اس جنگ سے پہلے میں اپنے خاندان کے ساتھ تین منزلہ مکان میں رہتی تھی۔ ہمارا گھر بڑا اور کشادہ تھا، جس میں ایک بڑا باورچی خانہ تھا اور مہمانوں کی میزبانی کے لیے پوری ایک منزل تھی۔ میں نےکبھی خیمے میں رہنے کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔ میں نےسوچا تھا کہ کسی خیمے میں رہنے کی نوبت کبھی نہیں آئے گی۔ میرے معاشی اور معاشرتی حالات کبھی بھی اس حد تک نہیں تباہ ہوں گےتاہم، یہ ہوا۔۔۔۔ میرے پاس رہنے کے لیے اور کوئی جگہ نہیں تھی۔ رفح پر اسرائیلیوں کے حملے کے بعد میں اب 12 مئی سے ایک خیمے میں رہ رہی ہوں۔ میں نے اپنے آپ سے جھوٹ بولنے کی کوشش کی اور اسے وقتی کیمپنگ ٹرپ کے طور پر تصور کیا یعنی کچھ عارضی سا اور ناولوں جیسا لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہے۔
خیمے کو باہر سے دیکھنا اس کے اندر رہنے سے بہت مختلف ہے۔دن کے وقت، یہ سخت گرم ہے اور اندر کی ہوا دم گھوٹتی ہے۔ میں تروتازہ ہوا کے لیےخیمے کا دروازہ کھلا نہیں رکھ سکتی کیونکہ ہمارے ارد گرد دیگرخیمےہیں اور لوگ ہر وقت کچن یا باتھ روم میں گھومتے رہتے ہیں۔کوئی رازداری نہیں ہے۔ میں ہر طرف سے تمام گفتگو سن سکتی ہوں۔صبح 10 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک ہم گرم تپتی دیواروں کے اندرپگھل جاتے ہیں اور میرا بیٹا ماجد اکثر خود کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے اپنے اوپر پانی ڈالتا رہتا ہے۔ رات کو سرد ہوا ہے اور ہمیں گرم رہنے کے لیے موٹے کمبل کی ضرورت ہے۔ہمارے کیمپ میں سب سے بڑا خیمہ اب بھی کسی بھی گھر کے مقابلے چھوٹا ہے۔ گھر کا ہر کمرہ اب صرف خیمے کا ہی ایک کمرہ ہے۔ہرجگہ ریت ہے، ہمارے کمبلوں، ہمارے تکیوں اور ہمارے کپڑوں میں بھی۔ میں دن میں کئی بار خیمہ جھاڑتی ہوں، لیکن یہ کافی نہیں ہوتا۔ میں مجید کے ہاتھ اور ٹانگیں مسلسل دھوتی ہوں تاکہ ریت کوصاف کیاجاسکے۔خیمہ ناہموار زمین پر ہے۔ ایک رات ماجددوران نیند ایک سلائیڈ کی طرح خیمے کے ایک سرے سے دوسرے سرے کی طرف لڑھک گیا۔ ہوائیں بھی خیمے کو ہلاتی رہتی ہیں، اور میرے بھائی اور چچا کو خیمے کی ڈوریاں کئی مرتبہ مضبوط کرنی پڑتی ہیں تاکہ اسے برقرار رکھا جا سکے۔ہر صبح شبنم جمع ہوتی ہے اور بارش کی طرح اس پر گرتی ہے۔ یہ شبنم ہر چیز کو بھگو دیتی ہے، اب ہم نے خیمے کےاوپر مزید کئی پرتیں ڈال دی ہیں تاکہ خود کو خشک رکھا جاسکے۔
خان یونس کے مغرب میں جہاں ہمارا خیمہ ہے وہاں بےشمار خیمے ہیں اور چند گھربھی ابھی باقی ہیں۔ اسرائیلی قابض افواج نے اپنے حملے میں خان یونس کو تباہ کر دیا، جس سے زیادہ تر محلے ملبے کے ڈھیر بن گئے۔ہمارے کیمپ میں ہمیں شامل کر کے کل تعداد 41 ہے، اور ہم صرف چار باتھ روم بانٹتے ہیں۔صبح اور دوپہر کے کھانے کے بعد غسل خانوں میں ہجوم ہوتا ہے۔ پھر رات کے وقت ان خیموں کے درمیان سے گزر کر باتھ روم تک اکیلے جانا خوفناک ہے۔ میں نے ایک بار اپنے کیمپ میں ایک کتا گھومتے ہوئے پایا۔ ایک اور بار، میں نے ایک ہوائی جہاز کو براہ راست باتھ روم کے اوپرپرواز کرتے دیکھا۔ میں نےلائٹ بند کر دی اور اس کے گزرنے تک ساکن رہی ۔ چونکہ ہم سب کیمپ میں بےگھر اور بے روزگار ہیں، اس لیے ہم اپنے معیار زندگی کو دوسرے میٹرکس سے ماپتے ہیں، جیسے کہ کس کے پاس سب سے بڑا خیمہ ہے اور کس کے پاس سولر سیل ہیں۔ہمارا کیمپ ابو حسنی نامی کسان کی زمین پر واقع ہے۔ اس کے پاس 15 سے زیادہ سولر سیل ہیں، اور وہ ان کا استعمال ہمارے لیے پانی پمپ کرنے، ہمارے فون اور بیٹریوں کو چارج کرنے اور ہمارے کھانے کو گرم رکھنے کے لیے کرتا ہے۔سولر سیل خریدنا مشکل ہے کیونکہ جنگ سے پہلے اس کی قیمت $150 کے مقابلے میں اب تقریباً 1000 ڈالرزیادہ ہے لیکن یہ واحدطریقہ ہے جس سے ہم بجلی حاصل کر سکتے ہیں، اور مستقبل میں بھی یہ ہی ممکنہ طریقہ ہے۔بے گھر افراد کے لیے جن کے پاس سولر سیلز اور واٹر پمپ تک رسائی نہیں ہے، انہیں اپنے پانی کے بیرل کے ساتھ گھنٹوں لائن میں انتظار کرنا ہوتا ہے اور کمیونٹی پمپ سے پانی لینے کے لیے رقم ادا کرنی ہوتی ہے۔
جنگ سے پہلے میری الماری مختلف سٹائل کے اور رنگ برنگے طرح طرح کے کپڑوں سے بھری ہوئی تھی لیکن اب میرے پاس صرف دو جوڑے ہیں، اور میں اکثر وہی پہنتی ہوں اور باقی تمام خواتین اور لڑکیاں بھی اسی طرح دو جوڑے پہنتی ہیں، ایک لباس جو ہم عام طور پر نماز کے لیے پہنتے ہیں دوسرا وہ جس میں سے اب کھانا پکانےکی وجہ سے آگ جیسی بو آتی ہے، اور پانی کم ہونے کی وجہ سےاس بدبو کو دور کرنا مشکل ہے۔انٹرنیٹ کنکشن بہت کمزور ہے۔ اگرچہ میں نے جو کارڈ خریدا ہے وہ چار گھنٹے کا ہے، لیکن یہ درحقیقت صرف ایک گھنٹے کے لیے کام کرتا ہے۔ میں بمشکل خبریں پڑھ سکتی ہوں یا دوستوں سے مختصر بات کر سکتی ہوں۔ میرے شوہر شمال میں ہیں اور پچھلے مہینے کمزور سگنلز کی وجہ سے میں ان سے صرف ایک یا دو بار بات کر سکی۔ہماری تقدیر بدل کر رہ گئی ہیں۔ میرا 17 سالہ کزن اپنے خاندان کے لیے شیمپو اور صابن بیچتا تھا، جس کے گھر پر اسرائیل نے بمباری کر کےاسے تباہ کر دیا تھا۔اس نے میرے نوجوان بھائیوں امرو(16سال) اور یزان(14) کو بھی پیسہ کمانے کے لیے چیزیں بیچنے کی ترغیب دی چنانچہ انہوں نے بیچنے کے لیے کچھ کینڈیاں، نیسکافے، جام اور نوڈلز خریدے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ سکول میں ہوتے لیکن اس کم عمری میں گھر چلانے کی خاطر وہ سامان بیچ رہے ہیں۔ یہاں قریب کوئی بازار نہیں ہے اور مجھے مرکزی بازار تک پہنچنے کے لیے یا تو ایک گھنٹہ پیدل چلنا پڑتا ہے یا گدھا گاڑی تلاش کرنا پڑتی ہے۔ یہاں ہر چیز کی کمی ہے، سوائے موت اور خوف کے۔میں اکثر اسرائیلی بم گرائے جانے اور توپ خانے سے فائر کیے جانے کی آوازیں سنتی ہوں۔ ہمارا خیمہ ہلتا اوربڑی شدت سے ہلتا ہے۔ ہماری حفاظت کے لیے دیواریں موجود نہیں ہیں اور پھر دیواریں بھی بھلاکیا تحفظ فراہم کرتیں؟ ہمیں تحفظ کا کوئی احساس ہی نہیں ہے۔ہماری دیواریں اور چھتیں محض ترپ اور کپڑا ہیں، اس لیے آسانی سے پھٹ جاتی ہیں اور جل جاتی ہیں۔سمندر قریب ہی ہے اور اگرچہ یہ اسرائیلی جارحیت کی جگہ بھی ہے، پھر بھی یہ مجھے آزادی اور سکون کی علامت معلوم ہوتی ہے۔جب میں اداسی، الجھن یا گھٹن محسوس کرتی ہوں، میں اپنے بیٹے کو سمندرکی طرف لے جاتی ہوں۔ ساحل سمندر اب بے گھر لوگوں سے بھرا ہوا ہے، یہاں وہ اپنے برتن دھوتے اور نہاتے ہیں۔ یہاں کم از کم لوگ گرمی اورگھٹن سے بچ جاتے ہیں۔ میں سمندر سے ہر اس چیز کے بارے میں بات کرتی ہوں جو مجھے پریشان کرتی ہے۔ پھر میں اپنے بیٹے کو گلے لگاتی ہوں، اپنے آنسو چھپاتی ہوں اورخیمے میں واپس آجاتی ہوں،اس خیمے میںجسے اب میںاپنا گھر کہتی ہوں ۔
(حنین اے الہولی، غزہ میں مقیم ایک محقق، مصنف اور مترجم ہیں)