Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

فوج کا ادرہ جاتی نظام ِاحتساب

انصاف اور توازن کی کئی حوالوں سے یکساں اہمیت ہے ۔ کسی بھی ڈھانچے کی بقا ، پائیداری، پختگی اور مجموعی قبولیت کے لیے دونوں ناگزیر ہیں ۔جیسے توازن میں بگاڑ پوری عمارت کو لرزا دیتا ہے، نظام ِعدل و انصاف میں سقم معاشرے کو بکھیر دیتا ہے ۔ کسی بھی ادارے کی فعالیت، معاشرے کی مضبوطی اور امن و امان کی فضا کے لئے نظم و ضبط کی موجودگی اور عملداری نہایت ضروری ہے۔ پاک فوج اس حوالے سے شاندار روایات کی حامل ہے۔اس میں جزا و سزا کا جامع نظام اور نظم و ضبط کے طے شدہ اصول و قوانین رائج ہیں ، جن کا بلاتفریق اطلاق ہر عہدے دار پر ہوتا ہے ۔ جوان سے لے کر جنرل تک سب کا احتساب ایک ہی طرح اور طریقہ کار سے ہوتا ہے ۔ اس کا درست اندازہ صرف وہ ہی کر سکتا ہے جو سسٹم کا حصہ رہا ہو ۔ مجھے اتفاق سے یہ سہولت حاصل ہے ۔
فوج کا نظام سمجھنے کے لیے اس کا زمانہ امن و جنگ کا معمول اور کردار سمجھنا ضروری ہے ۔ زمانہ امن میں یہ خود کو جنگ کے لیے تیار کرتی ہے ، جس کے لیے مختلف تربیتی سرگرمیاں ہوتی ہیں جو جنگ اور امن کی ذمہ داریوں کے تناظر میں تشکیل دی جاتی ہیں ۔ جبکہ جنگی حالات میں ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنا اور اس کو محفوظ بنانا ہوتا ہے ۔یعنی فوج کا بنیادی مقصد ملک کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہوتا ہے ۔ یہ کام بڑا کٹھن، جرات اور ہمت طلب ہے ۔ جو ہر طرح کی قربانی اور اعلیٰ نظم و ضبط کا تقاضا کرتا ہے ۔ تجربہ اور مشاہدہ یہی بتاتا ہے فوج کی کار کردگی اور اتحاد مضبوط ادارہ جاتی ڈسپلن کے مرہون ِمنت ہوتا ہے ۔ ڈسپلن واحد عنصر ہے جس کی پاسداری کرنے والے کو جزا اور خلاف ورزی کرنے والے کو سزا دی جاتی ہے ۔ ڈسپلن کا دائرہ کار بڑی وسعت رکھتا ہے،جس کا اطلاق صرف حاضر سروس ہی نہیں بلکہ ریٹائرڈ افراد پر بھی ہوتا ہے ۔ خود احتسابی کا عمل بھی ڈسپلن کے بطن سے نکلتا ہے ۔ جس کے خوف سے ہر اہلکار راہِ راست پر چلنے کی از حد کوشش کرتا ہے ، کیونکہ فوج جیسے منظم ادارے میں ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف بلاتخصیص فوری تادیبی کارروائی کی جاتی ہے ۔
جزا سزا کے اس عمل کے اثرات کو افسروں اور جوانوں کو روزِ اول ہی سے ذہن نشین کرا دیا جاتا ہے ، جو عمر بھر قائم رہتے ہیں ۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی افسروں کی تربیت کا ادارہ ہے ۔ آزاد سول ماحول سے جب ایک بچہ فوجی ماحول میں پہنچتا ہے تو اس کی خاص خطوط پر تربیت کی جاتی ہے ۔ اس تربیت کا کلیدی پہلو ڈسپلن یعنی نظم و ضبط ہوتا ہے ۔ جس کی بھٹی میں ڈال کر کیڈٹ کو کندھن بنایا جاتا ہے ۔ان کی ذہن اور کردار سازی کی جاتی ہے ۔ کردار سازی کا اہم پہلو انٹیگرٹی یعنی دیانت داری ہوتی ہے ۔ کسی بھی کیڈٹ کی انٹیگرٹی کا ذرہ بھر بھی شائبہ ہو تو اسے نکال باہر کیا جاتا ہے ، بڑی کڑی سزا دی جاتی ہے ۔ کلاس میں نے روٹین امتحان کے دوران آپس میں بات کرتے کیڈٹس کو ریلیگیٹ ہوتے دیکھا ہے۔نقل کرنے والے کو رسوا کن طریقے سے اکیڈمی سے خارج ہوتے دیکھا ہے ۔ ممنوع گرائونڈ سے شارٹ کٹ لگانے والوں کو سخت جسمانی سزا ملتے دیکھی ہے ۔ یوں کہیے کہ ڈسپلن گھوٹ کر کیڈٹس کے دماغوں میں ڈال دیا جاتا ہے ، جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے رگ و پے میں اتر جاتا ہے بلکہ فطرت کا حصہ بن جاتا ہے۔یہ جو افسر اور جوان سینہ تان کر جنگ میں بارش کی طرح برستی گولیوں میں احکامات کی تعمیل کرتے آگے بڑھتے رہتے ہیں تو یہ سب ڈسپلن کا کمال ہے ۔ جب ڈسپلن اور شجاعت مل جائیں تو یہ سونے پہ سہاگہ کے مترادف ہے ۔ مقام شکر اور فخر ہے کہ ہماری فوج کا مجموعی خاصہ بھی یہی ہے ، جو اسے دنیا کی دیگر افواج سے منفرد اور ممتاز کرتا ہے ۔ دورانِ سروس اچھے ڈسپلن اور بھر پور محنت کا مظاہرہ کرنے والا کوئی بھی آفیسر یا جوان ، آسانی سے کامیابی و ترقی سے ہمکنار ہو جاتا ہے ۔ جو اس کے برعکس کرتا ہے اس کو نتیجہ بھی ایسا ہی ملتا ہے ۔دراصل یہ فوج کے اندر خود احتسابی اور جزا و سزا کا فعال ، شفاف اور موثر نظام ہے ۔ جس کی تاریخ بڑی پرانی اور شاندار ہے ۔ سپاہی سے صوبیدار میجر اور سیکنڈ لیفٹیننٹ سے جنرل بننے تک بڑے انتہائی کٹھن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ۔ اہلیت ، صلاحیت اور سیکیورٹی کی چھلنی سے گزرنا پڑتا ہے ۔ سینکڑوں میں سے چند خوش نصیب نتھر کر اوپر آتے ہیں ، جنہیں حسبِ استعداد مختلف عہدے مل جاتے ہیں ۔ کچھ عہدے بڑے طاقت اور اختیارات کے حامل ہوتے ہیں ۔ عہدہ جتنا حساس اور اختیارات کا حامل ہوتا ہے اتنا ہی وہ احتیاط ، بلوغت ، دانش اور سنجیدگی کا متقاضی ہوتا ہے ۔ اس پہ فائز افراد کے لیے بذات خود اک بڑا امتحان ہوتا ہے ۔ کبھی کبھار کچھ لوگ ان بنیادی تقاضوں کو طاقت اور اختیار کے نشے میں یکسر بھول جاتے ہیں ۔ اک زعم میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ وہ جو کچھ بھی کر لیں ، ان کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا ۔ لیکن سسٹم کی نظر اور یادداشت کبھی کمزور نہیں ہوتی ۔ وہ نوٹ بھی کرتی ہے اور یاد بھی رکھتی ہے ۔ چیزیں جب حد سے آگے نکلنے لگ جائیں تو اسے روک بھی لیتی ہیں ۔
یاد رہے فوج میں احتساب کا عمل مسلسل جاری رہتا ہے ۔ یہ تیز بھی ہے اور شفاف بھی ۔ تاہم اسے عوامی عدالتوں کے احتساب کی طرح پبلک نہیں کیا جاتا ۔ اخبار اور سوشل میڈیا پر اس کی تشہیر نہیں کی جاتی ۔ کسی بڑے عہدے پر براجمان کسی آفیسر سے جرم سرزد ہو جس سے ملک اور ادارے کو نقصان پہنچے تو اس کی سزا کو ضرور پبلک کیا جاتا ہے ۔ ماضی میں بہت سارے تھر ی اور ٹو اسٹار جرنیلوں کے خلاف تادیبی کارروائی ہوئی اور انہیں ملازمت اور مراعات سے محروم کیا گیا ۔ آرمی کی مضبوطی ، فعالیت اور اتحاد کی بڑی وجہ ہی فوری ایکشن ،اور شفاف انصاف ہے ۔ چند روز قبل ایک سینیئر آرمی آفیسر کی گرفتاری کوئی بڑی بات نہیں۔ یہ ایک معمول کی کارروائی ہے جسے میڈیا اور اس کے تجزیہ کار بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں ۔ اگر ملزم نے اپنے عہدے اور اختیارات کا ناجائز استعمال کیا ہے یا ریٹائرمنٹ کے بعد قانونی اور ادارہ جاتی ہدایات کی خلاف ورزی کی ہے تو اسے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ حاصل ِکلام یہ ہے کہ آرمی ایک منظم ادارہ ہے ۔ اس کا ہر جوان اور افسر اپنی قیادت پر اعتماد کرتا ہے ۔مسلسل کمان کا احترام کرتا ہے ۔ اگر کوئی اختلاف کرے بھی تو اس کا اظہار استعفیٰ دے کر کرتا ہے ۔ علم و آگاہی اور ٹیکنالوجی کے دور میں ہر جوان اور افسر کو ایمان کی حد تک یقین ہے کہ ملکی دفاع کا ضامن صرف انہی کا ادارہ ہے ۔ اسے کمزور اور بدنام نہیں ہونے دینا کیونکہ یہ دونوں خواہشیں ہمارے دشمنوں کی ہیں ۔ لہٰذا ہمیں اتحاد ، اتفاق اور باہمی محبت کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا ہے ۔ جو کل تک ہماری مسلح افواج کے بارے منفی پروپیگنڈہ کر رہے تھے ان کو جان لینا چاہئے کہ وہ غلط فہمی کا شکار تھے ، بہتر ہوگا وہ جلد اس سے باہر آجائیں ۔ راہِ راست پر آ کر ملک کی ترقی اور امن کو بحال کرنے میں حصہ ڈالیں ، مل کر ملک دشمن قوتوں کا مقابلہ کریں ۔ یہی ہمارے اور ملک و قوم کے مفاد میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں