(گزشتہ سے پیوستہ)
۱۸ : ۔۔۔ پانچ اداروں کا مؤقف جناب مفتی حبیب الحق نے پڑھا اور اس میں کہا گیا کہ عدالت نے معترضہ حکم نامے میں قرآن کریم کی آیات سے غلط استدلال کیا اور مقدمہ بعنوان : ’’ مجیب الرحمٰن بنام حکومت ِ پاکستان ‘‘ میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے اور مقدمہ بعنوان : ’’ ظہیر الدین بنام ریاست ‘‘ میں سپریم کورٹ کے فیصلے سے انحراف کیا ہے ۔ عدالت نے کہا کہ ہم نے مقدمہ ظہیر الدین بنام ریاست کے فیصلے سے انحراف نہیں کیا ، نہ ہی کر سکتے ہیں ، کیونکہ یہ فیصلہ بڑے بنچ کا تھا جو پانچ فاضل ججوں پر مشتمل تھا ۔ ۱۹ : جامعہ محمدیہ غوثیہ بھیرہ کے مفتی شیر محمد خان نے قرآن کریم کےحوالے سے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اس نام نہاد عبادت گاہ کو ڈھا دینے کا حکم دیا تھا ؛ جہاں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف سازشیں ہو رہی تھیں ، اور اسے مسجد ضرّار کا نام دیا تھا ۔ جناب ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی نے بھی اپنی انفرادی رائے میں یہ دلیل دی تھی ۔ اس پر عدالت نے کہا کہ یہ عبادت گاہ جن لوگوں نے بنائی تھی ؛ انہوں نے ا سے نام مسجد کا دیا تھا ، جس سے بعض مسلمان دھوکے میں پڑسکتے تھے ، جب کہ پاکستان کے قانون میں پہلے ہی سے پابندی ہے کہ احمدی اپنی عبادت گاہ کو مسجد نہیں کہہ سکتے اور نہ ہی خود کو مسلمان کے طور پر پیش کر سکتے ہیں الخراقم الحروف عرض کرتا ہے کہ مفتی صاحب اور ڈاکٹر عمیر صدیقی نے یہ حوالہ محض مسجد نام رکھنے پر نہیں دیا تھا کہ جسےیہ کہہ کر خاموش کرا دیا جائے کہ پاکستان کے قانون میں پہلے ہی سے پابندی ہے کہ قادیانی اپنی عبادت گاہ کو مسجد نہیں کہہ سکتے ۔ بلکہ ان حضرات کا کہنا یہ تھا کہ اس جگہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہو رہی تھیں ، اور یہ سازشیں بھی ادارے میں ہو رہی تھیں ، جس کی بنا پر اسے منہدم کیا گیا ۔ مطلب یہ کہ کوئی اسلام یا مسلمانوں کے خلاف عَلانیہ سازش کرے ، تب بھی مجرم ہے ۔ یا نجی طور پر کرے ، تب بھی وہ مجرم ہے ۔ اسلامی ریاست کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اسلام ، مسلمانوں اور ریاست کے خلاف کہیں بھی کوئی سازش نہ ہونے دے ۔ اور یہ واقعہ خود دلیل ہے اس بات کی کہ قادیانیوں کو چاہے ان کے گھر ، عبادت خانے یا مخصوص نجی ادارے ہوں ؛ کہیں بھی اسلام، ریاست اور مسلمانوں کے خلاف کسی فعل اور عمل کی اجازت نہیں ۔ ۲۰ : میںلکھا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کے سامنے مجیب الرحمٰن مقدمے میں یہ معاملہ اٹھایاگیا کہ پاکستان میں احمدیوں کو اپنے مذہب اورعقیدے پر عمل سے روکا جا رہا ہے تو عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کو اپنے مذہب پر عمل کی اجازت ہوتی ہے اور اس ضمن میں عدالت نے رسول اللہﷺ کے غیر مسلموں کے ساتھ معاہدات کا حوالہ دینے کے علاوہ عہدِ صحابہ اور بعد کی اسلامی تاریخ سے کئی مثالوں کا ذکر کیا ۔ اس کے جواب میں راقم الحروف مقدمہ : مجیب الرحمٰن بنام ریاست ’’ قادیانیت کے خلاف اعلیٰ عدالتوں کے تاریخی فیصلے ‘‘ (مؤلفہٗ : محمد متین خالد ) نامی کتاب سے یہ اقتباس نقل کرنا چاہتا ہے : ’’ کسی غیر مسلم کے اس حق پر ایسی کوئی آئینی ، قانونی یا شرعی پابندی نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا اعلان کرے ، پیغمبر ﷺ کو اپنے دعوے میں سچا تسلیم کرے ، قرآن کریم کو اچھے دستورِ حیات کا حامل تسلیم کرے اور اس کے احکام پر عمل پیرا ہو ۔
چھٹے سوال کا واضح جواب یہ ہے کہ ایسے غیر مسلم سے قرآن و سنّت کی عائد کردہ شرائط ؛ جن کا تذکرہ مناسب موقع پر آئے گا ، کے تحت دوسری اقلیتوں جیسا سلوک کیا جائے ‘‘آگے لکھا کہ : ’’ مسٹر مجیب الرحمٰن نے ’’ اکراہ ‘‘ کے بارہ میں جو چار اصول بنائے ہیں ، وہ بھی قطعی ہیں ۔ لیکن تیسرے اصول کا اطلاق جیسا کہ مسٹرمجیب الرحمٰن نے کیا ہے ، درست نہیں ہے ۔ تیسرا اصول یہ ہے کہ کسی شخص کو طاقت کے استعمال سے ، اس کے دین سے نہیں نکالا جا سکتا ۔ اپنے تحریری دلائل میں وہ اس پر یہ اضافہ کرتے ہیں : ـ’’جیسا کہ ہمیں نکالا گیا ہے ۔ ‘‘ زیر ِ بحث آرڈی نینس میں ایسی کوئی بات نہیں کہ انہیں اپنے مذہب سے نکال دیا گیا ہے ۔ یہ استدلال کیا گیا تھا کہ احمدیوں پر اپنے آپ کو مسلمان کہنے یا ایسا ظاہر کرنے پر پابندی عائد کرنا ، انہیں اپنے دین سے جو ان کے مطابق اسلام ہے ، نکالنے کے مترادف ہے ۔ اس سوال پر ہم پہلے غور کرچکے ہیں اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہر دو عقیدوں کے قادیانی مسلمان نہیں ہیں ، بلکہ غیر مسلم ہیں ۔ لہٰذا آرڈی نینس انہیں اپنے آپ کو ایسا کہنے سے روکتا ہے ، جو وہ نہیں ہیں ۔ کیونکہ انہیں اپنے آپ کو جھوٹ موٹ مسلمان ظاہر کر کے کسی شخص خصوصاً امت مسلمہ کو دھوکا دینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ یہ امر پہلے واضح ہو چکا ہےکہ مرزا صاحب اور لاہوری گروہ کے سوا دیگر قادیانیوں نے اپنے آپ کو ایسی جماعت کی جگہ جس میں قرآن کریم کی محبت اور عقیدت سب سے بلند ہے ، مسلم جماعت قرار دے لیا ہے ۔ یہ برداشت نہیں کیا جا سکتا اور غیر مسلموں کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ امت کا شیرازہ بکھیر کر مسلمانوںکے حقوق اور مراعات پر قبضہ کر لیں ۔ پھر یہ امر قادیانیوں کے مرزا صاحب کو خواہ نبی یا مجدد یا مہدی معہود یا مسیح موعود ماننے کے حقوق پر بھی اثر انداز نہیں ہو تا اور نہ ہی اس سےا ن کے اس حق میں مداخلت ہوتی ہے کہ وہ اپنے مذہب پر عمل کریں اور ا س کے اصولوں کے مطابق اپنی عبادت گاہوں میں عبادت کریں ۔ شریعت اسلامیہ غیر مسلموں کو اپنے دین کو ماننے نیز اس پر عمل کرنے کا پورا تحفظ دیتی ہے۔‘‘(جاری ہے)