Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

بنگلہ دیش کے حالات کا پاکستان سے کیا موازنہ ؟

حسینہ واجد کی رسوا کن معزولی اور ملک سے شرمناک فرار پر لکھے میرے گذشتہ کالم کو بڑی پذیرائی ملی۔جو اخبار کی زینت بننے کے ساتھ سوشل میڈیا پہ بھی گردش کررہا ہے ۔ میرے حلقہ احباب کے کم وبیش سب لوگوں نے اسے پڑھا اور سراہا ہے ۔میں نے یہ اک خاص جذبانی کیفیت اور عجلت میں لکھا تھا ۔حسب معمول ٹی وی دیکھتے سکرین پہ مچلتی ایک بریکنگ نیوز نے مجھے الرٹ کیا۔ وزیر اعظم بنگلہ دیش حسینہ واجد استعفیٰ دے کر پناہ کے لئے بھارت بھاگ رہی تھی ۔ عجیب عالم بے چارگی میں اس کے بھاگنے کی لائیو فوٹیج بھی چل رہی تھی۔منظر انتہائی عبرتناک تھا۔ ملک توڑنے والے اور اس کی بیٹی کی طرف سے ہمارے خلاف پھیلائی زہر آلودنفرت کے زخموں کی یادیں تازہ ہوگئیں۔جذبات میں اک عجیب سا ابال برپا ہو گیا۔اس فاشت عورت کا حشر دیکھا تو دل میں راحت اور ٹھنڈک کا احساس ہوا۔جیسے برسوں سے دل میں سلگتی آتش انتقام اچانک ٹھنڈی ہو گئی ہو۔ جیسے قدرت کی بے آواز لاٹھی سر چڑھ کر بول رہی ہو ۔ فراڈ، جھوٹ اور غداری کی بنیادوں پہ ایستادہ عوامی لیگ کا پاش پاش ہوتا مجسمہ دیکھا تو متحدہ پاکستان کی یاد نے آنکھیں نم کر دیں ۔ پچاس سال پہلے کے دل شکن مناظر لوح یادداشت پر عود آئے، ہمارے اچھے بھلے ملک کو کیسے چند غداروں نے اقتدار کی خاطر دولخت کردیا تھا ۔ دوقومی نظریہ کے عظیم تصور کی دھجیاں اڑا دیں تھیں ۔اندرا گاندھی کو اس انمول نظریہ کا تمسخر اڑانے کا موقع دیا تھا ۔ متذکرہ کالم لکھتے میرے رگ و پے میں تلخ یادوں کا اک ریلا بپھرا ہوا تھا ۔فرط جذبات اور برجستگی میں لکھی تحریر میں لامحالہ کچھ جھول رہ گئے ہوں گے۔ اختصار کی کوشش میں زمان و مکاں کی ترتیب کچھ ادھر ادھر ہو گئی ہو گی ۔ تاہم حیرت انگیز طور پر کچھ بھی ایسا نہ ہوا ، اور بھرم تحریر بچ گیا ۔ دوست و احباب کی کثیر تعداد نے توصیف و تعریف کے ساتھ اس پر گراں قدر تبصرہ آرائی بھی کی ہے ۔ کچھ قیمتی تجاویز بھی دی ہیں ۔چند ایک تجاویز ایسی ہیں جن سے مجبور ہو کر میں نے زیرِ نظر کالم لکھا ہے ۔ دراصل یہ تجاویز خواہشات و سوالات کا مرکب ہیں ۔جن سے خاص سیاسی سوچ اور رغبت کا تاثر ملتا ہے۔ حاصل تجاویز یہ تھا کہ مجھے کالم میں بنگلہ دیش کے حالات کا پاکستان کے موجودہ حالات سے موازنہ بھی کرنا چاہیے تھا۔ ان کے نزدیک پاکستان کے اندرونی حالات بھی ویسے ہی تشویش ناک ہیں۔ یہاں بھی لاوا پک رہا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ کر بنگلہ دیش جیسی صورت اختیار کرسکتا ہے۔چونکہ انہوں نے حالات کو ایک خاص زاویے سے پرکھا تھا جس کی عکاسی ان کی فکر اور ردعمل سے بھی ہو رہی تھی ۔ اس لیے ضروری تھا کہ انکی ذہنی خلش کا ازالہ کیا جائے۔ حالات و واقعات کا درست پس منظر میں احاطہ کیا جائے ۔ اس لیے بہتر ہے پہلے پاکستان کی بات کرلی جائے۔ پاکستان کے معروضی اور مجموعی حالات کا جائزہ لیا جائے ۔ پاکستان ایک مضبوط ایٹمی قوت ہے، اس کی مایہ ناز، منظم اور بہادر فوج ہے؛ جو گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑرہی ہے۔ جس نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور جذب حب الوطنی کے تحت جانیں دے کر ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا ہے ۔ تمام اقوامِ عالم اس کی بہادری اور مہارت کی معترف اور مداح ہیں۔ پاکستان ایک جوہری طاقت ہے جس کی دھاک پورے خطے اور مخالف حلقوں میں ہے ۔ پاکستان ایک جمہوری سیاسی نظام کے تحت چل رہا ہے۔ بے شک اس میں اصلاح کی کافی گنجائش اور ضرورت ہے ۔ لیکن سیاسی حکومت قائم ہے، سیاسی جماعتوں کو احتجاج کرنے، جلسے و جلوس منعقد کرنے ، اور حکومت کے خلاف بولنے کی آزادی ہے۔ سوائے چند شرپسند عناصر کے جو اپنے کرتوتوں کے باعث پابند سلاسل ہیں ۔ الحمدللہ، پاکستان پر کسی پڑوسی ملک کا اثر ہے نہ دبائو ۔ سب کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات ہیں۔ کسی بیرونی ملک کی ثقافت، مزاج اور محبت ہمارے معاشرے پر حاوی نہیں۔ سیاسی اختلافات کے باوجود بانی پاکستان کی شخصیت اور قوم پر ان کے احسانات کا سبھی احترام اور اعتراف کرتے ہیں۔ سات دہائیاں گزرنے کے باوجود بانی پاکستان کی توقیر و تقدس میں کمی آئی ہے نہ انکی ذات متنازعہ بنی ہے ۔تمام مذہبی، سیاسی اور اقلیتوں کی نمائندہ جماعتیں بلاامتیاز سرگرمِ عمل ہیں، کسی پر کوئی پابندی نہیں۔ تاہم ہوسِ اقتدار نے کچھ عرصے سے ملک کو سیاسی عدم استحکام سے دوچار کر رکھا ہے ، جو عوام میں یقینا بے چینی کا بڑا سبب ہے ۔
اب آئیے بنگلہ دیش کے حالات کی طرف، خاص طور اس خونی احتجاج کی طرف جس نے بانی بنگلہ کی بیٹی کو ملک سے دم دبا کر بھاگنے پر مجبور کیا۔یاد رہے، یہ احتجاج کسی سیاسی پارٹی کا نہیں بلکہ ایک قومی احتجاج تھا ۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں صرف قومی پرچم تھا۔ احتجاج الیکشن میں دھاندلی کے خلاف اور نہ کسی ریاستی ادارے کے خلاف تھا۔ نہ آرمی یا آرمی چیف کی ترقی و تعیناتی کے خلاف۔ کسی کو وزیرِ اعظم بنانے اور نہ ہٹانے کے لیے تھا۔ نہ کسی اسیر راہنما کی رہائی کے لیے تھا ۔ حتی کہ احتجاج مہنگائی، فسطائیت اور حکمرانوں کے جبر کے خلاف بھی نہ تھا۔ احتجاج تھا ان کے خلاف جنھوں نے 1971 ء میں متحدہ پاکستان سے غداری کرکے اس کو دولخت کیا تھا ۔ احتجاج تھا مکتی باہنی کی اولادوں کیلئے سرکاری ملازمتوں میں مختص کردہ تیس فیصد کوٹہ کے خلاف ، جو بڑھتا ہوا اک طوفان بنا اور مجیب الرحمان کی بیٹی کو نشانِ عبرت بنا گیا ، بانی بنگلہ کی پوری نسل کا دھرتی سے نام و نشان مٹا گیا ۔
بپھرے ہوئے مظاہرین نے ملکی مفاد کو ضرب نہیں لگائی ۔اپنے ملکی مفاد کو مقدم رکھا ۔ سوشل میڈیا کو اپنے ملک کے خلاف استعمال نہیں کیا ۔ ریاست کے خلاف بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور دشمنوں کو خط نہیں لکھے ۔اوورسیز بنگالیوں نے کسی بھی ملک میں اپنے ملک ، فوج اور دیگر اداروں کے خلاف احتجاج کیا نہ نفرت کا زہر پھیلایا ۔ سب سے بڑھ کر انہوں نے ملک اور عوام کو شخصیات سے مقدم جانا ،جس کا ثبوت انہوں نے بانی بنگلہ دیش کے مجسمے مسمار اور اس کی بیٹی کو اقتدار سے محروم کر کے دیا ہے ۔ کسی کو مرشد یا اوتار کے رتبے پہ فائز کر کے ملک کو ثانوی حیثیت پہ لا کھڑا نہیں کیا ۔
یاد نہیں پڑتا کہ احتجاجی طلبہ نے امریکہ ، بھارت یا کسی اور ملک سے نظام بدلنے کے لئے مدد مانگی ہو ۔سب سے بڑھ کر پوری قوم ان کے موقف کے ساتھ کھڑی ہو گئی تھی ۔ کیونکہ احتجاج کرنے والوں کی اپنی ذات پہ کسی الزام یا جرم کا کوئی داغ نہ تھا ۔ ان کی صفوں میں ماضی کی حکومتوں کا حصہ رہنے والا کوئی جاگیر دار اور نہ کوئی سرمایہ دار تھا ۔ بس اک خود رو پودے کی طرح جنم لینے والی تحریک تھی جو آب استقامت اور ایثار سے معراج نصرت کو پہنچی ۔
کیا وطن عزیز میں حالات اور ان کے محرکات ایسے ہیں ؟ جواب یقینا نفی میں ہے ۔ تو پھر خود ہی سوچیے ! کیا بنگلہ دیش کے حالات کا پاکستان کے ساتھ کوئی موازنہ کیا جاسکتا ہے؟

یہ بھی پڑھیں