گزشتہ 76 برسوں میں حالات نے رہنمائوں کے ساتھ جو کچھ کیا،جو سلوک روا رکھا،ہماری تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں گولی ماری گئی۔پاکستان ہی کے سب سے مقبول وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کو ایوان وزیراعظم سے اڈیالہ جیل اور پھر جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے پھانسی گھاٹ تک پہنچایا گیا۔سابق وزیراعظم میاں محمدنواز شریف کے ساتھ بھی جو کچھ ہوا ایک چلتی جمہوری حکومت کا جس طرح تختہ الٹاوہ بھی اسی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔لوگ بھولے نہیں ہوں گے۔اڈیالہ کے جس کمرے میں میاں صاحب کو رکھا گیا وہ ایک تنگ و تاریک کمرہ تھا۔کوئی روشن دان بھی نہیں تھا۔تازہ ہوا اور سورج کی کرنیں بھی اس میں میاں صاحب تک مفقود تھیں۔نواز شریف کو کراچی کی عدالت میں پیشی کے لیے راولپنڈی سے بذریعہ جہاز لے جایا جاتا تو ان کے ہاتھ سیٹ کے پیچھے باندھ دئیےجاتے تھے۔صدر آصف علی زرداری کو بھی سیاست کی پاداش میں11 سال جیل کاٹنی پڑی۔ لاہور پولیس کی حراست میں تھے تو دوران تفتیش ان کی زبان کاٹ دی گئی۔ بے نظیر بھی لمبے عرصے کے لیے جیل میں رہیں۔کراچی میں قید و بند کاٹی۔یہ تمام صورت حال واضح کرتی ہے کہ اقتدار یا سیاست پھولوں کی سیج نہیں۔کانٹوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ہر سیاسی رہنما کو ان حالات سے واسطہ پڑتا ہے۔آج کل تحریک انصاف کے بانی عمران خان بھی اڈیالہ جیل میں ہیں۔ایک سال سے جیل کاٹ رہے ہیں۔خان صاحب کے بارے میں کہا جاتا تھا ایک دن بھی جیل نہیں کاٹ سکتےکیونکہ جیل کاٹنا بڑے دل گردے اور حوصلے کا کام ہےلیکن جیل کاٹ کر عمران خان نے اپنی حوصلہ مندی اور ہمت ظاہر کر دی ہے۔انہوں نے خود کو بڑا لیڈر ثابت کیا ہے۔بتا دیا ہے ان کے بارے میں جو قیاس کیا جاتا تھا کہ ایک دن کی بھی جیل نہیں کاٹ سکتے،وہ قیاس اب غلط ثابت ہو رہا ہے۔عمران خان ان دنوں عدالت اور فوج کے رحم و کرم پر ہیں۔پیغام رسانی بھی ہو رہی ہے کہ کسی طرح خان صاحب کو 9 مئی کے واقعات سے معافی مل جائےلیکن فوجی اسٹیبلشمنٹ کے تیور بتاتے ہیں کہ انہیں وہاں سے معافی ملنے والی نہیں۔بات کہاں تک جائے گی؟ کہاں تک پہنچے گی،قیاس کرنے والے اور تجزیہ کار بھی اپنے اپنے اینگل اور دانست کے مطابق اس موضو ع پر گفتگو اور حاشیہ آرائی کر رہے ہیں۔سب ہی ایک نکتے پر متفق ہیں کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے حالیہ دنوں میں جو پریس بریفنگ دی وہ اس بات کا لب لباب تھی کہ فوج 9 مئی پر سخت موقف رکھتی ہے،اس بات پر متفق ہے کہ 9 مئی والوں، ان کے سہولت کاروں اور ماسٹر مائنڈ کو ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔اس کے بعد بھی بھلا کوئی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو اسٹیبلشمنٹ سے معافی مل جائے گی۔
9 مئی کو لے کر کے پی کے حکومت نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کو ایک مراسلے کے ذریعے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کی استدعا کی ہے لیکن کیا اس سے معاملہ حل ہو جائے گا جبکہ عمران خان اڈیالہ جیل میں عدالتی پیشی کے دوران متعدد بار صحافیوں سے گفتگو میں یہ برملا کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے ہی اپنے ورکرز کو جی ایچ کیو کے باہر پرامن احتجاج کی کال دی تھی۔اگرچہ کسی بھی ملزم کا اقبالی بیان عدالت میں ہوتا ہے۔جو زیر دفعہ 164 کے تحت مجاز عدالت میں قلمبند کیا جاتا ہے۔تاہم عمران خان نے جو اعترافی بیان دیا وہ میڈیا کے سامنے تھا۔رپورٹ بھی ہوا۔تاہم اس اعترافی بیان کی قانون کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں۔عمران خان اپنے وکلا کے مشورے پر اس بیان کو بدلنا چاہیں تو بدل سکتے ہیں۔قوی خیال ہے وہ ایسا ہرگز نہیں کریں گے۔وکلا کی ہدایت کے مطابق اپنا بیان عدالت میں دیں گے۔ یہ اب عدالت پر منحصر ہو گا کہ میڈیا کے سامنے دیئےگئےاعترافی بیان اور عدالت میں دیئے جانے والے اعترافی بیان کو وہ کس طرح لیتی اور اس پر کیا فیصلہ کرتی ہے۔9 مئی کے تمام ترمقدمات معمول کے مطابق سول عدالتوں میں چلنے ہیں یا ان کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہونا ہے،یہ طے ہونا ابھی باقی ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس پرحکم امتناع چل رہا ہے۔جیسے ہی کوئی فیصلہ سامنے آتا ہے،طے ہو جائے گا کہ 9 مئی کے مقدمات سول عدالتوں میں چلیں گے یا ان کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہو گا۔اڈیالہ جیل جہاں عمران خان گزشتہ ایک سال سےپابندسلاسل ہیں،اےکلاس کی سہولتیں حاصل کئے ہوئے ہیں۔انہیں ٹی وی اورایئرکولرملا ہوا ہے۔پڑھنے کو اخبار بھی آجاتے ہیں اور کھانا بھی اچھا مل جاتا ہے۔عدالتی حکم پر انہیں جیل میں ایکسرسائز کی بھی تمام تر سہولتیں حاصل ہیں۔ ملاقاتوں پر کوئی پابندی نہیں۔اس جیل میں سابق وزیراعظم نواز شریف،سابق صدر آصف علی زرداری اور مریم نواز بھی قید رہے ہیں۔یہاں سیکورٹی کے زبردست انتظامات ہیں کیونکہ اس جیل میں ہائی پروفائل قیدیوں کو رکھا جاتا ہے۔اڈیالہ میں عمران خان کے آجانے سے اس جیل کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے،کیونکہ یہ جیل اس وقت پوری دنیا کی نگاہوں کا مرکز ہے۔پچھلے دنوں اعلی سطح کے ایک امریکی وفد نے بھی اڈیالہ میں عمران خان سے ملاقات کی۔ملاقات میں ان کے مقدمات کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اڈیالہ کےدروازے عمران خان پرکب کھلتے ہیں اور وہ آزاد دنیا کے شہری بنتے ہیں۔ یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ہوائوں کا رخ کس جانب ہے؟ حالیہ عدالتی فیصلوں کے بعد کیا عمران خان کے لیئے سازگارحالات پیدا ہو چکے ہیں؟ کیا اسٹیبلشمنٹ میں ان کے لیے کوئی نرم گوشہ پیدا ہوسکتا ہے؟ یہ بہت ہی تجسس آمیز سوال ہیں لیکن جلد یا بدیر ان کا جواب بھی مل جائے گا۔