31 جولائی کو ایرانی دارالحکومت تہران میں حماس کے پولیٹیکل بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے قتل نے غزہ میں جنگ کے راستوں اور اس سے منسلک علاقائی محاذ آرائی پر اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں سوالات کا ایک طوفان کھڑا کر دیاہے مثلاً مذاکرات کاسلسلہ کیسے آگے بڑھے گا اور تحریک کی اندرونی صورتحال اور بیرونی دنیا کے ساتھ اس کے تعلقات کس نوع کے ہوں گے۔ تاہم حماس کا غزہ میں اسماعیل ہنیہ کی جگہ پنے سربراہ یحییٰ سنوار کا انتخاب، اس بات کی واضح جھلک ہے کہ تحریک آئندہ جنگ میں اپنی حکمت عملی کو کس طرح منظم کرے گی۔
یہ انتخاب اگرچہ بہت سے لوگوں کو حیران کن معلوم ہوتا ہے جنہوں نے مختلف وجوہات کی بنا پر تحریک کے سیاسی ونگ سے کسی شخصیت کے اس عہدے پر فائز ہونے کی توقع کی تھی، لیکن ہنیہ کی شہادت اورحالیہ جنگ کے بعد، جنگ نے جو نیا رخ اختیار کیا ہےاس کا ایک فطری نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔یہ انتخاب، اسرائیل کے لئے بڑھتی ہوئی کشیدگی اور علاقائی خطرات میں اضافے کاباعث ہو سکتا ہے۔
اس انتخاب میں ایک اہم عنصر کے طور پر تحریک کی اندرونی وجوہات بتاتی ہیں کہ سنوار، جسے 7 اکتوبر کے حملے کے انجینئر کے طور پردیکھاجاتا ہے، یہ جنگ کے بعد کئی ماہ گزرجانے کے باوجوداب بھی مؤثر طریقے سے زمین پرمزاحمت کی قیادت کر رہا ہے، کیونکہ اسرائیل، اپنی تمام جدید فوجی، انٹیلی جنس اور جاسوسی صلاحیتوں کےباوجود اس تک پہنچنے اور اسے قتل کرنے سے قاصر ہے لہذا یحیٰ سنوار کا انتخاب اس اعتماد کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ سیاسی اور عسکری تحریک کے دونوں بازوئوں میں سنوار ایک مضبوط شخصیت کے طور پر موجود ہیں جو جنگ کے وقت اندرون ملک اور بیرون ملک حماس کو سنبھالنے کے قابل ہیں۔
اس کام کے لیے ان کا انتخاب اس لئے ضروری تھا کہ حماس اپنے دونوں بازوئوں یعنی اندرون ملک فوج اور بیرون ملک سیاسی ونگ کے درمیان ہم آہنگی کو ثابت کرے تاکہ ان الزامات کی تردید ممکن ہوسکے جو اسرائیل، عسکری اور سیاسی ونگز کے درمیان تقسیم کے بارےمیں عائد کرناچاہتا ہے۔ سنوار کے بیرونی دنیا سے الگ تھلگ ہونے اور ہنیہ کی جانشینی پر تحریک کے اندر تنازعات کے باوجود سنوار کا انتخاب حماس کی جانب سے تین واضح اور نمایاں پیغامات دے رہا ہے۔ غزہ اور بیرون ملک اس کے ونگز کے درمیان تعلقات کی سطح پر داخلی ہم آہنگی کا مظاہرہ کرنے کے علاوہ، سنوار کا انتخاب قبضے کے خلاف مزاحمت کا پیغام دیتا ہے، جس میںواضح کیاگیا ہے کہ تحریک اب بھی مضبوط ہے اور ہنیہ کی شہادت کے بعدجنگ کے نئے مرحلے کی طرف سے مسلط کردہ چیلنجز کے باوجود نئی قیادت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اسرائیل اگرچہ غزہ میں مزاحمت کے عزم کو روکنے اور اپنی عسکری اور انٹیلی جنس صلاحیتوں کو ظاہر کرنےاور اپنے ڈیٹرنس کے تصور کو بحال کرنے کے لیے(جس میں 7 اکتوبر کے حملے کے بعد شگاف پڑ گیا تھا)تحریک کے سیاسی بیورو کے سربراہ کو بیرون ملک قتل کرنے میں کامیاب تو ہوگیا لیکن اب اسے نہ صرف الاقصیٰ طوفان کے انجینئراور زمینی مزاحمت کے رہنمابلکہ حماس کے سیاسی رہنما کے طور پر بھی سنوار کا سامنا کرنا پڑے گا۔
سنوار جسے اسرائیل 7 اکتوبر کےحملےکا بنیادی طور پر ذمہ دار ٹھہراتا ہے اس سنوار تک رسائی اورقتل میں صہیونی فوج اور انٹیلی جنس کی ناکامی کی وجہ سے اسرائیل کو اندرونی طور پر جو شرمندگی درپیش ہے ،سنوار کے انتخاب کی صورت تحریک نے پیغام دے کر نیتن یاہو کی مزید تذلیل کی ہے۔ اس انتخاب کے بعد نیتن یاہو کو ہنیہ کے قتل اور اہداف کے حصول میں کامیابی کے طور پر قسام بریگیڈز کے کمانڈر انچیف محمد دیف اور ان کے نائب مروان عیسیٰ کے قتل کے دعوئوں پر سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ نیتن یاہو اس جنگ میں اپنے ہی گھر (اسرائیل) میں متنازعہ بن چکاہے اور اسے ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھا جارہا ہے جو بنیادی طور پر اسرائیل کے تذویراتی تعطل کا ذمہ دار ہے۔ اس بات کا امکان نہیں ہے کہ حماس اور حزب اللہ کے رہنماؤں کے قتل اس کی قیادت کو اس سطح پر بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے جو جنگ سے پہلے تھی ، اس کی بھاری سیاسی قیمت اسے بالآخر چکانا پڑے گی۔ شہید اسماعیل ہنیہ کو حماس کے سیاسی ونگ کے اندر جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک محرک کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ یہ بذات خود واضح ہے کہ ہنیہ کا قتل جزوی طور پر اس طرح کے معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کو کمزور کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ حماس، بہت سے اسرائیلی جو قیدیوں کی واپسی چاہتے ہیں اور خود امریکہ بھی اس بات پر متفق ہے تاہم جوجنگ کے خاتمے کے معاہدے میں رکاوٹ ہے وہ خود نیتن یاہو کی اپنی زات ہے۔ درحقیقت ہنیہ کے قتل نے واضح طور پر نیتن یاہو کی طرف سے معاہدے سے بچنے اور جنگ کو زیادہ سے زیادہ طول دینے کے لیے مذاکرات میں کیے جانے والےدھوکے کا واضح ثبوت دیاہے۔ ہنیہ کے جانشین کے طور پر سنوار کا انتخاب کر کےحماس نے مذاکرات کی فائل کے حوالے سے تین پیغامات دیئے ہیں۔ پہلا یہ کہ جب تک نیتن یاہو دنیا کو دھوکہ دیتے رہیں گے، حماس کی جانب سے مذاکرات صحیح معنوں میں آگے نہیں بڑھیں گے۔دوسرا یہ کہ مذاکرات میں تحریک کے آخری لفظ کا تعین زمینی مزاحمت سے ہے۔ تیسرا یہ ہے کہ ثالثوں کو مستقبل میں کسی بھی ممکنہ معاہدے کے فریم ورک کا تعین کرنے کے لیے ابھی سے سنوار سے نمٹنا پڑے گا۔ اس کے سیاسی رہنما کے طور پر سنوار کے انتخاب کے ممکنہ مضمرات سے قطع نظر حماس کی بنیادی ترجیح غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی جانب سےفلسطینیوں کے قتل عام کا خاتمہ اور 7 اکتوبر کے بعد فلسطینی کاز کے ذریعے حاصل ہونے والے اسٹریٹجک فوائد کو محفوظ رکھنے والے معاہدے تک پہنچناہے۔
(محمود اللوچ)