پیرس 2024ء کے سمر اولمپکس کا بے صبری سے انتظار کیا جا رہا تھا، نہ صرف ان کی اتھلیٹک شو کی وجہ سے بلکہ ان کی ثقافتی اور تاریخی اہمیت کی وجہ سے بھی۔ پیرس، جو ’’روشنیوں کا شہر‘‘کہلاتا ہے، نے ایک ناقابل فراموش اولمپک تجربہ فراہم کرنے کی توقع تھی جس میں اس کے بھرپور ورثے، فنکارانہ عظمت اور عالمی اثر و رسوخ کو اجاگر کئے جانے کی توقع تھی‘ تاہم اس ایونٹ کی عظمت کو ایسے تنازعات نے داغدار کر دیا ہے جنہوں نے گہرے خدشات اور مباحثوں کو جنم دیا ہے۔
پیرس اولمپکس کی افتتاحی تقریب ایک تخلیقی اور جدید شو کی چمک کی بجائے ایک کھلی غیر اخلاقی اور شرمناک تقریب بن گئی جو اتحاد اور امن کی روح کو اجاگر کرنے کی بجائے نفاق‘ بے حیائی اور مذہب دشمن اور توہین سیدنا عیسی ابن مریم علیہما السلام کا باعث بنی جس میں دجالی صہیونی قوتوں کا ایجنڈا شامل تھا۔ جشن کے دوران پرفارمنس اور فنکارانہ اظہار کے ذریعہ ہم جنس پرستی اور لوطی حرکات و اہمیت اور ان کی کھلے عام بھر پور پروموشن کی گئی اور مذہب و دین کی بے حرمتی اور خصوصاً حضرت عیسی علیہ السلام اور دیگر مقدس شخصیات کے حوالے سے شرمنا ک حرکات اور لمحات ادا کئے اور توہین کی آخری حدیںکراس کر گئے اور یہ سب دانستہ کیا گیا۔ کیونکہ صیہوں قوتوں کو معلوم ہے کہ ان کے جھوٹے مسیح الدجال کو سیدنا عیسی ابن مریم علیہما السلام نازل ہو کر ختم کردیں گے۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول مبارک پر دمشق کی مسجد امیہ میں حضرت مہدی علیہ السلام ان کا استقبال کریں گے۔ جبکہ دجال ستر ہزار فوج لے کر حضرت امام مہدی پر حملہ کرنے آئے گا۔ جوں ہی دجال حضرت عیسیٰ کو دیکھے گا تو وہ خوف زدہ ہو کر بھاگ پڑے گا۔ حضرت عیسیٰؑ اس کو اور اس کی فوج کو نیست و نابود کر دیں گے اور صیہونیت کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کردیں گے اور پھر سیدنا عیسیٰؑ اور سیدنا امام مہدی علیہما السلام خلافت ا لہیہ تمام کرہ زمین پر قائم فرمائیں گئے جو خوشیوں اور خوشحالی ، عدل ، ا نصاف ،محبت اور مساوات کی ایک عالم گیر اور مثالی آخری خلافت پوری پر دنیا قائم ہوگی۔ جس کی رحمتوں اور برکتوں سے سب ہی محظوظ ہوں گے اور ایک ہی دین یعنی اسلام ہوگا۔
اللہ کا فرمان، ان دین عند اللہ الاسلام ، جو حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت محمدﷺ تک ایک ہی دین تھا،صرف شریعتین مختلف انبیاء و بعض احکام کی ترامیم یا اضافتہ سے دی گئیں۔ سب انبیا علیہم السلام کا بنیادی مشن اللہ پر توحید کامل تھا۔ آخری مبارک اور مثالی دور حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور مبارک سے شروع ہوکر حضرت عیسی ابن مریم علیہما السلام کے نزول مبارک پر مکمل ہوگا جو تاریخ انسان کا عظیم مثالی دور برکتوں اور خوشیوں کا دورہوگا۔
اللہ ہمیں اس عظیم و سعید دور کی جھکیاں نصیب فرمائے۔ دجالی صیہونی اور شیطانی قوتیں سرگرم ہیں اور دنیا کے وسائل پر قابض دنیا پرستی و دولت پرستی ،نمود و نمائش ، بے حیائی اور شہوانی لذات ترغیبات کے ذریعے ہر خاص و عام اور حکمرانوں تک کو متاثرکرنے کے لئے مالی مفادات کا جال بچھا کر انہیں ٹریپ کرکے حکمران پر اپنا اثر اور عقبی غلبہ کرلیتے ہیں۔پیرس اولمپک کے موقع پر جو کچھ ہوا وہ نہایت ہی تشویشناک اور شرمناک واقعہ ہے۔ جو مقدس شخصیات کی کھلی توہین اور بہت پریشان کن تھا۔ یہ ایک جان بوجھ کر اشتعال انگیزی کی گئی تھی جس نے لاکھوں لوگوں کی مقدس اقدار اور عقائد کو چیلنج کیا۔ جس پر رد عمل فوری تھا،۔
مذہبی رہنمائوں اور بہت سے زعماء نے اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا اور تمام مذاہب کے لئے زیادہ حساسیت اور احترام کا مطالبہ کیا۔غیراخلاقی سرگرمیوں کی تشہیر، ایک بڑھتی ہوئی تشویش مذہبی تنازعات کے ساتھ ساتھ، اولمپکس پلیٹ فارم کو مختلف سماجی طبقات کے ذریعے غیر اخلاقی سمجھی جانے والی سرگرمیوں کی تشہیر کے الزامات کا سامنا بھی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے تشہیری مواد اور اسپانسرشپ ڈیلز ایسے رویوں اور طرز زندگیوں کی تائید کرتی ہیں جو روایتی اخلاقی اقدار کے منافی ہیں۔ اس میں منشیات کے استعمال، جنسی مواد کی زیادتی اور مادہ پرستی کی تشویشات شامل ہیں۔ایسی تشہیر، اولمپکس کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ جو صحت مند مقابلہ، باہمی احترام اور اعلیٰ معیار کی تلاش کو فروغ دینے پر مبنی ہیں۔
تجارتی مفادات اور سنسنی خیزی کی طرف مائل ہونے کا تاثر اولمپکس کے حقیقی مقصد اور ان پیغامات پر سوالات اٹھاتا ہے جو وہ عالمی ناظرین، خصوصاً نوجوانوں کو متاثر کرنے کی مذموم کوشش ہے۔ ہماری اولمپکس منتظمین سے گزارش ہے کہ وہ اس موقع کو غیر اخلاقی اور کسی بھی دین کے خلاف پلیٹ فارم نہ بننے دیں۔ پیرس اولمپکس کے افتتاح پر شرمناک توہین حضرت عیسی علیہ السلام پر انتظامیہ معافی مانگے اور آئندہ کے لئے اس کے تدارک کا اہتمام کریں۔ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی اور ایونٹ کے منتظمین کو اٹھائے گئے خدشات کا فوری ازالہ کریں اور ایک ایسا ماحول بنانے کی کوشش کریں جو اتحاد اور احترام کی روح کو برقرار رکھے۔ اس میں نہ صرف کھیلوں کے مواد اور پیغام رسانی کا جائزہ شامل ہے بلکہ مختلف طبقات اور مذاہب ا احترام شامل ہونا ضروری ہے،کھیل کو کھیل تک رہنے دیں۔
پیرس اولمپکس اس امرکو اتحاداور اخلاقی معیار کے عزم کے ساتھ حل کرے۔ یہ کھیل اپنے کردار کو انسانیت کے اعلیٰ اصولوں کی عالمی تقریب کے طور پر پیش کرنے کا اہتمام کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ تمغوں اور ریکارڈز سے آگے، اولمپکس باہمی احترام اور بہتر پر امن دنیا کے اتحاد اور احترام کے لئے مستعد اور اس کے لئے پابند بنے۔