(گزشتہ سے پیوستہ)
( ۲۱۶ تا ۲۱۸ )اس فیصلے میں آگے چل کر لکھا کہ : ’’ متوکل علی اللہ کے زمانے میں ذمیوں پر کچھ زیادتیوں کی مثالیں مل سکتی ہیں ، لیکن ان کے پس پردہ ایک عنصر یہ تھا کہ اس وقت خود غیر مسلم ‘ قائم حکومت کے خلاف سازشیں کرنے لگے تھے اور ایسی سازشیں ان کی عبادت گاہوں میں تیار ہوتی تھیں ۔ بدیں وجہ حکومت کو ان کا لباس مقرر کرنے اور ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کی ضرورت پیش آئی ۔ ‘‘ ( ۲۲۴)آگے لکھا کہ: ’’ تاہم یہ تمام دلائل غیر متعلق ہیں ، کیونکہ زیر ِ بحث قانون قادیانیوں کو اپنا عقیدہ بدلنے اور اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کرتا ۔ لیکن نہ وہ مسلمان ہیں اور نہ ہی یہ امور اکراہ ، جبر یا دھمکی کے ان اصولوں کے تحت آتے ہیں جن پر آیات کا اطلاق ہوتا ہے۔
ان آیات کا اطلاق کسی اور دین کو چھوڑ کر اسلام قبول کرنے پر ہوتا ہے ۔ ‘‘ (۲۲۷)راقم الحروف یہ عرض کرتا ہے کہ آئین میں بھی ان کو قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ لکھا گیا ہے ، یہ ایک گروپ اور گروہ تو ہے لیکن کوئی مذہب نہیں۔قادیانیت کوئی مذہب نہیں ۔ مسلمانوں کا یہ مطالبہ ہے کہ قادیانی ‘مسلمانوں کے شعار کے علاوہ اپنے شعار بنائیں اور حکومت ِ پاکستان کے تحت اپنے آپ کو رجسٹرڈ کرائیں ، ان سے کوئی جھگڑا نہیں اور غیر مسلموں کے تحت اپنی مذہبی آزادی حاصل کریں ۔ جب قادیانیت کسی مذہب کا نام نہیں اور نہ ہی گورنمنٹ کے تحت یہ رجسٹرڈ ہے ، بلکہ یہ صرف ایک جعل ساز گروہ ہے جو مسلمانوں کے شعار کو استعمال کر کے دوسرے انسانوں کو دھوکا دیتا ہے تو ظاہر ہے کہ ہر سوسائٹی یا دستور و قانون میں کسی جعل ساز کے کوئی حقوق نہیں ہوتے ۔ ۲۱ : ’’ پانچ اداروں کے مشترکہ مؤقف میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ جس تقریب میں مسؤل علیہ پر کتب کی تقسیم کا الزام تھا ، وہ ’’ مدرسۃ الحفظ ، عائشہ اکیڈمی ومدرسۃ البنات ‘‘ کی تقریب تھی اور ان ناموں سے عام مسلمان دھوکے میں پڑسکتے ہیں۔ کیا احمدیوں کے ادارے کے لیے ایسا نام رکھنے پر مجموعۂ تعزیرات کی دفعہ : ۲۹۸ سی کا اطلاق ہوتا ہے یا نہیں ؟ عدالت نے اس پر کہا کہ : یہ سوال اس مقدمے میں عدالت کے سامنے نہیں ہے ، نہ ہی ایف آئی آر میں مسؤل علیہ پر یہ الزام ہےکہ یہ نام اس نے رکھے تھے ۔ ‘‘گویا عدالت عظمیٰ مانتی ہے کہ ’’ مدرسۃ الحفظ ، عائشہ اکیڈمی ، مدرسۃ البنات ‘‘نام رکھنا ، اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنا ، قرآن کریم کو اپنی کتاب کہنا ، اور مدرسہ کے لفظ سے دھوکا دینا پایا تو جاتا ہے ؛ لیکن چونکہ مدعی نے یہ الزام نہیں لگایا تو اس لیے دفعہ : ۲۹۸ سی کا اطلاق نہیں کیا گیا ۔‘‘ اس سے گویا قادیانیوں کی آئین شکنی کے باوجود انہیں صاف بچا لیا گیا ہے۔البتہ قادیانیوں اور لاہوریوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے ، ان کی طرف سے قانون کی خلاف ورزیوں کی بنا پر ۲۶ اپریل ۱۹۸۴ ء کا امتناعِ قادیانیت آرڈی نینس کا جاری ہونا اور اس قانون کا حصہ بن جانا ، پھر اس کی خلاف ورزیوں پر مقدمات بننا اور اس قانون کو عدالتوں میں چیلنج کیا جانا اور اس پر اعلیٰ عدالتوں کے تاریخی فیصلوں کے صادر ہونے کے اتنا عرصہ بعد عدالت عظمیٰ کی جانب سے ایک بار پھر ۱۹۷۴ ء میں پارلیمنٹ میں کی گئی اراکین ِ اسمبلی کی تقاریر کا حوالہ دینا کہ وہ بھی چاہتے تھے کہ ان کو مذہبی آزادی دی جائے ؛ یہ کچھ صحیح نہیں لگتا ۔ کیونکہ قانون بن جانے کے بعد قانون ہی ان تمام وضاحتوں کے لیے کافی اور شافی ہوتا ہے ، جیسا کہ اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں میں اس قانون کی تمام تشریحات آگئی ہیں۔ ۴۰ : ’’ فیصلے میں یہ بھی قرار دیا گیا کہ جن انتظامی احکامات کو اس مقدمے میں چیلنج کیا گیا تھا ، ان کا اطلاق احمدیوں کے صرف ان افعال پر ہوتا ہے جو وہ عوامی سطح پر انجام دیں ، نہ کہ ان افعال پر جووہ اپنے گھروں یا عبادت گاہوں میں کریں۔‘‘ اس پر اتنا عرض کریں گے کہ یہ عدالتی فیصلے اس وقت ظہور میں آئے جب قادیانیوں نے سو سالہ جشن منانے کا فیصلہ کیا ،اور روڈوں پر چراغاں کیا ، جھنڈیاں لگائیں ، بینر وغیرہ لگائے ، اور کہا کہ ہم شکرانے کے نوافل ادا کریں گے ، غریبوں میں کھانا تقسیم کریں گے ۔ جس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونا اور امن عامہ کا مسئلہ پیدا ہونا یقینی تھا ، تو اس پر انتظامیہ نے پابندی لگا دی اور پھر قادیانی عدالتوں میں اپیلیں لے کر گئے ، تو اس پر عدالتوں میں یہ فیصلہ دیا گیا کہ یہ مذکورہ بالا کام اپنے گھروں اور عبادت گاہوں میں کریں ۔ ۔۴۱ : ۔۔۔ میں مقدمہ بعنوان ’’’ طاہر نقاش بنام ریاست ‘‘ کا تذکرہ کیا ہے ۔ لیکن اس کا حوالہ اس مقدمے میں بنتا نہیں ۔ اس لیے کہ اس میں تین باتیں ہیں : ثابت کرے کہ قرآن کریم کے کس نسخے یا کسی اقتباس کی قصداً توہین کی گئی ہے یا اسے نقصان پہنچایا گیا یا اس کی بے حرمتی کی گئی ہے اور یہ غیر قانونی مقصد کے تحت کی گئی ہے ۔ یہ تو عدالت نے کام آسان کر دیا کیونکہ ہم نے یہ ثابت کرنا ہے کہ صرف ایک توہین ہوئی ہے ، تفسیر صغیر میں قرآن کریم کی توہین کی گئی ہے ۔ تو طاہر نقاش کے فیصلے کا حوالہ دینا یہاں درست نہیں ہوگا ۔
سورۃ التحریم میں حضرت مریم علیہا السلام کے تذکرے میں تفسیر صغیرمیں آیت کو مرزا پر چسپاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ محترمہ کی توہین ہے ، اور مسلمانوں اور عیسائیوں کی دل آزاری کا باعث ہے ۔ اس کے علاوہ بھی پوری تفسیر اس طرح کی تحریفات سے بھری پڑی ہے ۔
۲ : اس فیصلے کے پیرا گراف نمبر ۶ اور ۷ میں کافی ابہامات ہیں ۳ : پیراگراف نمبر ۳۸ میں ظہیر الدین بنام سرکار مقدمے کا حوالہ دیا گیا ہے ۔ جسٹس سلیم اختر نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ قادیانی اپنی حدود کے اندر بھی وہ کام نہیں کر سکتے جو مسلمانوں کے ساتھ مخصوص ہیں ، ہاں جو مخصوص نہ ہوں ؛ وہ کر سکتے ہیں ۔ ۴ : پیراگراف نمبر ۴۲ سب سے افسوس ناک ہے ، جس کے تحت انہیں گھر کی خلوت کاحق دیا گیا ہے ۔ حالانکہ آئین و قانون میں ایسا کہیں نہیں لکھا ہوا ۔ عدالتی نظائر ’’ ظہیر الدین بنام سرکار ‘‘ و ’’ طاہر نقاش بنام ریاست ‘‘ میں بھی گزر چکا ہے کہ گھر کے اندر بھی توہین نہیں کر سکتے ۔ محض قرآن رکھنا جرم نہیں بلکہ اس کے اندر تحریف شدہ مواد جرم ہے جو کہ تفسیر صغیر میں ہے ۔ کیا ذاتی اداروں کے اندر کوکین ، حشیش وغیرہ رکھنا جائز ہے ؟ ۵ : اب آگے یہ مسائل کھڑے ہوں گے کہ نجی ادارے کی تعریف کیا ہے ؟ کیونکہ بہت سے ادارے نجی و عوامی دونوں ہوتے ہیں ۔ اب کیسے فرق کیا جائے گا ؟ کیا کسی شخص کو گھر کے اندر بائبل یا ہندوؤں کی مقدس کتاب کی توہین کی اجازت ہوگی ؟ آگے عید ، قربانی وغیرہ عبادات کےاندر بھی مسائل پیدا ہوں گے۔نیز یہ کہ پیراگراف نمبر : ۴۲ نے پچھلی باتوں مثلاً ایف آئی آر ۳ سال بعد درج کی گئی وغیرہ پر پانی پھیر دیا ہے ، کیونکہ جب نجی اداروں میں سب کرنے کی اجازت ہے تو ایف آئی آر درج کرانے کی ضرورت کیا رہ گئی ؟