Search
Close this search box.
جمعرات ,11 جون ,2026ء

’’سکردو میں کچھ دن….‘‘!

(گزشتہ سے پیوستہ)
کنکارڈیا ہوٹل کے ٹیریس سے اس پار پہاڑگہرے اندھیرے تلے دب چکے تھے سولہ گھنٹے روزانہ کی لوڈ شیڈنگ نے ان کے حسن کے سارے جلوئوں کو ڈھانپ لیا تھا ،تاہم ہوٹل کا روم جنریٹر کی مدد سے روشن تھا۔آج میرا گائیڈ سجاد سدپارہ جب کمرے میں آیا تو اس کے چہرے پر طمانیت اور ہونٹوں پر تبسم ہی اور تھا ،میرے لئے پچھلے دنوں سے کچھ الگ سااحساس لئے ،گرم گرم بلتی قہوہ اپنے اندر انڈیلتے ہوئے پوچھ ہی لیا ’’سجاد آج کوئی خاص بات ہے ؟‘‘ ایک عجیب سی سرشاری کے ساتھ اس نے بتایا کہ صبح ہم جس مقام پر جارہے ہیں وہ اب تک کے سیاحتی مقامات سے الگ نوعیت کا ہے ۔ہر سال بیسیوں مرتبہ اپر کچورہ اور شنگریلا جانے والا گائیڈ لگتا تھا جیسے پہلی بار ا ن مقامات پر جارہا ہو ایک عجیب سا کیف وسرور اس پر طاری ہو ، بلتی قہوہ پینے کے بعد وہ شب بخیر کہتا ہوا ہوٹل کی نیم روشن و تنگ راہداریوں میں گم ہوگیا اور میں گوگل کی مدد سے اپر کچورہ اور شنگریلا کی تاریخ کامطالعہ کرنے لگا۔
8200فٹ پر پھیلی کچورہ جھیل جسے بلتی زبان میں فروق زہو کہتے ہیں ، موسم گرما میں ملکی و غیر ملی سیاحوں کی توجہ کا خصوصی مرکز بن جاتی ہے۔مغربی ہمالیہ کی یہ 70 میٹر (230فٹ) پر گہری جھیل جو 8200 فٹ بلند سطح پر ہے ۔ہرسال سینکڑوں مردوخواتین اور بچے بچیاں اس کا نظارہ کر نے آتے ہیں۔
جھیل کی بلندی تک پہنچنے کےلئے جوانی کی ضرورت تھی مگر فرط جذبات میں آسانی سے طے ہوگئی ،بہت ساری عمر رسیدہ خواتین راستے ہی میں ہمت ہار گئیں ،مگر بالی عمر کی بچیاں اور قلیلیاں بھرتے ہوئے اوپر ہی اوپر چڑھتے جارہے تھے ۔بیچ راستے ایک ایک چھوٹا سا ریسٹورنٹ ٹرائوٹ مچھلی جس کی بہت مشہور تھی مگر قیامت خیز منہگائی میں کتنوں کانصیبہ تھی ۔درمیانی بالشت بھر (تقریباً ڈیڑھ پائو) جادوئی رنگ و روپ کی مچھلی کہ جس سے تین بندوں کا شکم سیر ہوا نہ آنکھوں کی بھوک مری ،پر یہ پکانے والے کی مہارت تھی کہ ذائقہ بھلایا نہیں جا سکتا۔
دور ہزاروں فٹ نچائی کے فاصلے پر موٹر بوٹس اور چپو والی کشتیاں، جھیل میں تیرتی ہوئی کھلونوں کی سی لگ رہی تھیں ،جن کے پورے وجود کااندازہ جھیل کنارے جاکر ہوا ،وہ کنارے جن پر لوگوں نے کھانے پینے کی اشیا کے ریپرز کا ڈھیر لگا رکھا ،جن اٹھنے والے تعفن سے یہ احساس بھی ہورہا تھاکہ بعض افراد نے دیگر بچی کچھی اشیا بھی جھیل کنارے پھینک رکھی تھیں ،باہر ممالک کی اکثر خواتین ناک پر ہاتھ رکھے بیزاری کا اظہار کررہی تھیں ۔اپنوں کی اس بے حسی پر بہت ہی افسوس ہورہا تھا کہ ہمارا امیج یہاں بھی مجروح ہوتا صاف دکھائی دے رہا تھا۔اپر کچورہ جھیل کا سفر تو اتنا طویل نہیں تھا مگر تھکا دینے والا بہت تھا کیونکہ ابھی ایک اور سحر انگیز تفریحی مقام پر جانا باقی تھا۔
شنگریلا زیزورٹ ،سکردو بلتستان کےحسین و جمیل ریزورٹس میں سب سے منفرد اور جادوئی حسن رکھنے والا۔جسے زمین پر جنت کےنام سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔آٹھ ہزار فٹ بلندی پر واقع شنگریلا پاکستان کے گرم ترین مہینوں سے اکتوبر کے ٹھنڈے میٹھے موسم اور نومبر کے ابتدائی سرد دنوں تک سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہتا ہے۔
مختلف نوعیت کے کیفے لائونجز نے اس کی رونق کو دوبالا کیا ہوا ہے ۔ٹرائوٹ ہیچری،بوٹنگ ،جاگنگ ٹریک اور ٹریکنگ کا سب سامان مہیا،مگر ہر شے عام آدمی کی دسترس سےباہر۔جو اس مقام کے پر کشش نظاروں ہی سے لطف اندوز ہوسکتا ہے۔ چاروں اور پھیلے سیب اور ناشپاتی کے پھل دار درختوں پر لٹکے پھلوں تک کو چھونے کی کسی کو جرات نہیں کہ باوردی پہریدار سائے کی طرح ہر ایک پر مسلط ہوتے ہیں ،یہاں تک کہ ننھے بچے بچیاں بھی رال ٹپکاتی رہ جاتی ہیں ۔ہزار روپے کا ٹکٹ خرید کر آنے والا ایک وزیٹر دس روپے کے سیب کو چھونے سے قاصر و بےبس۔
1983 سکردو کے نواح میں بریگیڈیئر رینک کے ایک فوجی افسر ایم اسلم کی ذاتی ملکیت شنگریلا ریزورٹ مقبولیت کے اعتبار سے سکردو کا پر کشش ترین مقام ہے ،جس میں لوگوں کی تفریح کے لئے پاکستان ایئر لائن کا ایک طیارہ بھی ضیافت گاہ کے طورپر دور کے ڈھول سہانے کی مثل اس کی زینت ہے ۔ہر سو چھوٹی چھوٹی صاف و شفاف پانی کی جھیلیں اس امر کی غماز ہیں کہ یہاں صفائی کے معیار پر کمپرومائز کی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی۔ دلکش و دلپذیر مناظر کو خیرباد کہہ دینا کفران نعمت لگ رہا تھا مگر ایک روز پہلے خپلو فورٹ سے واپسی پر ہمارا ایک پڑائو خطا ہوگیا تھا جس کا چکانا لازم تھا۔سکردو کے بلندوبالا پہاڑوں کے بیچ سرمک گائوں جس کی ایک پہاڑی پر ’’زبیدہ خالق میموریل فری ہسپتال ‘‘ جس کے بارے میں پاکستان کے نامور سرجن ڈاکٹر خلیق الرحمن نے سرسری بتایا تھا ،جہاں کسی تشہیر کے بغیر اپریل 2019 میں وہ دو دن سرجری بھی کر آئے تھے ۔ زبیدہ خالق میموریل ہسپتال سکردو سرمیک کے عالمی شہرت یافتہ ڈاکٹر سکندر حیات خان نے اپنے والدین کی یادمیں قائم کیا ۔80 بیڈز کی گنجائش رکھنے والےاس ہسپتال میں6 اسپیشلسٹ، 6 میڈیکل آفیسرز،ہروقت مریضوں کی دیکھ بھال کے لئےموجودرہتے ہیں ۔ دوآپریشن تھیٹر ضروریات کے مکمل سامان کے ساتھ مریضوں کے فری آپریشن کی سہولیات کےلئےمہیا۔اس کے ساتھ ECG,ECo,Ultrasound, X.Ry,C Section, Indioscopy اور Cardiolographyکی سہولیات، کے ساتھ جدید ترین لیب ٹیسٹوں کے لئے موجود۔اس ہسپتال ٹرسٹ کے زیر نگرانی ہر دو ماہ بعد پورے بلتستان کے غریب و مفلس خاندانوں میں راشن تقسیم کیا جاتا ہے جن سے گیارہ سو کے لگ بھگ خاندان استفادہ کرتے ہیں ۔اس ہسپتال کی دوسری برانچ پر تھورگو سکردو کے مقام پر اپنی تعمیر کے آخری مراحل میں ہے جس سے ضلع شگر کے لوگوں کو بھی فائدہ ہوگا۔
یہ سب 80سالہ ڈاکٹر ،ان کی تین ہونہار ڈاکٹرز بیٹیاں اورایک سی اے بیٹا اپنے ذاتی وسائل سے سرانجام دے رہے ہیں ۔البتہ لاہور سے ڈاکٹر خلیق الرحمن اور دیگر کئی شہروں سے نامورسرجن ہر سال فنی امور میں ہاتھ بٹانے جاتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں