دور حاضر کی تمام ترقی یافتہ قومیں بڑے بحرانوں سے گزر کر موجودہ مقام تک پہنچی ہیں۔ برسوں اندرونی و بیرونی خطرات سے نبرد آزما رہی ہیں ۔ جنگ و جدل کے خونی بھنور میں الجھی رہی ہیں۔ تمام عالمی جنگیں ان سے شروع ہو کر انہی پہ ختم ہوئیں ۔ ایٹمی حملوں کی ہولناک تباہیوں سے ابھر کر حیات نو کا انہوں نے آغاز کیا۔حماقتوں اور کوتاہیوں سے ہوئے نقصان سے سبق سیکھا۔ محنت ، صبر ، دانش اور حکمت عملی سے مردہ معیشت میں نئی روح پھونکی ۔ ملکی ترقی کے لئے داخلی و خارجی امن کی حdثیت ناگزیر کو سمجھا ۔ پھر حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ ان کی کایہ ہی پلٹ گئی ، ترقی کا ثمر بارش کی طرح برسنے لگا۔ یہاں تک کہ ہم بھی آج کل ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ملک میں ترقی اور خوشحالی لانے کی خواہش اور کوشش کرتے ہیں ۔
بے شک ہم مشکل وقت سے گزر رہے ۔ جب مشکل آسانی سے حل نہ ہو پائے تو پھر فیصلے بھی مشکل ہی کرنا پڑتے ہیں ۔کچھ پانے کے لئے کھونا بھی پڑتا ہے ۔ کامیابی محنت و مشقت اور استقامت مانگتی ہے۔ جذبہ اور جنوں مانگتی ہے ۔ مقصد عظیم ہو تو حصول کے لئے کچھ منفرد کرنا پڑتا ہے ۔ جان و مال کی فکر ترک کرنا پڑتی ہے ۔ ذاتی آرام و سکون قربان کرنا پڑتا ہے ۔ قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینا پڑتی ہے۔ اس عظیم جد وجہد میں سب سے بڑی قربانی انا کی ہوتی ہے ۔ انا ایک ایسا ناسور ہے جس کو مٹایا نہ جائے تو پورے نظام کو مٹا دیتا ہے ۔ تاہم اصول پر ڈٹے رہنا انا نہیں بلکہ اصول پسندی اور جرات کہلاتا ہے ۔ یہ وصف صرف اصلی اور نسلی لیڈروں میں پایا جاتا ہے ۔جس سے مائل ہو کر لوگ اس کے گرویدہ بن جاتے ہیں ۔ صدق دل سے اسکی تقلید و توصیف کرتے ہیں ۔ اس سے راہنمائی لیتے ہیں ۔ اپنی مشکلات کے حل کا وسیلہ سمجھتے ہیں ۔ اس میں انہیں مسیحائی کی کرن نظر آتی ہے ۔
دوسری طرف اگر کوئی ذاتی مفاد کی خاطر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرے ۔ ملکی مفاد جھوٹی انا کی بھینٹ چڑھا دے وہ راہبر نہیں راہزن ہوتا ہے ۔خود غرضی اور نرگسیت جیسی علت میں مبتلا ہوتا ہے ۔ اس کی سوچ اور محبت کا دائرہ فقط اپنی ذات کے گرد گھومتا ہے حالات جب ذاتی مفاد کے لئے موافق نہ ہوں تو بغاوت پہ تل جاتا ہے ۔ اس پہ مستزا ایسی ہٹ دھرمی سے ملک کو ہونے والے نقصان کی چنداں پروا بھی نہیں کرتا ۔ جھوٹی انا کی چٹان پر چڑھ کر خود بھی چٹان بننے کی سعی کرتا ہے۔ خود کو انقلابی اور گیم چینجز بنا کر پیش کرتا ہے ۔ ریاست سے ٹکرانے کی حماقت کر کے سستی شہرت حاصل کرتا ہے۔بد قسمتی سے جب عوام کی اک خاص تعداد پر ایسے شخص کے سحر میں جکڑی ہو ، جو اس کا جھوٹ بھی سچ مانے ، اس کے اشارہ آبرو پہ مرنے کو تیار ہو جائے ، تو ریاست کیلئے ان سے ڈیل کرنا کچھ مشکل ہوجاتا ہے ریاست تو ہر وہ عمل کرنے کی پابند ہے جو ملکی مفاد اور سلامتی کے لئے ضروری ہو ۔ جو ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں ہو ۔ جب شہریوں کا اک خاص طبقہ اپنے سیاسی راہنما کی من مرضی کو ملکی مفاد پر ترجیح دینے لگے تو ریاست کی رٹ اور بقا ڈولنے لگتی ہے ۔ لرزتی بقا کا پیکر معمولی دھکے سے گر جاتا ہے ۔ جس پر دشمن قوتیں گدھ کی طرح جھپٹ پڑتی ہیں ۔ اپنے اپنے حصے کی بوٹی نوچ کر اس کا وجود مٹا دیتی ہیں ۔
تاریخ عالم ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں اندرونی شکست و ر یخت سے کمزور ہوئے ممالک پر دشمن قوتوں نے جھپٹ کر اپنے پنجے گاڑھ لئے . اس کے حصے بخرے کر کے اپنی اپنی کالونیوں میں شامل کر لیا ۔ مشرق وسطی میں ماضی قریب میں ہونے والے واقعات چیخ چیخ کر ہمیں جھنجھوڑ رہے ہیں ۔ شام ، عراق ، کویت ، لیبیا اور اب فلسطین کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے ۔ اس کے اسباب کی تحقیق سے تین عوامل ظاہر ہوتے ہیں۔ناعاقبت اندیش سیاسی قیادت ، منظم و مضبوط فوج کی عدم موجودگی اور بیرونی سازش ۔ ان ملکوں کے پاس اگر مضبوط فوج ہوتی تو پہلے دونوں عوامل کبھی کارگر ہوتے اور نہ بیرونی سازش کامیاب ہوتی ۔ ایسی ہی صورت حال کو دیکھ کر کسی فلاسفر نے کہا تھا ، جہاں اپنی فوج نہیں ہوتی وہاں کسی اور کی ضرور آ جاتی ہے۔ وطن عزیز کی بات کریں تو ہم فخر سے کہتے ہیں کہ ہم ایک مضبوط اسلامی ملک ہیں ۔ ہمارا اشارہ معیشت یا سیاسی پختگی کی طرف نہیں ہوتا ، بلکہ بہادر فوج اور ایٹمی صلاحیت کی طرف ہوتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ کچھ ناعاقبت اندیش اپنی ذاتی انا اور سیاسی مفاد کے لئے ان دونوں کو کمزور کرنے کے در پے ہیں ۔ آئے روز ان پر ڈیجیٹل دہشت گردی کے وار کئے جاتے ہیں ۔ جو انشاء اللہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہو پائیں گے ۔ تاہم ان کی منفی سوچ اور روش سے ملک کی معیشت اور سیاسی صورتحال کا ستیا ناس ضرور ہو رہا ہے ۔ حالات ایسے ہی رہے تو خاکم بدہن یہاں غربت ، بے چینی ، مایوسی اور بدامنی کا طوفانی ریلا سب کچھ بہا لے جائیگا۔سب سے زیادہ نقصان جمہوریت، سیاست اور ملکی امن کا ہو گا ۔ ایسے منحوس حالات سے اگر بچنا ہے تو قومی احساس اور جذبہ ہمدردی کو اجاگر کرنا ہو گا۔ سیاسی تعصب کی گرفت سے نکل کر قومی یکجہتی اور ملکی مفاد کی رسی کو مضبوطی سے تھامنا ہو گا ۔ ذاتی رنجشوں کو بھول کر قومی دھارے میں آنا ہوگا ۔ اپنی انائوں کے بت توڑ کر دھرتی ماں سے محبت کا عملی مظاہرہ کرنا ہوگا ۔
وطن عزیز پہ منڈلاتے خطرات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا ۔ دوست و دشمن کی پہچان کے لئے سیاسی وابستگی کی بجائے صرف حب الوطنی اور قومی مفاد کو پیمانہ بنانا ہو گا ۔ حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ ہمیں متذکرہ بالا تمام فروعی معاملات کی قربانی دینا ہوگی ۔ نیلسن منڈیلا کی متواتر مثالیں دینے والو یاد رکھو ملک کی خاطر اس عظیم شخص نے بھی ایسا ہی کیا تھا ۔ ریاست سے محاذ رائی کسی طور بھی دانشمندانہ عمل نہیں ۔ کیونکہ ریاست کو شکست دے کر اقتدار کا خواب دیکھنا محض اک خواب ہی ہوتا ہے ، وہ بھی ڈرائونا۔ جس کی تعبیر صرف تباہی ہوتی ہے ۔ ملکی بقا ، سلامتی آورخوشحالی کے لئے عظیم لیڈرز بڑی قربانیاں دیتے ہیں ۔ جو ہمیشہ کے لئے امر ہوجاتے ہیں ۔جنکی عظمت کو تاریخ ہمیشہ سلام پیش کرتی ہے ۔ وقت آگیا ہے ، ہمیں بھی اب یہ قربانی دینا ہوگی ۔ بصورت دیگر سب کف تاسف ملتے رہ جائیں گے ۔
خدا کرے میری ارض پاک پہ اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو