امریکی، مصری اور قطری سینئرحکام، خطے اور دنیا کےچند دیگرممالک کے ساتھ، اسرائیلی قبضے اور فلسطینی مزاحمت کے درمیان جنگ بندی کے لیے بڑے پیمانے پر ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں۔ غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے وحشیانہ حملے گیارہویں مہینے میں داخل ہو چکے ہیں اور اسرائیلی قابض فوج نے 17 ہزار بچوں اور 11 ہزار خواتین سمیت 40 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کردیا ہےجبکہ امریکی حکام نے باآواز بلند اعلان کیا کہ اسرائیل نے غزہ کے ساتھ وہی کیا جوہونا چاہیے تھا۔
اسرائیلی جنگ بندی کے ایلچیوں کے ساتھ مذاکرات کے ایک دن کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں، امریکا، مصر اور قطر کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے اب مزید وقت ضائع کرنے کا کوئی موقع نہیں ہے۔ قطریوں اور مصریوں کا مذاکرات میں سوائے اس کے کوئی اور کردار نہیں ہےکہ وہ مذاکرات کی میزبانی کرتے ہیں اور اسرائیلی اور امریکی مطالبات اور موقف کو فلسطینی مزاحمت کے رہنماؤں تک پہنچاتے ہیں کیونکہ حماس اسرائیلی قابض حکام کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے انکار کرتی ہے۔ امریکہ مذاکرات کا مرکزی کردار ہے اسے صرف اسرائیل کے تحفظ کے ساتھ ساتھ خطے میں اپنے مفادات کی فکر ہے،امریکہ کو فلسطینیوں اور عربوں کی بہبود سے قطعاً کوئی سروکار نہیں ہے۔ جنگ بندی کی کوششوں میں اس کی شمولیت کا جائزہ لیتے ہوئے کچھ کا خیال ہے کہ امریکہ جنگ بندی میں واقعی دلچسپی رکھتا ہے اور غزہ میں خونریزی اور اسرائیل کے نسل کشی کے اقدام کو ختم کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ تاہم صورتحال کی حقیقت اس کے برعکس ہے اس کے پس پردہ امریکی منافقت ہے۔ غزہ میں فلسطینیوں کی مزاحمت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے مشن کو مکمل کرنے کے لیے امریکا صرف اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے لیے درکار وقت خریدرہا تھا۔ نسل کشی کے آغاز کے بعد سے امریکہ نے اپنے آپ کو غزہ کی پٹی کے مقبوضہ اور سخت محاصرے میں ایک طویل اورتباہ کن جنگ کے لیے تیار کر رکھا ہے، کیونکہ یہ خطے میں واحد جگہ ہے جو نوآبادیاتی اسرائیل،امریکی منصوبوں کے پہلو میں کانٹے کی مانند پیوست ہے، لہٰذا، ابتدائی مرحلے میں، امریکا نے( اس کوشش کی انسانی اور مادی قیمتوں سے قطع نظر) حماس سے چھٹکارا پانے کے لیے 7 اکتوبر کو فلسطینی مزاحمت کی کارروائی سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔
اسرائیلی روزنامہ ہاریٹز نےرپورٹ کیاکہ امریکی حکام تیزی سے اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں ایک طویل، تباہ کن جنگ کی تیاری کر رہے ہیں، بائیڈن انتظامیہ کے اہلکار امریکی قانون سازوں کو مختلف قسم کی سفارتی، سیاسی اور فوجی ضروریات کے لیے تیار کر رہے ہیں، جو آنے والے دنوں اور ہفتوں میں منظر عام پرآ سکتی ہیں۔ معروف اسرائیلی اخبار نے مزیدلکھاکہ امریکی حکام اگلے 48 گھنٹوں کے اندر اسرائیل کی جانب سے زمینی حملے کی توقع رکھتے ہیں۔اس نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اسرائیل نے امریکہ سے بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی درخواست کی تھی جن میں زیادہ انٹیلی جنس شیئرنگ، آئرن ڈوم میزائل ، گولہ بارود کے راؤنڈ، گائیڈڈ میزائل اور چھوٹے قطر کے بم شامل ہیں۔ ایک اورمرتبہ ہاریٹز نے رپورٹ کیا کہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے اپنے اسرائیلی ہم منصب کو بائیڈن کی اسرائیل کے لیے غیر متزلزل حمایت کا یقین دلایا ہے۔اس خوف سے کہ خطے میں امریکی اتحادیوں کی جانب سے متوقع نسل کشی اور جنگی جرائم کے جواب میں کچھ بھی کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکتا ہے، سلیوان نے زور دیاکہ علاقائی شراکت داروں کو مکمل اعتماد میں لے کرکام کر رہے ہیں تاکہ ہر اس شخص کو خبردار کیا جا سکےجو اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتا ہے۔ امریکہ نے اپنی عوام اورمغرب کو قائل کرنے کے لیے ان کے جذبات کو ابھاراکہ ہم لاپتہ امریکی شہریوں کے ٹھکانے کا تعین کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں، اس طرح امریکہ نے فلسطینیوں کی نسل کشی، اسرائیلی جنگی جرائم اور فلسطینیوں کو مارنے کے لیے استعمال ہونے والے مہلک ہتھیاروں کے مسلسل بہاؤ کی امریکی حمایت کا جواز پیش کیا۔اسرائیل کے خوفناک حملوں اور اسرائیلی جنگی جرائم کے لیے غیر مشروط، انتھک امریکی حمایت کے بعد (جس حمایت نے بین الاقوامی سطح پر شوربرپا کردیا)خطے اور پوری دنیا کے حکام نے امریکی اور اسرائیلی مقاصد کو تسلیم تو کیا تاہم واضح طور پر ان کی پالیسی پر کڑی تنقید بھی کی اور اس بات کا اعادہ کیاکہ فلسطینی مزاحمت بالخصوص حماس کو ختم نہیں کیاجاسکتا کیونکہ یہ کوئی مادی طاقت نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے۔اسرائیلی قابض افواج کو غزہ کی پٹی کی اپنی منصوبہ بند تباہی کو مکمل کرنے کے لیے کافی وقت دینے اور زیادہ سے زیادہ شہریوں کو ہلاک کرنے کی مثالیں شمار سے باہر ہیں۔ واضح مثالوں میں سے ایک رفح پر اسرائیلی جارحیت کی سیاسی حمایت ہے، جہاں غزہ کی پٹی کے مختلف حصوں سے لاکھوں بےگھر افراد جمع تھے۔ آغازمیں امریکہ کادعویٰ تھاکہ اس نے اسرائیل کےلیےہتھیاروں کی امدادمعطل کردی ہے اور وہ رفح میں محدود آپریشن کے لیے ایک تفصیلی منصوبہ حاصل کرنے سے پہلے اس معطلی کو منسوخ نہیں کرے گا جو شہریوں اور بے گھر لوگوں کی حفاظت کی ضمانت دے گا۔ رفح پر جارحیت کو علاقائی اور بین الاقوامی مسترد کیےجانے کےجواب میں امریکی حکام ان ہی بیانات کو دہراتے رہے اور جنوبی غزہ شہر پر تباہ کن اسرائیلی حملوں کی پردہ پوشی کرتے رہے۔ اس منافقت اورجھوٹ کی ایک اورمثال بائیڈن کی جنگ بندی کی تجویز ہے جسےامریکہ نے یہ کہہ کر کئی مہینوں تک دنیاکو بیوقوف بنائے رکھا اور بعدازاں یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ حماس نے اسے مسترد کر دیا ہے،امریکہ اسرائیلی نسل کشی کا جواز پیش کرتا رہااور حماس کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتارہا۔ کئی وجوہات کی بنا پراب یہ کہاجاسکتا ہےکہ شاید اسرائیل جنگ بندی کے لئے تیار ہو جائے کیونکہ اسرائیلی قابض افواج نےغزہ کی پٹی کی تباہی تقریباً مکمل کر لی ہے اور زیادہ سے زیادہ عام شہریوں کو ہلاک کر دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ان میں سے نصف سے زیادہ عسکریت پسند تھے لیکن غزہ اور مصر کے درمیان پوری سرحد کی کھدائی کے باوجود صہیونی فوج کو صرف ویران سرنگیں ہی ملی ہیں اور اس بات کے کوئی آثار نہیں ملےکہ اسرائیلی قیدیوں کو محصور انکلیو سے باہر اسمگل کیا گیا ہو۔
بڑھتی ہوئی سماجی، فوجی بھرتی، معاشی، سیاسی اور دیگر بحران اسرائیلیوں کے درمیان غیر معمولی تقسیم کوجنم دےرہے ہیں۔ کچھ اسرائیلی سیاست دانوں کا یہ بھی خیال ہےکہ اس کے بعد اسرائیل میں کبھی بھی مستحکم حکومت نہیں قائم ہو سکے گی۔ جنگ بندی کی اور بھی بہت سی وجوہات ہیں، لیکن سب سے نمایاں یہ ہے کہ امریکہ خود اس مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں وہ حماس کے بارے میں کہی گئی باتوں کو تسلیم کرتا ہےکہ اسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ غزہ کی مکمل تباہی کے بعد اب مزید کوئی شہری یا فوجی اہداف نہیں ہیں، بشمول مواصلات، سیوریج، پانی اور بجلی کے نیٹ ورک، صحت کی دیکھ بھال اور تعلیمی نظام، مساجد، اسکول اور یونیورسٹیاں وغیرہ۔اسرائیل کے براڈ کاسٹر نے اسرائیلی فوجی حکام کی طرف سے زور دیتے ہوئے رپورٹ کیاہے کہ غزہ میں فوجی آپریشن تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔