قائد اعظم محمد علی جناحؒ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے وہ عظیم سیاسی رہنما ہیں جن کی کوششوں سے پاکستان کے نام پر اس وقت ایک ایسی اسلامی سلطنت وجود میں آئی، جب دنیا بھر میں ریاست کے ساتھ مذہب کا تعلق ختم کرنے کا سلسلہ عروج پر تھا، حتیٰ کہ اسلامی خلافت کی نمائندگی کرنے والی سلطنتِ عثمانیہ بھی اپنا وجود کھو چکی تھی، اور خلافتِ عثمانیہ کے مرکز ترکی نے یورپ کی پیروی میں ریاست اور اجتماعیت کے ساتھ اسلام کا تعلق منقطع کر کے سیکولر ملک کا روپ دھار لیا تھا۔
ایسے ماحول میں مغرب کے تعلیم یافتہ ایک سوٹڈ بوٹڈ سیاسی رہنما کا اسلام کے نام پر ایک نئے ملک کے قیام کی مہم چلانا اور پھر ایسی ریاست قائم کر دینا اچنبھے کی بات معلوم ہوتی ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ مفکرِ پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کی فکری رہنمائی کا کرشمہ تھا جنہوں نے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کو اس راستے پر لگایا، اور جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو اپنے لیے ایک الگ ریاست کا تصور پیش کر کے انہیں ایک نئی سیاسی مہم کی بنیاد فراہم کی۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے اور یہ امرِ واقعہ ہے کہ پاکستان کے فکری رہنما اصل میں علامہ اقبالؒ ہی ہیں، انہی کی سوچ اور فکر نے جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو اپنے لیے الگ ملک کے حصول کی جدوجہد پر آمادہ کیا۔ جبکہ قائد اعظمؒ کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کے ان جذبات کی کامیاب سیاسی ترجمانی کی اور ایک اچھے وکیل کا کردار ادا کیا۔
لیکن کیا قائد اعظمؒ کا اسلام کے ساتھ اتنا ہی تعلق تھا اور اسلام کے حوالے سے ان کی کوئی اپنی سوچ اور جذبات نہیں تھے؟ جب ہم قائد اعظمؒ کے مختلف بیانات، تقاریر اور بہت سے اہم مواقع پر ان کی طرف سے اظہارِ خیال پر غور کرتے ہیں تو اس بات کی نفی ہوتی ہے اور اندازہ ہوتا ہے کہ وہ خود بھی اسلام کے بارے میں واضح جذبات اور موقف رکھتے تھے۔ اور ایک اسلامی ریاست کے قیام اور اس میں اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد میں وہ صرف وکیل نہیں تھے بلکہ خود بھی اس سلسلہ میں یہی موقف رکھتے تھے ۔ اور انہیں اپنے دور کے عالمی ماحول میں اسلام کے بارے میں دوسری قوموں کے خیالات، خاص طور پر مغرب اور اسلام کی فکری و تہذیبی کشمکش کا پوری طرح شعور تھا۔ ہم اس سلسلہ میں ان کے چند بیانات کا حوالہ دینا چاہیں گے:
مکتبہ محمود مکان نمبر ۱ رسول پورہ اسٹریٹ اچھرہ لاہور کے شائع کردہ ایک کتابچہ ’’نظریۂ پاکستان اور اسلام‘‘ کے مطابق آل انڈیا مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے جلسہ ۱۹۴۳ء سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظمؒ نے کہا کہ ’’مجھ سے پوچھا جاتا ہے کہ پاکستان کا طرزِ حکومت کیا ہو گا؟ پاکستان کا طرزِ حکومت متعین کرنے والا میں کون؟ یہ کام پاکستان کے رہنے والوں کا ہے، اور میرے خیال میں مسلمانوں کا طرزِ حکومت آج سے تیرہ سو برس قبل قرآن حکیم نے فیصل کر دیا تھا۔‘‘
اسی کتابچہ کے مطابق مہاتما گاندھی کے نام اگست ۱۹۴۴ء کے دوران تحریر کیے گئے ایک خط میں قائد اعظمؒ نے لکھا کہ ’’قرآن مسلمانوں کا ضابطۂ حیات ہے۔ اس میں مذہبی، مجلسی، دیوانی اور فوجداری، عسکری و تعزیری، معاشی اور معاشرتی غرض سب شعبوں کے احکام موجود ہیں۔ مذہبی رسوم سے لے کر روز مرہ امور تک، روح کی نجات سے لے کر جسم کی صحت تک، جماعت کے حقوق سے لے کر فرد کے حقوق و فرائض تک، اخلاق سے لے کر انسدادِ جرم تک، زندگی میں سزا و جزا سے لے کر عقبیٰ کی جزا و سزا تک ہر ایک قول و فعل اور حرکت پر مکمل احکام کا مجموعہ ہے۔ لہٰذا میں جب یہ کہتا ہوں کہ مسلمان ایک قوم ہیں تو حیات اور ما بعد حیات کے ہر معیار اور ہر مقدار کے مطابق کہتا ہوں۔‘‘
۱۵ جولائی ۱۹۴۸ء کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں قائد اعظمؒ نے کہا کہ ’’میں اشتیاق اور دلچسپی سے معلوم کرتا رہوں گا کہ آپ کی مجلس تحقیق بینکاری کے ایسے طریقے کیونکر وضع کرتی ہے جو معاشرتی اور اقتصادی زندگی کے اسلامی تصورات کے مطابق ہوں۔ مغرب کے معاشی نظام نے انسانیت کے لیے لاینحل مسائل پیدا کر دیے ہیں۔ اکثر لوگوں کی رائے ہے کہ مغرب کو اس تباہی سے کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے۔ مغربی نظام افرادِ انسانی کے مابین انصاف کرنے اور بین الاقوامی میدان میں آویزش اور چپقلش دور کرنے میں ناکام رہا ہے، بلکہ گزشتہ نصف صدی میں ہونے والی دو عظیم جنگوں کی ذمہ داری سراسر مغرب پر عائد ہوتی ہے۔ مغربی دنیا صنعتی قابلیت اور مشینوں کی دولت کے زبردست فوائد رکھنے کے باوجود انسانی تاریخ کے بدترین باطنی بحران میں مبتلا ہے۔ اگر ہم نے مغرب کا معاشی نظریہ اور نظام اختیار کیا تو عوام کی پرسکون خوشحالی حاصل کرنے کے لیے اپنے نصب العین میں ہمیں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ اپنی تقدیر ہمیں منفرد انداز میں بنانا پڑے گی۔ ہمیں دنیا کے سامنے ایک مثالی معاشی نظام پیش کرنا ہے جو انسانی مساوات اور معاشرتی انصاف کے سچے اسلامی تصورات پر قائم ہو۔ ایسا نظام پیش کر کے ہم گویا مسلمانوں کی حیثیت سے اپنا فرض سرانجام دیں گے، انسانیت کو سچے اور صحیح امن کا پیغام دیں گے کہ صرف ایسا امن ہی انسانیت کو جنگ کی ہولناکی سے بچا سکتا ہے، اور صرف ایسا امن ہی بنی نوع انسان کی خوشحالی کا امین ہو سکتا ہے۔‘‘
جناب محمد علی چراغ کی کتاب ’’قائد اعظمؒ کے مہ و سال‘‘ کے مطابق ۲۵ جنوری ۱۹۴۸ء کو کراچی بار ایسوسی ایشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائد اعظمؒ نے کہا کہ ’’اسلامی اصول و ضوابط آج بھی اسی طرح قابلِ عمل ہیں جس طرح آج سے تیرہ سو برس قبل تھے۔
(جاری ہے )