Search
Close this search box.
اتوار ,14 جون ,2026ء

یحییٰ السنوار

اسما عیل ہنیہ شہید کی تدفین کے بعد سے حماس کے نئے سربراہ کے لئے صلاح مشورے جاری تھے۔ بالآخر اب تنظیم نے نئے سربراہ کے نام کا اعلان کر دیا ہے اور وہ ہے یحییٰ السنوار،حماس کے بانی شیخ احمد یاسینؒ تنظیم کے عمومی سربراہ تھے۔ ان کے بعد سے جماعت میں عمومی قیادت کسی ایک فرد کے پاس نہیں ہوتی. سیاسی اور عسکری شعبوں کے الگ الگ سربراہ ہوتے ہیں۔ شوریٰ دونوں حصوں کو دیکھتی ہے، البتہ چونکہ سیاسی بیورو چیف کا چہرہ دنیا کے سامنے ہوتا ہے، اس لئے اسے ہی عموماً قائد کہہ دیا جاتا ہے۔
قیادت کے لئے سنوار کے نام پہ اتفاق کا امکان ضرور تھا مگر غالب امکان یہی تھا کہ خالد مشعل یا خلیل الحیہ میں سے کسی ایک کو منتخب کیا جائے گا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو یہ لوگ قطر میں موجود ہیں، جہاں واقع سیاسی دفتر دیگر ممالک سے رابطے رکھتا ہے،پھر اس وقت اگرچہ اسرائیل پہ بھی بے پناہ دبائو ہے،عوامی مظاہروں کی ایک لہر ہے جو جنگ کی ابتدا سے چلی آرہی ہے، سیاسی رہنمائوں میں سے بہت سے لوگ جنگ بندی کی بات کرتے ہیں،ریاست کا عملی طور پر پہیہ جام ہوچکا ہے، مگر دوسری طرف غزہ میں قحط کی سی صورت حال ہے اور بہت زیادہ جانی نقصان ہو رہا ہے، اس لئے اگر اس مرحلے پر بھی جنگ رک جاتی ہے تو اسے حماس کی کامیابی ہی تصور کیا جائے گا،کیونکہ اسرائیل مزاحمتی تنظیم کے خاتمے اور قیدیوں کی رہائی کی صورت میں اپنے متعین کردہ دونوں اہداف سے دور ہے۔ ہنیہ شہید کی شہادت سے قبل مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا۔اس لئے اس تمام تر منظر نامے کو دیکھتے ہوئے بظاہر ایسا لگتا تھا کہ جنگ بندی اور مذاکرات کے پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے ان دونوں شخصیات میں سے کسی ایک کا انتخاب کیا جائے گا مگر شوریٰ نے اپنے فیصلے سے حلیف اور حریف ہر ایک کو چونکا دیا ہے۔
اسماعیل ہنیہ شہید کے نائب صالح العاروری تھے، جنہیں دو جنوری کو اسرائیل نے بیروت میں ایک ڈرون حملے میں شہید کر دیا تھا اگر وہ زندہ ہوتے تو یقینا وہی ذمہ داری سنبھالتے۔ خالد مشعل، اسما عیل ہنیہ شہید کے بعد سب سے قدآور رہنما ہیں، زیرک ہیں،معتدل مزاج ہیں۔ سیاسی پینتروں کو سمجھتے ہیں،ہنیہ شہید سے قبل بھی وہ سیاسی شعبے کے سربراہ رہ چکے ہیں۔مگر ان کے عدمِ انتخاب کی وجہ ماضی کی ایک سیاسی غلطی بھی ہوسکتی ہے۔ وہ یہ کہ انہوں نے 2011 ء میں عرب بہار نامی بغاوت کی حمایت کی تھی، وہ شام میں بھی عوامی جدوجہد کے حق میں تھے، ان کی نمایاں حیثیت کی وجہ سے اسے ایک طرح سے حماس کا آفیشل موقف سمجھا گیا، ایران، شام اور حزب اللہ تینوں ان سے ناراض ہو گئے، تب لبنان میں حزب اللہ کے سرکردہ لوگوں نے ان سے ملنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔اگرچہ بعد میں حماس کے ایک وفد نے خلیل الحیہ کی سربراہی میں شام کا دورہ کیا تھا اور بشار الاسد سے ملاقات کی تھی، جس کے بعد حالات کچھ معمول پہ آگئے تھے،چونکہ حماس کو اس وقت ایران اور حزب اللہ وغیرہ کی حمایت درکار ہے۔تنظیم کسی ایسے شخص کو قائد کے طور پر سامنے نہیں لانا چاہتی تھی، جو ماضی میں حامیوں سے ناراضگی کا باعث بنا ہو،اس لئے ان کے انتخاب کے امکانات کم تھے۔عدمِ انتخاب کی دوسری وجہ ان کی نرمی اور متعدل مزاجی ہے۔
خلیل الحیہ بھی اسماعیل ہنیہ شہید کے قریبی ساتھیوں میں سے ہیں، جانا پہچانا چہرہ ہیں، ان کے ایران کے ساتھ ساتھ ترکیہ اور قطر سے بھی بہتر تعلقات ہیںمگر وہ بھی خالد مشعل اور ہنیہ شہید کی طرح نرم اور شبنمی مزاج رکھتے ہیں جبکہ یحییٰ سنوار دشمنوں پر جھپٹنے کے معاملے میں سیدنا سیف اللہ خالد اور حضرت ضرار بن آزور کی جہادی جھلک اور شان رکھتے ہیں، یحییٰ سنوار بندوق اور میزائل کی زبان سے گفتگو کا آغاز کرنے والے لیڈر ہیں چنانچہ ان کے انتخاب کے بعد اسرائیل اپنے دفاعی سسٹم آئرن ڈوم کو پلٹ پلٹ کر دیکھ رہا ہے مگر کب تک؟ لگتا یوں ہے کہ سنوار کی تعیناتی کرکے حماس نے اسرائیل کو جواب دینے کی کوشش کی ہے کہ اگر نیتن یاہو جنگ بندی نہیں چاہتے تو ہمیں بھی کوئی شوق نہیں، لہٰذا ہم اپنی صف میں موجود سب سے سخت گیر شخص کو رہنما کے طور پر منتخب کرتے ہیں۔
اتفاق سے یحییٰ سنوار بھی اسماعیل ہنیہ شہید کی طرح مقبوضہ عسقلان سے تعلق رکھتے ہیں. سابق سربراہ کے خاندان کی طرح ان کا خاندان بھی 1948ء میں ہجرت کر کے غزہ میں آباد ہوا تھا۔ یہیں پہ پلے بڑھے اور تعلیم حاصل کی۔ حماس کے قیام کے بعد اس میں شامل ہوئے اور انٹرنل سیکورٹی کے ذمے دار تعینات کئے گئے1988 ء میں گرفتار ہوئے 22 سال جیل میں رہنے کے بعد 2011 ء کو اسرائیلی فوجی ’’جعلاد شالیت ‘‘کی رہائی کے بدلے رہا کئے جانے والے دیگر سینکڑوں فلسطینیوں کے ساتھ رہا ہوئے،سیاسی بیورو کے سربراہ منتخب ہونے سے قبل غزہ میں تنظیم کے سیاسی بیورو چیف تھے۔ ان کی سخت گیری، دانشمندی، ذہانت اور قائدانہ صلاحیتوں کے اپنے پرائے سبھی معترف ہیں، اسرائیل ان کی رہائی کو سنگین غلطی قرار دیتا ہے۔ ایران اور حزب اللہ سے اچھے تعلقات ہیں۔ حالیہ جنگ کے نقشہ گر بھی وہی ہیں،یہ عسکری چیف محمد ضیف کے ساتھ غزہ میں ہی موجود رہے ، ان کی ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمے داری عسکری اور سیاسی شعبے کو ایک دوسرے سے باخبر اور باہم جوڑے رکھنا بھی تھا۔ اب جب کہ سیاسی شعبے کے سربراہ بھی منتخب ہوچکے ہیں اور محمد ضیف کے ساتھ مل کر عملی طور پر جنگ کی قیادت بھی کر رہے ہیں۔اس لئے ان کی فعالیت اور کارکردگی میں مزید نکھار آئے گا اور حریف کے لئے حقیقی معنوں میں چیلنج ثابت ہوں گے. قطر دفتر بھی ان سے ہدایات لے کر اپنا کام جاری رکھے گا۔ فی الحال مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، جب ثالثوں کی جانب سے اقدامات اٹھائے جائیں گے اور دوبارہ گفت و شنید کا آغاز ہوگا، تب اندازہ ہوگا کہ سنوار کس طرح کی سیاسی حکمت عملی اپناتے ہیں۔
جیساکہ عرض کیا کہ سنوار کا انتخاب ایک طرح سے نیتن یاہو کو جواب ہے، اسی طرح یہ اسرائیلی سیکورٹی فورسز کے لئے بھی چیلنج ہے کہ تم نے ہمارے رہنما کو ایک تیسرے ملک میں جاکر قتل کر دیا، جو اپنی سلامتی اور تحفظ کے حوالے سے اس ملک پہ انحصار کرتے تھے۔ اس وقت عسکری اور سیاسی دونوں قیادتیں کہیں اور نہیں، بلکہ غزہ میں موجود ہیں، ہمت ہے تو ان کا بال بیکا کرکے دکھائو؟

یہ بھی پڑھیں