Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

حسینہ واجد-نشانِ عبرت

کے باپ نے قوم کو پرکشش نعروں کے ذریعے ورغلایا، دشمن ملک کے ساتھ ملی بھگت کرکے اپنی فوج کے خلاف رائے عامہ ہموار کی؛ شرپسند سیاسی پیروکاروں کو دشمن ملک سے تربیت دلوائی، اسلحہ فراہم کروایا۔ مکتی باہنی کے روپ میں عوام کو ریاست ،بالخصوص فوج کے مقابل لاکھڑا کیا۔ قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا۔ سرکاری املاک کا ناقابلِ تلافی نقصان کرایا ۔ ریاستی مشینری کو سلب کیا۔ حساس اداروں اور تنصیبات پر حملے کر کے دشمن ملک کو وار کرنے کیلئے سازگار ماحول دیا ۔ اپنے محافظوں، جن میں اکثریت مغربی پاکستان سے تھی، کے لیے مشکلات کے پہاڑ کھڑے کردیے۔ ادارے میں آٹے میں نمک کے برابر مقامی فوجیوں کے ذریعے بغاوت کروا کے حالات کو مزید گھمبیر بنا دیا۔ تمام تر مظالم محض حصول اقتدار کے لیے تھے۔ پھر چشمِ فلک نے دیکھا، ملک ٹوٹ گیا اور بنگلہ دیش بن گیا۔ بغاوت، انسرجنسی کو تحریک آزادی کا نام دے دیا گیا۔ سقوط ڈھاکہ کے مخالف ، ملکی وحدت کے حق میں رائے رکھنے والے شہریوں کو چُن چُن کر تختہ دار پر چڑھایا۔ حسینہ واجد فسطائیت اور بربریت کی حدود پار کرتے شائد حضرت علی رضی اللہ عنہ کا زریں قول بھول گئیں کہ “کفر کا نظام تو چل سکتا ہے، ظلم کا نہیں”۔ کہتے ہیں کہ “مکافات کی چکی چلتی تو آہستہ ہے مگر پیستی بڑا باریک ہے”۔ مکافاتِ عمل کا آغاز دراصل بنگلہ دیش کے قیام کے چار برس بعد ہی ہوگیا تھا، جب نام نہاد بانی بنگلہ دیش کو بھارت سے گہری رغبت رکھنے کی پاداش میں دن دیہاڑے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ چونکہ اُس وقت تک بنگالی عوام کی اکثریت مجیب الرحمان کے نعروں، دعوؤں اور جھوٹے پراپیگینڈے کے اثرات کی اسیر تھی جس کے باعث اُس کی پارٹی کو بار بار انتخابات میں پذیرائی ملتی رہی اور اس کی بیٹی کی حکومتیں بنتی رہیں۔ اس کا مسلسل جھکاؤ اپنے مربی اور محسن بھارت کی جانب رہا۔ یوں بھارت کو وہاں اپنا سیاسی، ثقافتی، اور عوامی اثر ورسوخ بڑھائے میں آسانی اور کھلی آزادی رہی، جس نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بداعتمادی کی خلیج کو مزید وسیع کیا، جو تادمِ تحریر جاری ہے۔ حسینہ واجد نے طویل عرصۂ حکمرانی کے دوران بنگالی عوام کو پاکستان کے خلاف بھڑکانے اور دوریاں پیدا کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ موصوفہ غالباً بھول گئی تھی کہ یہ ڈیجیٹل دور ہے، لوگ پہلے سے زیادہ باخبر اور عقل مند ہوچکے ہیں۔ 1971ٰء میں تراشے گئے بیانیے کے سہارے سیاسی فائدہ اٹھانا، قوم کو بے وقوف بنانا، اور مرضی کے نتائج کشید کرنا اب ا آسان نہیں رہا۔ اب نئی نسل ہے، جسے مجیب الرحمان اور اُس کی بیٹی کی اصلیت کا علم ہوچکا ہے۔ مکتی باہنی کی اولادوں کے لیے سرکاری ملازمتوں کا کوٹہ انہوں نے مسترد کردیا۔ اس کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے۔ مکنی باہنی، کی صفوں سے ہلاک ہونے والوں کو حسینہ واجد شہدائے وطن کا درجہ دیتی ہے، ان کی بغاوت کو قربانیوں کا نام دے کر ، ان کی نسلوں کو کوٹے کی صورت میں صلہ دینا چاہتی ہے۔ جس کو نئی نوجوان نسل نے مسترد کرکے یہ ثابت کردیا کہ مکتی باہنی کے ہلاک شدگان ، جنھوں نے ملک سے غداری کی ایسی توجہ ، تقدس اور توقیر کے مستحق نہیں۔ مجیب الرحمان کے مجسمے کو توڑ کر اس کے بانی بنگلہ دیش کے زعم اور دعوے کو بھی چور چور کردیا ۔ لگتا ہے، مکافاتِ عمل کا پہیہ الٹی جانب چل پڑا ہے۔ ملک کو دولخت کرنے والے، سیاسی مخالفین کو پھانسیاں دینے والے، جھوٹے بیانیے کی بنیاد پر معصوم عوام پر حکمرانی کرنے والے سب کردار اپنے
انجام کو پہنچنے جا رہیے ہیں۔ ان کے چہرے بے نقاب ہوں گے۔ دنیا ان کو نشانِ عبرت کے طور پر یاد رکھے گی۔حسینہ واجد اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے ۔ پاکستان توڑنے والوں کی شامت آنے والی ہے ۔ رضا کاروں نے جس قدر اذیت بھری زندگی حسینہ واجد کے سفاکانہ دور حکمرانی میں گزاری ہے اس کی کہیں مثال نہیں ملتی ۔ جتنے بھی محب وطن ، جو پاکستان کو متحد رکھنا چاہتے تھے ، اس چڑیل کی وحشت آور دہشت کا شکار ہوئے ۔ ان کی بزرگی اور ضعیف العمری کی پروا نہ کرتے ہوئے ، برسوں کال کوٹھڑیوں میں ان کو بند رکھا ۔ یہ سب باریش، پاکباز اور مخلص لوگ شب و روز خدا کا ہاں انصاف کی دعائیں کرتے کرتے اسیری ہی کے دوران ملک عدم سدھار گئے ۔ ان کی اپیلیں اور تاویلیں نظام عدل کے دل میں نرمی لا سکیں نہ جابر حکمران کو ان پر ترس آیا ۔ مگر یہ سب رب العزت کی درگاہ مقدسہ میں رجسٹرڈ ہوتی رہیں ، جس کی قبولیت کا اظہار اور اثر ایک خاص اور موزوں وقت پہ ہونا تھا ۔ تو وہ وقت شاید یہی تھا ، جب عوام نے بانی بنگلہ کے نام و نشان کو دھرتی سے مٹا دینے کا تہیہ کر لیا ہے ۔ جس کا عملی مظاہرہ مجیب کے ٹوٹتے مجسموں اور جان بچا کر فرار ہوتی اس کی بیٹی کے مناظر دیکھا جا سکتا ہے ۔ قدرت نے رضاکاروں کی دعائیں سن لی ہیں ۔ اب بہت سارے تخت نشین بے نقاب ہوں گے ۔ بھارت سے جڑی ڈوریاں اور سازشیں نئی نسل کو نظر آئیں گی ۔ اس کے باعث جو پاکستان کے خلاف جھوٹے پروپگنڈا کی بنیاد نفرت کی فضا قائم ہے اس کی بھی قلعی کھلی گے ۔ ملکی باگ ڈور اب البدر اور الشمس کے غازیوں اور شہیدوں کی اولادوں کے ہاتھ آئے گی ۔ اب ان کی ہوائیں چلیں گی ۔ اقتدار کی ہوس کا شکار تمام غداران وطن اپنے انجام کو پہنچیں گے ۔ دو قومی نظریہ کا سورج اک بار پھر برصغیر کے افق پر پوری آب و تاب کے ساتھ چمکے گا ۔ انشاءاللہ
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

یہ بھی پڑھیں