Search
Close this search box.
پیر ,13 جولائی ,2026ء

لاپتہ افراد۔۔۔ ریاست کا دست شفقت

یہ حقیقت شک سے بالا ہے کہ پاکستان کے دشمن ہر سمت سے ریاست کی سالمیت پر وار کر رہے ہیں سادہ لوح عوام کو ریاست کے خلاف بہکانے کے لیے جھوٹے بیانیے گڑھے جا رہے ہیں ۔ جھوٹ گھڑنے کے سوشل میڈیاءی کارخانے سرحد پار بھی ہیں اور ملک کے اندر بھی ہیں ۔ یہ کارخانے بھارتی سوچ اور سرمائے کے بل پہ پاکستان کی سالمیت پر وار کیے جا رہے ہیں ۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے نفرت کی دیمک پھیلا کر ریاست کی بنیادیں کھوکھلی کرنے والے عناصر کل تک مختلف نقاب اوڑھے گھومتے تھے۔ رفتہ رفتہ ان عناصر کے مکروہ چہرے بے نقاب ہوتے جا رہے ہیں ۔ ایک جانب لسانی تعصب کے زہریلے بیانیے کے پرچارک کار فرما ہیں ۔ دوسری جانب جہاد کے نام پہ فساد پھیلانے والے خوارج کا گروہ وطن عزیز میں فتنے پھیلا رہا ہے ۔ ان فتنوں کے خلاف پاک فوج ہر محاذ پر سینہ سپر ہے ۔فوج کے عزم صمیم کی بدولت پولیس’ سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی خوارج اور لسانی شر پسندوں کے خلاف برسرِ پیکار ہیں ۔ دہشت گرد یہ سمجھتے ہیں کہ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی میں ریاست کے وجود کو ختم کرنا ممکن نہیں یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ڈیجیٹل دہشت گردی کا محاذ بھی کھول دیا گیا ہے- بھارتی سرمائے پہ چلنے والے ڈیجیٹل دہشت گردوں کے پلیٹ فارمز ایک عرصے سے یہ جھوٹا پروپیگنڈا کرتے چلے آئے ہیں کہ ریاست بلوچستان میں تشدد استحصال اور جبری گمشدگی جیسے مظالم ڈھا رہی ہے۔ لاپتا افراد کے مسئلے کو ریاست دشمن بیانیے میں تبدیل کرنے کے لیے بھارتی ایجنسی را نے نام نہاد قوم پرستوں کی ہر سطح پر معاونت کی ۔بھارت اس جعلی بیانیے سے دہرا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا آ یا ہے- اول، پاکستان میں ریاست مخالف جذبات مشتعل کرنے کے لیے لسانی تعصب کے ساتھ لاپتا افراد جیسے حساس معاملے کو جوڑ دیا جائے تو نفرت کی آگ بہت تیزی سے پھیل سکتی ہے ۔ دوم بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے ہاتھ میں لاپتا افراد کا جھنڈا تھما کر بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی اور سیاہ ریاستی جرائم سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔اس جھوٹے بیانیے کو تقویت دینے کے لیے را سے منسلک بھارتی میڈیا نے روایتی گھناونا کردار ادا کیا ہے اور نہایت مکاری کے ساتھ یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ ہر گمشدہ فرد ریاستی جبر کاشکار ہو چکا ہے ۔ وہ نام نہاد قوم پرست اس پروپگنڈے کو پھیلانے میں پیش پیش رہے ہیں جن کا نان و نفقہ بھارتی بدنام زمانہ ایجنسی را کے ذمے ہے ۔ صد شکر کے اس زہریلے بیانیہ کے بد اثرات کا ادراک کر کے ریاست نے عملی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس موضوع پہ وفاقی وزیر قانون کی حالیہ پریس کانفرنس لائق تحسین ہے ۔ لاپتا افراد کے لواحقین کی مالی معاونت کا فیصلہ ریاست کے فہم ‘ تحمل اور تدبر کا مظہر ہے۔ جہاں حکومت کی غلط پالیسیوں پر تنقید بجا ہے وہاں اس کے احسن اقدامات کی تعریف نہ کرنا بھی درست نہیں ۔گمشدہ افراد کے اہل خانہ کی جانب دست شفقت بڑھا کر حکومت نے دشمن قوتوں کے جھوٹے بیانیے کی بنیاد ہلا ڈالی ہے ۔ شر پسند عناصر یہ ثابت کرنا چاہ رہے تھے کہ ریاست جبری گمشدگیوں میں ملوث ہے ۔حکومت نے عملی اقدامات کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ ریاست گمشدہ افراد کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑی ہے- نام نہاد قوم پرست یہ پروپیگنڈا کرتے آئے ہیں کہ حکومت سنگ دل اور جابر ہے جبکہ ریاست نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے مظلوم ،مجبور اور کمزور شہریوں کے لیے
ایک مہربان اور ہمدرد ماں کا کردار ادا کرے گی ۔ بھارتی ایجنٹ صبح و شام یہ ثابت کرنے میں مصروف ہیں کہ پاکستان میں حقوق مانگنے والے شہریوں کو غائب کر دیا جاتا ہے ۔ آج حکومت نے مظلوم خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہو کر یہ پیغام دیا ہے کہ ریاست گمشدہ افراد کی تلاش کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے ۔ جبری گمشدگی اور لاپتا افراد کے لیے قائم کیے گئے کمیشن نے 10 ہزار سے زائد مقدمات میں سے 8 ہزار سے زائد مقدمات نپٹا دیے ہیں ۔ باقی بچ جانے والے 22 فیصد مقدمات پر کام جاری ہے یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست گمشدہ افراد کے معاملے کی حساسیت سے آگاہ ہے- متاثرہ خاندانوں کی نفسیاتی کیفیت اور سماجی مسائل کا ادراک کرتے ہوئے ریاست نے قانونی اقدامات کے ساتھ ساتھ ان کی مالی معاونت کا فیصلہ بھی کیا ۔ ایک جانب مظلوم لواحقین کی اشک شوئی میں مصروف ریاست ہے تو دوسری جانب گمشدہ افراد کے مسئلے پر مال بٹورنے کے لیے لسانی تعصب کے ذریعے ہتھیاروں سے لیس نام نہاد قوم پرست ہیں ۔یہ ریاست دشمن عناصر نفرت کی آگ بھڑکا کر ملک کے اندرونی استحکام کو خاکستر کرنا چاہتے ہیں ۔ سوشل میڈیائی محاذ پر ریاست کے خلاف زہر اگلنے والے نام نہاد قوم پرست اور انسانی حقوق کا نقاب اوڑھ کر بھارتی ایجنڈے کو فروغ دینے والی تنظیمیں درج زیل سوالات اور اعتراضات کا جواب دینے سے گریزاں رہتی ہیں ۔ اول جو نام نہاد لاپتا افراد فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے انسداد دہشت گردی کے آپریشنز میں ہلاک ہوئے آج تک ان کے بارے میں کوئی وضاحت یا معذرت کیوں نہیں کی گئی؟ دوم ،داعش، ٹی ٹی پی اور درجن بھر قوم پرست کا لعدم تنظیموں کے جھنڈے تلے دہشت گردی کے کالے دھندے میں ملوث افراد کو گمشدہ فرد کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے؟ سوم ،کسی حادثے یا ذہنی عارضے میں مبتلا افراد کی گمشدگی کو ریاست کے خلاف چارج شیٹ بنانے کے لیے استعمال کرنا انتہا درجے کی بددیانتی ہے ۔ نام نہاد قوم پرستوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے پاس اس موضوع پر مستند اعداد و شمار دستیاب نہیں ۔ چہارم’ گم شدہ افراد کے مسئلے پر قوم پرستوں کا سب سے بڑا حمایتی بھارت خود مقبوضہ کشمیر ،نکسل ریاستوں اور مشرقی پنجاب میں جبری گمشدگیوں کے ہزاروں واقعات میں ملوث ہے- یہ عناصر بھارت کے خلاف اسی مسئلے پر آواز کیوں نہیں اٹھاتے ایسے بہت سے اعتراضات عوام کی زبان پر ہیں۔ گمشدہ افراد کے نام پر فساد مچا کر ڈالر بٹورنے والے قوم پرست بے نقاب ہوتے جا رہے ہیں ۔ حکومت نے اس معاملے پر درست سمت میں درست قدم اٹھایا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی میڈیا بھی ریاست کے خلاف غیر ملکی سرمائے سے چلائے جانے والی مہم کا ادراک کرتے ہوئے مثبت کردار ادا کرے ۔ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ نام نہاد قوم پرست گمشدہ افراد اور ان کے لواحقین کے مسائل پر ریاست دشمن ایجنڈے کو فروغ دے رہے ہیں۔ یہ امر بھی روز روشن کی طرح عیاں ہو گیا ہے کہ ریاست نے مظلوم شہریوں کے سر پر دست شفقت رکھ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں