Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

مفتی تقی عثمانی اسلامی دنیا کی بااثر ترین مذہبی شخصیت

شیخ السلام محمد تقی عثمانی معروف عالم دین اور مذہبی سکالر ہیں۔ان کے چاہنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے جو پاکستان ہی نہیں،دنیا بھر میں موجود ہیں۔مفتی تقی عثمانی بے شمار دینی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔دین سے متعلق مختلف موضوعات پر ان کی کئی ضخیم کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔جن سے لوگ اکتساب فیض حاصل کرتے ہیں۔مفتی صاحب نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کے لیے وقف کر رکھی ہے۔صحیح معنوں میں دین کے سچے داعی ہیں۔بہت ہی دھیمے لہجے کے عالم دین ہیں۔ انہیں سن کر دلوں کو طمانیت ملتی ہے۔سکون کا گہرا احساس ہوتا ہے۔مفتی صاحب کی تاریخ پیدائش 5 اکتوبر 1943ء ہے۔بلاشبہ ان کا شمار اسلام کی مشہور علمی شخصیات میں ہوتا ہے۔انہیں شرعی عدالت کے جج ہونے کا بھی شرف حاصل رہا ہے۔سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ کے جج بھی رہے۔وفاق المدارس العربیہ کے موجودہ صدر ہیں۔اس کے علاوہ دنیا کے آٹھ اسلامی بینکوں کے لیے بحیثیت شرعی ایڈوائزر بھی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ البلاغ جریدے کے مدیر اعلیٰ ہیں۔ ان کی پوری زندگی کراچی میں گزری۔جامعہ کراچی،جامعہ پنجاب اور دارالعلوم کراچی ایسے ادارے ہیں جہاں سے انہوں نے علمی فیض حاصل کیا۔ وہ اردو کے علاوہ انگریزی،عربی اور فارسی پر بھی گہرا عبور رکھتے ہیں۔فقہ، معاشیات،تصوف اور حدیث ان کی دلچسپی کے خاص مضامین رہے ہیں۔مفتی محمد تقی عثمانی کو پوری دنیا میں مانا جاتا ہے۔ احادیث پر ان کے خیالات اور خطبات بڑے غور سے سنے جاتے ہیں۔بحیثیت مصنف بھی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔اسلامی فقہ پر انہیں جو دسترس حاصل ہے وہ کم ہی لوگوں کے حصے میں آئی ہے۔مفتی صاحب شعبہ تدریس سے بھی وابستہ ہیں۔دارالعلوم کراچی میں صحیح بخاری، فقہ اور اسلامی اصول معیشت کے مضامین پڑھاتے ہیں۔اس کے علاوہ غیر ملکی جامعات بھی ان کے لیکچرز کا وقتاً فوقتاً اہتمام کرتی رہتی ہیں۔دنیا آپ کو ایک محدث کی حیثیت سے بھی جانتی ہے۔آپ کو شیخ السلام کا خطاب بھی ملا ہوا ہے۔ انہیں یہ خطاب دینے والے ان کے اپنے ایک استاد مفتی سبحان محمود ہیں۔
جنرل ضیا الحق جب برسر اقتدار آئے تو انہوں نے 1973 ء کے دستور کی اسلام سازی کے لیے ایک مشاورتی اسلامی نظریاتی کونسل قائم کی۔مفتی تقی عثمانی اس کونسل کے بانی ارکان میں سے تھے۔آپ نے قرآن مجید میں بیان کردہ حدود اور جرائم کی سزائوں پر عملدرآمد کے لیے حدود آرڈیننس کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔آپ نے بینکاری میں سودی نظام کے خاتمے کے لیے بھی کئی سفارشات پیش کیں۔مفتی تقی عثمانی کا نام پہلی مرتبہ اس وقت سامنے آیا جب آپ نے مولانا محمد یوسف بنوری کی ہدایت پر 1974 ء کی ختم نبوت تحریک میں اپنا تاریخی کردار ادا کیا۔قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی اس تحریک میں آپ نے مولانا سمیع الحق کے ساتھ مل کر ایک دستاویز تیار کی جو بعد ازاں پارلیمان میں پیش کی گئی۔مفتی تقی عثمانی کی زیر نگرانی گزشتہ 18 برس سے تمام احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک انسائیکلوپیڈیا بھی مرتب کیا جا رہا ہے جس کی اب تک 6 جلدیں شائع ہو چکی ہیں۔بقیہ پر کام تیزی سے جاری ہے۔تقی عثمانی ایسی مذہبی،علمی شخصیت ہیں کہ جنہیں عمان کے عالمی اسلامی تحقیقی ادارے المجمع الملکی العجوت الاسلامیہ نے اسلامی دنیا کی بااثر ترین شخصیت قرار دیا۔گزشتہ سے پیوستہ ہفتے مفتی صاحب نے فیڈریشن ہائوس کراچی میں کاروباری برادری سے خطاب کیا۔ان کا خطاب عقل و فہم والوں کے لیے تھا،فرمایا معاشرے کے سب افراد اکٹھے ہوں اور نجات کی کوئی راہ نکالیں۔ یہ الفاظ بڑے معنی خیز اور گہرے تھے۔مفتی صاحب کا کہنا تھا جب تک معاشرے کے تمام طبقات ملکی فلاح و بہبود کے لیے اکٹھے نہیں ہوتے،کسی طرح بھی ہم اس دورِ غلامی سے باہر نہیں نکل سکتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آزادی کی کوئی تحریک اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی جب تک ہمارا سیاسی نظام معاشی طور پر مغرب کا غلام رہتا ہے ۔ موجودہ حالات میں اسلامی نظام لانا مشکل ہی نہیں،انتہائی دشوار بھی ہے۔کیونکہ عوام معاشی طور پر جکڑے ہوئے ہیں اور کسی ایسی سیاسی قیادت کے منتظر ہیں جو ان کے دکھوں کا مداوا کر سکے۔الیکشن پر الیکشن ہوتا ہے۔دھاندلی کا نعرہ لگتا ہے پھر نئے الیکشن کی بات کی جاتی ہے لیکن عملاً کچھ نہیں ہوتا۔اگر عوام کھڑے ہو جائیں تو حکومت گھٹنے ٹیک دے گی۔ یاد رکھیں کہ انقلاب حکومتیں نہیں،عوام لاتے ہیں۔مزید کہا معاشی ترقی کے لیے سود کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ہر شخص مایوس ہے۔سوال یہ ہے کہ غلطی کہاں ہوئی؟ جڑ کہاں ہے؟ ملک میں طرح طرح کے سیاسی اور معاشی بحران پیدا ہو چکے ہیں۔ہمیں ہر قیمت پر مغرب کی غلامی سے نکلنا ہو گا۔ پاکستان کے عوام کو جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔اللہ تبارک تعالیٰ نے پاکستان کو ہر نعمت سے نوازا ہوا ہے۔پاکستان کی سرزمین خزانوں سے بھری پڑی ہے۔ ریکوڈک میں تانبے کے ذخائر 12ملین ٹن ،جبکہ سونے کے ذخائر 125 ارب ڈالر سے زیادہ کے ہیں۔11 مئی 2001 ء کو امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے بلوچستان میں سونے کے ذخائر کے حوالے سے ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کی۔ان قیمتی دھاتوں کی بدولت پاکستان آئی ایم ایف سمیت دنیا کے دیگر مالیاتی اداروں سے جان چھڑا سکتا ہے۔۔ مولانا مفتی تقی عثمانی نے تاجر برادری کے اجتماع سے کہا یہ جو معدنی وسائل پاکستان میں موجود ہیں۔ اللہ نے ہمارے لیئے ہی دئیے ہیں۔ قرآن میں زمین اور پہاڑوں میں ان تمام معدنیات کا ذکر ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ انسان بس اس معدنی دولت کو کھوجنے اور استعمال میں لانے کے طریقے دریافت کرے۔مفتی صاحب کا کہنا تھا کہ جب بلوچستان میں گیس کی دریافت ہوئی تو کہا گیا کہ دریافت شدہ گیس دو سو سال تک ملکی ضروریات کے لئے کافی ہے۔مگر ہم دیکھ رہے ہیں ان اندازوں میں آبادی میں اضافے سمیت بعض دیگر پہلوئوں کو پوری طرح مدنظر نہیں رکھا گیا۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ اور پنجاب میں دریافت شدہ معدنی ذخائر پر کام کو تیز کیا جائے۔ غیر ملکی طاقتوں کے مفادات کی بجائے تمام فیصلے ملکی مفادات کو سامنے رکھ کر کئے جائیں تو ہم ایک خودمختار اور خوشحال قوم بن سکتے ہیں۔ ہمارے ملک میں کسی چیز کی کمی نہیں۔اگر کمی ہے تو وہ حوصلے، جذبے اور دیانت داری کی ہے۔ہم مستحکم قوم بننا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دنیا میں ہمارا نام ہو تو نسلی تعصب سے باہر نکل کر ہمیں ایک متحد قوم بننا ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں