تیسری جنگ عظیم کا خطرہ عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ روس و یوکرائن اور اسرائیل و فلسطین اور خاص کر غزہ سنگین صورت حال ملحم البر یا آرماگاڈان یعنی عظیم عالم جنگ کی آواز ہمارے دروازوں پر دستک دے رہی ہے۔ ایسے حالات میں برصغیر اور اس سے ملحق پڑوسی ممالک، جیسے بھارت، پاکستان، ایران، افغانستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، اور نیپال کے لئے باہمی مفاد کے تحت اختلافات کو بھلا کر فوری تعاون اور دوستی کے اقدامات کی ہنگامی ضرورت ان کے قومی اور علاقائی مشترکہ مفاد اور استحکام میں ہے۔ تیسری جنگ عظیم تاریخ انسانی کی خطرناک اور خوفناک ترین جنگ ہو گی۔ اس کا خطرہ دنیا کے مختلف حصوں میں موجود تنازعات اور کشیدگیوں کی وجہ سے بڑھتا جا رہا ہے۔
ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی، علاقائی تنازعات اور بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور کسی وقت جنگ عظیم کا دائرہ سب کو لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ برصغیر کے ممالک کے باہمی مفاد کے لئے فوری تعاون اور دوستی کے اقدامات انڈیا ، پاکستان، ایران، افغانستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال کے درمیان سفارتی و دفاعی مشترکہ پالیسی کی ضرورت سب کے حق اور مفاد میں ہے خطے کے ممالک باہمی تعاون اور تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لئے سارک جیسی علاقائی تعاون کی تنظیموں کے ذریعے مشترکہ اجلاس بلا کر باہمی اتفاق سے متفقہ مفاہمتی دفاعی و سفارتی اور تجارتی پالیسی کے ذریعہ اپنے ملکوں کو بڑی عالمی جنگی تباہی سے بچا سکتے ہیں۔ جو سب کے عظیم تر مفاد میں ہے۔ خاص کر انڈیا اور پاکستان جو نیوکلیئر پاورز ہیں اور دونوں کے بارڈرز جڑے ہوئے ہیں۔ دونوں کے مشترکہ عظیم تر مفاد میں ہے کہ وہ بلا تاخیر بہم معاہدہ امن اور جوہر جنگ نہ کرنے پر اتفاق کا اعلان عام کرکے مستقبل کی ہر جنگ سے غیرجانبدار اعلامیہ بلا تاخیر جاری کرکے دونوں ممالک اور خطہ کے تمام ممالک کو بڑی اور خوفناک تباہی سے بچا لیں۔
خدانخواستہ اگر انڈیا اور پاکستان کے درمیان جوہری ایٹمی جنگ ہو جاتی ہے تو دونوں ممالک اپنے پائوں پر کلہاڑ چلا کر تباہ ہو جائیں گے۔ جو کسی طرح کسی کے حق میں نہیں ہوگا۔ اس کی پیش بندی کرنے کے لئے فوری مثبت سوچ اور باہمی اعتماد کی فضاء پیدا کرنے کی اجتماعی سوچ اور اپروچ کی ضرورت ہے۔
اعلیٰ سطحی سفارتی مذاکرات کا فوری انعقاد کر کے مشترکہ مسائل کا حل نکال کر باہم تحریر معاہدہ کرکے خطے میں امن و امان کی گارنٹی سے عوام کے خوف کو خوشی میں بدل دیں۔خطے میں امن و امان کی فضاء کو قائم رکھنے کے لئے باقاعدگی سے سفارتی وفود کو ایک دوسرے کے ممالک میں بھیجیں تاکہ براہ راست بات چیت سے باہمی تفاہم اور تعاون کی فضاء قائم رہے ۔
مشترکہ باہم سلامتی کے منصوبے تشکیل دیں تاکہ علاقائی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے اور دہشت گردی کے خاتمے اور مشترکہ انسداد دہشت گردی کے اقدامات کرکے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو سکے۔عوامی سطح پر ثقافتی اور تعلیمی اور ثقافتی پروگرامز اور تبادلوں کا انعقاد کریں تاکہ عوامی سطح پر سمجھ بوجھ اور احترام کو اعتماد بڑھ سکے۔ سرمایہ کاری اور تجارت اور مختلف شعبوں میں باہمی سرمایہ کاری کو فروغ دے کر اقتصادی ترقی کو بڑھایا جائے۔
سارک اور ایسی علاقائی تنظیموں کے ذریعے مشترکہ منصوبوں اور پروگرامز میں شرکت کریں اور مشترکہ مفاد اور باہم تعاون کی پالسیاں بنائیں۔ ہر ملک کی حکومت کو اس مشترکہ مفاد کو مشن بنا کر پہل کرنی چاہیے۔ خاص کر انڈیا، پاکستان اور ایران پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ جو ملک بھی پہل کرے گا وہ قابل تعریف ہوگا۔ انڈیا اور پاکستان پر اس بارے میں پہل کرنے کی زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
وزارت خارجہ کے ذریعے سفارتی تعلقات اور مختلف سیکٹرز مین مذاکرات کا آغاز کیا جائے اور سنگین خطرے کے احساس کو ادراک کرکے فوری اقدامات کئے جائیں۔ مذاکرات کے ذریعے سے سرحدی تنازعات کے حل کے لئے فوری اقدامات شروع کریں اور دونوں طرف کی سیکیورٹی فورسز کے درمیان تعاون بڑھائیں اور مشترکہ انسداد دہشت گردی کے اقدامات کریں تاکہ علاقائی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ سمجھنا اور اس کا احساس و یقین کرنا کہ دہشت گردی کسی کے حق میں نہیں۔ ان اقدامات سے برصغیر کے ممالک نہ صرف اپنے تعلقات میں بہتری لا سکتے ہیں بلکہ اپنے اقتصادی اور سیاسی استحکام کو بھی یقینی بنا سکتے ہیں۔ اس طرح، تیسری جنگ عظیم کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط اور متحد علاقائی پالیسی بنا کر خطے کے ممالک کو متحد کرکے خطے کو امن و سلامتی اور خوشحالی کا خطہ بنادیں۔
اس میں خطے کے ہر ملک اور عوام کا عظیم تر مفاد اور سلامتی و بہتری ہے۔ انتظار اور تاخیر کا وقت نہیں ہے۔یہ کسی طرح نہ ہونے دیں کہ تاخیر سے بہت دیر ہو جائے اور سر سے پانی بہہ جائے۔ اور پھر ہماری بچت کو بر وقت سیفٹی کا موقع ہاتھ سے نکل جائے لہٰذا دست بدستہ خاص کر انڈیا پاکستان کے رہنمائوں اور خطے باقی تمام ممالک سے مخلصانہ پرزور اپیل ہے کہ فوری اقدامات کر کے خطے اور لوگوں کو بڑی تباہی اور بربادی سے بچا لیں اور باہم متحد ہو کر نہ صرف خطے کے امن و امان کی صورت حال میں استحکام قائم کردیں بلکہ باہم تعاون اور اتفاق و تفاہم خطے اقتصادی اور مالی خوشحالی میں ایک عظیم مثبت انقلاب لے آئیں۔ خطے کے تمام ممالک قدرت کے عطا کردہ بڑے قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں مگر اس کا حقیقی ادراک نہ کرکے خطے کے ممالک معاشی اور اقتصاد ی بدحالی کا شکار ہیں۔ امید ہے ہماری اس تحریر کو سب مثبت انداز میں لے کر فوری اقدامات کا آغاز کریں گے۔ جس میں سب کا باہمی مشترکہ مفاد اور بہتری و کامیابی ہے۔