(گزشتہ سے پیوستہ)
ملاحظہ فرمائیں،آج ان علامات میں سے کون سی علامت ہے جو معاشرے میں نہیں پائی جا رہی۔قومی خزانے کو حکمرانوں سے لے کر عوام تک جس کا بھی داؤ چلتا ہے خوب لوٹ رہا ہے،جس آدمی کا جتنا بڑا ہاتھ ہے اتنا ہی زیادہ وہ قومی خزانے کو زیادہ لوٹ رہا ہے،بجلی کی چوری،فون کی چوری،یہ بھی قومی خزانے کی ہی چوری ہے،اور عام چوریوں سے زیادہ خطرناک اور جرم کے لحاظ سے عام چوری سے زیادہ سنگین ترین جرم ہے،جسے عوام میں بھی بڑے پیمانے پر کیا جا رہا ہے۔عام چوری تو معاف کروانا آسان یا اس کو چوری شدہ چیز واپس کرنا بھی آسان،لیکن قومی خزانے میں کروڑوں انسانوں کا حصہ ہے اور ہر انسان کی اس میں ملکیت ہے،اگر ایسے مال کو چوری کیا جائے تو کس کس سے معاف کروائے گا،اور جب تک حقدار معاف نہیں کریں گے اس وقت تک معاف نہیں ہو گا۔اسلئے اس سے اجتناب بھی اشد ضروری ہے،اسی طرح مساجد میں آوازوں کا بلند ہونا آج رواج بن چکا ہے، مسجد یں صرف اور صرف اﷲ کے ذکر اور عبادت کیلئے ہیں،لیکن آج کل مسجدوں میںسیاسی گپ شپ،دنیا کی باتیں،ہنسی مذاق تک عام ہو گیا ہے،اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ یہ اﷲ کا گھر ہے اس کی حرمت اور تقدس کا تقاضا یہ ہے کہ اس میں اﷲ کے ذکر اور عبادت کے علاوہ اور کوئی کا م نہ ہو۔
اسی طرح ہر گھر میں گانے بجانے والی عورتیں اور آلات موسیقی ٹی وی،وی سی آر،ریڈیو کی شکل میں ڈیرہ جما چکے ہیں۔پہلے زمانے میں شاذ و نادر کسی گھر میں گانے بجانے والی عورتیں اور آلات موسیقی ہوتے تھے اور نہ ہی ہر آدمی اس کی استطاعت رکھتا تھا،لیکن آج کے دور میں ریڈیو،ٹی وی،وی سی آر نے یہ کمی پوری کر دی ہے۔
شراب کو شربت کا نام دیا جائے گا اور شربت کہہ کر اس کو حلال بنانے کی کوشش کی جائے گی،اس کو حلال بنانے کیلئے لوگ مختلف قسم کی تاویلیں کریں گے،مثلاً یہ کہ قرآن کریم میں کیا لکھا ہوا ہے کہ شراب حرام ہے،قرآن میں کسی جگہ شراب کے متعلق حرام کا لفظ نہیں آیا،اس لئے یہ حرام نہیں۔آج کل بئیر نامی شراب ملتی ہے،پینے والے لوگ کہتے ہیں کہ یہ جو کا پانی ہے اور جس طرح اور شربت ہوتے ہیں اسی طرح یہ بھی ایک شربت ہے،اگر باقی شربت حلال ہیں تو یہ کیوں حرام ہے ؟یہ بھی حلال ہے،باقاعدہ اس موضوع پر لوگوں نے کتابیں اور مقالے لکھے ہیں کہ موجودہ شراب حرام نہیں۔یہ خبر آج سے چودہ سو سال پہلے آپ نے دی تھی،جو کہ من و عن صادق چلی آ رہی ہے۔
سود کو تجارت کا نام دیا جائے گا۔آج کل ہمارا معاشی نظام مکمل سودی بنیادوں پر استوار ہے،ہمارے ارد گرد پھیلا ہوا بینکاری نظام جس کو تجارت کی ایک شکل قرار دیا جا رہا ہے،حالانکہ سو فیصد سودی نظام ہے،اسکے تحفظ اور بقا کیلئے حلال اور جائز ہونے کیلئے باقاعدہ ترجمانی کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اگر اس کو ختم کر دیا گیا تو ہماری معیشت تباہ ہو جائے گی،ہمارے ملک کی شرعی عدالت نے سود کو حرام قرار دے کر پورے ملک میں اس کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تو ہمارے ملک کی سپریم کورٹ میں اس کو چیلنج کر دیا گیا،سپریم کورٹ سے اس فیصلے کے خلاف حکم امتناعی لے لیا گیا،اسی طرح ایک حدیث میں آپﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ جب رشوت کو ہدیہ کا نام دیا جائے گا،یعنی رشوت ہدیے کے طور پر وصول کی جائے گی،اور جس طرح ہدیہ حلال ہے اسی طرح رشوت کو بھی حلال سمجھا جائے گا،آج کل رشوت دینے اور لینے کا یہ مہذب طریقہ سمجھا جاتا ہے،اور ہدیہ کے عنوان سے یہ ساری حرام خوری ہو رہی ہے،آپﷺ نے فرمایا کہ جب یہ ساری علامات ظاہر ہونا شروع ہو جائیں تو سمجھ لو کہ اس امت کی ہلاکت کا وقت قریب ہے۔یہ ساری باتیں اﷲ محفوظ فرمائے،ہمارے آ ج کے دور پر پوری صادق آ رہی ہیں۔(کنز العمال حدیث نمبر ۳۸۴۹۷)
ایک اور حدیث میں مبارکہ میں آپ نے دورِ فتنہ کی علامات بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ، ’’لوگ میاسر پر سوار ہو کر آئیں گے اور مسجد کے دروازے پر اتریں گے‘‘ میاسر عربی زبان میں بڑے قیمتی ریشمی کپڑے کو کہا جاتا ہے جو اس زمانے کے بڑے سرمایہ دار لوگ اپنے گھوڑے کی زین پر ڈالا کرتے تھے، اور کشن کے طو پر اسکو استعمال کرتے تھے، یعنی آپﷺ کے فرمان مبارک کا مطلب یہ ہے کہ لوگ کشنوں پر سوار ہو کر مسجد آئیں گے اور مسجدوں کے دروازوں پر آ کر اتریں گے، آج سے چند برس پہلے تک اس کا تصور محال تھا، لیکن آج کے دور میں اسکا مشاہدہ عام ہے لوگ اپنی گاڑیوں پر سوار ہو کر مسجد میں آتے ہیں اور گاڑیاں مسجد کے دروازے پر کھڑی کر کے اس سے اترتے ہیں۔آگے فرمایا:
’’عورتیں لباس پہننے کے باوجود ننگی ہونگی، مائل کریں گی ( غیر محرم مردوں کو) ( اور غیر محرم مردوں کی طرف) خود بھی مائل ہونگی‘‘۔
حضور نبی کریمﷺ جس وقت یہ بات ارشاد فرماتے تھے، اس وقت اس بات کا تصور بھی محال تھا۔ اور اس بات کا سمجھنا بھی دشوار تھا کہ عورتیں لباس پہننے کے باوجود ننگی ہونگی۔ لیکن آج کے دور میں چاروں طرف مشاہدہ کیا جا سکتا ہے، عورتیں لباس پہننے کے باوجود کس طرح ننگی ہیں، عورتوں کا لباس یا تو اتنا خیست اور چھوٹا ہے کہ جسم کی شناخت اور بناوٹ پوری طرح نظر آتی ہے، یا لباس اتنا باریک ہے کہ جسم اس سے نظر آ رہا ہوتا ہے، آگے فرمایا کہ ان عورتوں کے سروں پر اونٹوں کے کوہان جیسے بال ہوں گے۔‘‘
یہ بات بھی اس وقت تصور سے بھی بعید تھی کیونکہ اس وقت عورتیں اپنے سر کے بالوں کی مینڈیاں بنا کر مکمل طور پر مستور رکھتی تھیں لیکن آج کے دور میں عورتیں بالوں کو اکٹھا کر کے ان کا جوڑا بنا کر سر کے اوپر باندھ دیتی ہیں، اور ان کے سر پر اس کا ابھار بالکل اونٹ کے کوہان کی طرح معلوم ہوتا ہے۔ یہ باتیں ارشاد فرمانے کے بعد آپﷺ نے فرمایا: ’’ ایسی عورتیں ملعون ہیں، ایسی عورتوں کو جنت کی خوشبو تک بھی نصیب نہ ہوگی حالانکہ اسکی خوشبو پانچ سو سال کی مسافت کی دوری تک بھی سونگھائی دے گی‘‘۔(العیاذ باﷲ)
آج کے دور میں مذکورہ بالا تمام علامات عورتوں میں نظر آرہی ہیں بالخصوص روشن خیالی کی وبا نے اس لعنت کو مزید فروغ دیا ہے، عورتیں برائے نام لباس پہنتی ہیں انتہائی بھڑکیلا اور سترپوشی کے مقصد سے بالکل عاری جنہیں دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے، جس لباس سے جسم پوشی نہ ہو اس کو لباس کہنا لباس کی توہین ہے قرآن کریم نے لباس کا مقصد یہ بیان فرمایا ہے۔
یٰبَنِیْ آدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاساً یُّوَارِیْ سَوْاٰتِکُمْ وَرِیْثًا
’’اے ابن آدم ہم نے لباس اس لئے اتارا تاکہ وہ تمہارے ستر کو چھپائے اور تمہارے لئے زینت کا سامان ہو‘‘۔