Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

غزہ کےخیموں سے: زندگی 300 دن پہلے ختم ہوچکی!

ایک پلان بی ضروری ہے۔ اس جنگ نےہمیں یہی سبق سکھایا ہے۔ اپنے ساتھ خیمہ رکھیں، چاہے آپ جنت میں ہی کیوں نہ ہوں۔ آپ کبھی نہیں جانتے کہ آپ کو کب انخلا پر مجبور کر دیا جائے۔ (ہفتہ، 11مئی،صبح 8 بجے) ابھی صبح نہیں ہونی چاہیےتھی، ابھی تومیں سونےکی کوشش میں تھی (یہ صبح کیوں ہوناضروری ہے؟)میں اٹھی تو ماں نے مجھے بتایا، کہ ہمیں رفح میں اپناچھوٹا سااپارٹمنٹ چھوڑنا ہے۔ یہ سب وہ بڑےنارمل لہجے میں کہہ رہی تھی، نہ وہ چیخی چلائی اور نہ ہی وہ خوفزدہ تھی۔ میں نے سوچا کہ شاید میں کسی خواب کے اثر میں ہوں۔میں اٹھی اور پیکنگ کرنے لگی۔ میں نے اپنی بالیاں اور سبز ہاراٹھایا جو میں نے خوداپنے ہاتھوں سے بنایا تھا، اور ایک کتاب بھی اٹھالی،جو غسان کنافانی کے مکمل کام پر مشتمل تھی۔
پیکنگ کے دکھ کیسے بیان کروں؟ ہم نے ایک ساتھ مل کرپیکنگ مکمل کر لی اور پھر ہم نے کافی پی، جیسے ہم کسی خوشگوار سفرپر روانہ ہونے کی تیاری کر رہے ہوں۔ رفح اپارٹمنٹ سے نکلنے سے پہلے میں نےاپنے باتھ روم پر الوداعی نظر ڈالی۔ مجھے نہیں معلوم کہ ہم دوبارہ اب ایک حقیقی باتھ روم کب دیکھ سکیں گے۔وین کو ڈھونڈنے میں دو گھنٹے سے زائد کا وقت لگا۔ ہمارے آس پاس کے دوسرے لوگ بھی ویسا ہی کر رہے تھے جو ہم کر رہے تھے، یعنی پیکنگ کر رہے تھے، اپنے ساتھ لےجانے کےلیے اپنےخیموں کو الگ کر رہے تھے اور آگے بڑھ رہے تھے۔میں نے اس سب کے دوران خود کو تھوڑا سا جذباتی محسوس کیا۔ جب موت کا خطرہ قریب ہو تو انسان کیسے نارمل رہ سکتا ہے؟میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ بحیثیت انسان اداسی کو محسوس کرنا بھی کبھی ایک اعزازکےجیسا ہوگا۔ ہم نےاپناخیمہ المواسی میں ساحل سمندر کےقریب لگایا، جو جنوبی غزہ میں خان یونس اور رفح کا درمیانی علاقہ ہے۔المواسی وہ جگہ ہےجہاں رفح کی حدود ختم اور خان یونس کی شروع ہوتی ہیں۔ اکتوبر سے پہلے المواسی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں لوگ رہتے ہوں۔ میرے اندازے کے مطابق المواسی میں صرف دو عمارتیں تھیں لیکن اب یہ علاقہ ہزاروں لوگوں اور ان کے خیموں سے بھرا پڑا ہے۔ سامان کو کھولنے اورسیٹ کرنےکی ہمارے اندر کوئی توانائی موجود نہیں تھی لیکن ہم نے ہمت کر کے یہ سامان کھولنا ہی تھا ،جیساکہ ہم ہمیشہ سے ماضی سے لے کر آج تک ہمت ہی کرتے آئے ہیں۔ میں نے ساحل پر بیٹھ کرسمندر کےسکون اوراس کی آزادی کو اندر تک محسوس کیالیکن میرے پیچھے تو خیمےکی قید تھی۔ میرااندازہ ہے کہ اسی لیے غزہ کو کھلی جیل کہاجاتا ہے۔میں نے پیٹ بھرنے کے لیےروٹی کاایک ٹکڑا لیا،اس میں کچھ ریت تھی لیکن اس روٹی کااپناذائقہ اجنبی اورناگوارنہیں تھا۔حفاظت بھی کیسی قیمتی چیز ہےکہ اسرائیلی بموں سے محفوظ رہنے کے لیے ہمیں بےگھری کا دکھ تک سہنا پڑجاتا ہے۔ حفاظت سے زیادہ موت پرامن محسوس ہوتی ہے۔ میں اردگردکےخیموں اوراجنبیوں کی موجودگی میں محفوظ محسوس نہیں کرتی۔ غزہ میں بہترین پناہ گاہ ہسپتال ہے۔ پریشان کرنے والی مکھیوں کے خیمے سے نکل جانے کے بعد سونے کا وقت ہو گیا۔ میں نے اپنے گدے سے ریت صاف کرنے کی کوشش کی اور پھر میں نے یہ یاد رکھنے کے لیے کچھ موسیقی سنی کہ میں جذبات کے ساتھ انسان ہوں۔ یہ تصور کافی مہربان تھا، اس لیے میں نے یہ تحریر لکھنا شروع کی۔(جون اور جولائی 2024)میری زندگی اب ایک حقیقی جیل ہے۔اگرچہ یہ قبضہ 75 سال سے زائد عرصے سے جاری ہے، لیکن میں نے پہلی بار اس قبضے کی شدت کو اتنے واضح انداز میں محسوس کیا اور دیکھاہے۔ سمندر میں گن بوٹس، اوپر طیارے، سڑکوں پر ٹینک اور سرحدیں بند ہیں۔ یہاں تک کہ اگر آپ کے پاس مصر جانے کے لیے $5000 ہیں،تو بھی اوراگر آپ کے پاس نہیں ہیں توبھی آپ کے لئے سب کچھ بےمصرف ہے ۔اگست 2024میں یہ تحریر المواسی میں اپنے خیمے سے لکھ رہی ہوں، میں روزانہ رفح پربمباری سن سکتی ہوں۔ جیسا کہ کوئی خاص دن نہیں ہے کہ اسرائیل رفح پر بمباری کررہا ہو، کیونکہ اسرائیل تو ہر روز ہی رفح پر بمباری کرتا ہے۔آسمان سرمئی دھوئیں اور جنگی طیاروں سے بھرا ہوا ہے اور بچے اب بھی پتنگیں اڑاتے ہیں۔میں کافی خوفزدہ تھی کہ اپنے اوپر ڈرون کا لکھ نہیں سکوں گی۔ یہ مزاحمت اور طاقت نہیں ہے، یہ ایک قسم کا صدمہ ہے، جس نے لاپرواہی کو جنم دیا ہے۔
کتنی جانیں بچی رہ گئی ہیں؟جب بھی ہم نے انخلا کیا ہے ہم نے ایک نئی زندگی کی ابتدا کی ہے۔ آپ کسی نامعلوم جگہ کی جانب بھاگ کھڑےہوتےہیں اور پھر آپ ایک چھوٹی سی دنیا قائم کرتے ہیں جو کسی بھی لمحے ختم ہوسکتی ہے۔آپ پانی کا ٹینک خریدتے ہیں، آپ باتھ روم بناتے ہیں، آپ گدے خریدتے ہیں، آپ کھانا اور کوئی بھی جگہ تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جہاں رہ سکیں۔ جہاں آپ آخر کار اس زندگی کو پیچھے چھوڑ کر ایک نئی شروعات کریں لیکن ہماری اصل زندگی تو وہ ہے جو 300 دن پہلےختم ہوگئی۔کاش یہ جنگ ایک ٹی وی سیریز یا کتاب ہوتی اور میں اسے ختم کرنے کے لیے اس کے لکھنے والوں ،اس کے بنانے والوں کو تلاش کرسکتی، لیکن ہر دن ایک چٹان کی طرح سخت ہے، اور ہم نہیں جانتے کہ موت آئے گی یانہیں۔ جب میں ایک لمحہ کے لئے اپنے اردگرد کے ماحول سے واقف ہوتی ہوں، تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ زندگی کیسی اجنبی سی ہے۔ وہ خیمہ جس میں میں سوتی ہوں، گدے، گلیاں، یہاں تک کہ وہ کپڑےجو میں نے پہنے ہوئے ہیں۔ یہ سب میرے نہیں ہیں۔ ان میں میری کوئی خوشبو نہیں ہے اور ان کے ساتھ میری کوئی یاد وابستہ نہیں ہے۔ کس قدر بےمعنی ہے سب کچھ ۔ آج صبح خیمے کے اندرگرمی کی وجہ سےمیں جلدی اٹھ گئی۔ میں شاید پانچ گھنٹے کی نیندپوری کرچکی ہوں۔ میری ماں کام پرجاچکی ہے (وہ ایک صحافی ہے)، اور میرے بہن بھائی ابھی تک پنکھے کی بدولت سو رہے تھے۔میں نے اردگرد دیکھا اور سمجھ گئی کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ انتہائی افسوسناک لیکن سچ ہے۔
(نوور نبیل دیاب غزہ میں ایک مصنف اور فوٹوگرافر ہیں)

یہ بھی پڑھیں