Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

تضادات میں جکڑی قوم

آگ سے آگ نہیں بجھتی، لڑائی سے لڑائی نہیں رکتی ،بدامنی سے بدامنی نہیں مٹتی ۔ آگ کے لیے پانی، لڑائی کے لیے صلح ،اور بدامنی کے خاتمے کے لیے قانون کی پاسداری کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن بدقسمتی سے ہم بالکل اس کے برعکس کرتے ہیں۔امن کی بحالی کے لیے پرتشدداحتجاج کر کےمزید بدامنی پھیلاتے ہیں۔ قانون کی عملداری کو غیر قانونی حربوں سے یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں حصول انصاف کے لیے شاہراہ ِانصاف پر نا انصافی کے گھوڑے دوڑاتے ہیں۔ پھرپشیماں ہوتے ہیں کہ ملک کے حالات سدھرتے کیوں نہیں ؟ ہم ترقی کیوں نہیں کرتے؟غربت کی چکی سے آزاد کیوں نہیں ہوتے؟ عزیز ہم وطنو !ہمیں سنجیدگی سے اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے ۔ اپنی ادائوں پر غور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ جس ڈگر پر ہم چل رہے ہیں، ذرا رک کر کمپاس عقل کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ جب تک ہر راہگیر کوہم راہبر سمجھ کر چلتے رہیں گے، نہ سفری مشکلات ختم ہوں گی اور نہ ہی منزل ملے گی۔ اوپر سے نیچے تک خود احتسابی اورنیچے سے اوپر تک تعمیر ِنو کی ضرورت ہے۔
ہمارا ریاستی ڈھانچا تین ستونوں پر ایستادہ ہے۔ ہر ایک کے فرائض ،حقوق اوراختیارات کا واضع تعین کتاب دستور میں کردیا گیا ہے۔ اس مثلث کے ماضی اورمجموعی کردار کی تاریخ پہ نظر دوڑائیں تو پتہ چلے گا کہ کسی نے بھی آج تک اپنی آئینی حدود کی پابندی نہیں کی، جس کے باعث آئے روز ملک میں آئینی انتظامی اور سیاسی مسائل پیدا ہوتے رہے ہیں ۔ان مسائل کو حل کرنے کےجتنے بھی طریقے آزمائےگئے ان سے حالات مزید پیچیدہ اور کشیدہ ہوئے کیونکہ سب طریقے ہی عارضی اور غیر آئینی تھے ۔ایک دوسرے کی طاقت بن کر ملک و قوم کی خدمت کرنے کی بجائے ادارے آپسی لڑائی میں الجھے رہے ، اپنی حدود سے تجاوز کر کے دوسرے کے دائرہ اختیار سے ٹکراتے رہے ۔ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششوں میں محو رہے، ایک دوسرے کو کمزور کرنے میں لگے رہے ۔ اداروں کی باہمی کشمکش میں غریب عوام پستی رہی اور اشرافیہ انائوں کی جنگ میں الجھی رہی ۔ سچ تو یہ ہے کہ موجودہ حالات کے ذمہ دار ہم سب ہیں ۔عام آدمی سے خاص تک، فوج سے عدلیہ تک سیاست دانوں سے سیاسی کارکنوں تک ،سب نے مل کر ملک کو بدحالی کی اس دلدل میں دھکیلا ہے۔ کاش سیاستدان اپنے ضمیروں کاسودا نہ کرتے، مقتدرہ ان سے ایسا نہ کرواتی ، غیر آئینی اقدامات کو عدلیہ تحفظ نہ دیتی ،اور سیاستدان مہرہ بن کر غیر جمہوری اور غیر آئینی کھیل کا حصہ نہ بنتے،تو ملکی صورتحال آج بالکل مختلف ہوتی۔ المیہ یہ ہےکہ ہم راستہ اور فرسودہ روش بدلے بغیر بہتری کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ جہاں PUSH لکھا ہے وہاں ہم PULL سے دروازہ کھولنا چاہتے ہیں ۔ ایک غیر آئینی کام کو غیر آئینی احکامات کے ذریعے ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا نتیجہ ظاہر ہے جو پھر پانی میں مدھانی پھیرنے سے حاصل ہوتا ہے وہی ہوگا ۔ہم تضادات کی دنیا میں رہ کر آئیڈیلزم کے خواب دیکھتے ہیں۔
اب عدلیہ کے فیصلوں کی مثال ہی لے لیجیے، کیا وہ سب آئین کی شقوں کے عین مطابق ہوتے ہیں؟ چونکہ بہت سارے فیصلوں میں سقم ہوتا ہے،آئین کے مطابق یا ہم آہنگ نہیں ہوتے ،ان پر من و عن عمل کرنے میں انتظامیہ لیت ولعل سے کام لیتی ہے ،جس سے نظام ِعدل کا بھرم اور ساکھ بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ دوسری طرف عدلیہ اپنے احکامات کی ہر صورت تعمیل بھی چاہتی ہے قطع نظر اس کے کہ وہ آئین سے متصادم ہیں یا ہم آہنگ ۔ جیسے میں نے ابتدا میں عرض کیا تھا کہ ہم نے ایک غلطی کو دوسری غلطی سے درست کرنے کا عجیب وتیرہ بنا رکھا ہےجس سے ملک وقوم کامزیدنقصان ہوتا ہے۔ ہم مزید تنزلی کی طرف پھسل جاتے ہیں ۔ جسکا ادراک اور احساس ہمیں ہماری آنکھوں پہ بندھی خود غرضی اور تنگ نظری کی پٹی کے باعث نہیں ہوتا ۔ موجودہ ملکی حالات کافی مخدوش اور فکر انگیز ہیں۔ یہ کسی قدرتی آفات کا نتیجہ نہیں بلکہ ہم نےخود ان کو بڑی محنت سے تراشا اور ترتیب دیا ہے ۔جنکی تہہ تک جانا ضروری ہوگا ۔ایک مخصوص طبقے کے حق میں سطحی تجزیے کرنے ، جلتی پہ تیل چھڑکانے کی بجائے آگ سلگانے والے تک پہنچنا ہو گا ۔ عدم اعتماد کی تحریک جب سپریم کورٹ نے آئینی قرار دے دی، حکومت بدل گئی ،پھر اس کے بعد جو تماشہ لگا ،کیا ملک کو ابتری کیطرف لے جانے میں وہ بڑی وجہ نہیں تھا ؟ سپریم کورٹ نے جب عدم اعتماد کی تحریک کو آئینی قرار دے دیا تھا پھر تخریبی ردعمل کا کوئی اخلاقی و قانونی جواز تھا ؟ اچھی بھلی فعال صوبائی اسمبلیاں توڑنےسے کیوں نہ روکا گیا ؟۔
اپریل 22 کے بعد اسمبلیوں کی شکست و ریخت، احتجاج ، ریاستی اداروں اور تنصیبات پر حملے ،دراصل تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے رنج میں ہی تو کیے گئے تھے ۔ چاہئے تو یہ تھا کہ عدلیہ اپنے فیصلوں کا پہرہ دیتی ۔ معاملے کو اس سرے سے پکڑتی جو اصل سیاق و سباق اور وجوہات سے جڑا تھا۔ جامع انصاف کا تصور بروئے کار لا کر ائینی و سیاسی بحران کی پیش بندی کرتی ، مگر افسوس ایسا نہ ہوا بلکہ اس کے الٹ ہوا۔ ریاستی ادروں کی حساسیت کو پائے حقارت سے ٹھکرا کر ان پر حملہ کرنے والوں کو عدالتیں تحفظ اور ریلیف دیتی رہیں ،کہیں آئین کو ری رائٹ کر کے ،اور کہیں ایک ہی طرح کے مقدمے میں دو مختلف فیصلے صادر کر کے ۔اب فیصلہ کرنا ہوگا کیا ہم اسی راستے پر چلتے ہوئے ،اسی رویے کے ساتھ، آئین کی روح سے انحراف کرتے ہوئے،آگ کو آگ سے بجھانے کی حماقت اور غیر آئینی احکامات سے آئین کی رٹ قائم کرنے کی ضد کے ساتھ ملک کو بحرانوں کے بھنور سے نکال پائیں گے، یا مزید اسکی چکی میں پھنسائیں گے؟ پنجابی کا محاورہ ہے ڈلے بیراں دا کج نہیں گیا ، مطلب زمین پر گر جانے والے بیروں کا کوئی نقصان نہیں ہوتا ، انہیں دوبارہ چن کر جھولی میں ڈالاجاسکتا ہے ۔ اب بھی وقت ہے،سب ہوش کے ناخن لیں ۔ اپنے اپنے فرائض اور اختیارات کے دائرہ کار کو پہچانیں اور سختی سے اسکی پابندی کریں ۔ آپ نے یہ کر لیا ، تو مجھے پورا یقین ہے ہمارا ملک ترقی اور خوشحالی کی راہ پرچل پڑےگاکیونکہ ہماری قوم بڑی صلاحیتوں اور خوبیوں کی حامل ہے ، اسے پھلنے پھولنے کے لئے ایک بارسازگار اور موافق ماحول دے کر تو دیکھو ۔ یہ ہر شعبہ میں کمال کر دکھائیں گےمگر یہ تبھی ممکن ہے جب ہم ہر طرح کے تضادات سے آزاد ہو کر ملک کے وسیع تر مفاد میں سوچنا اور عمل کرنا شروع کریں گے ۔

یہ بھی پڑھیں