید خراب کر دیتے ہیں۔ ملک آئے روز سیاسی اور معاشی عدم استحکام کی سولی پر لٹک جاتا ہے۔
میری دانست میں ملک کو مسائل کے جنجھال سے نکالنا ہے اس کو بہتری اور ترقی کی شاہراہ پر ڈالنا ہے، تو سب سے پہلے نظام عدل کو مکمل اور فعال کرنا پڑے گا۔