Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

عہد الارواح، ارواح کی عہد کی حقیقت

عہد الرواح (The Covenant of the Souls) اس عہد کا ذکر قرآن پاک میں سورۃ الاعراف کی آیت 172 میں کیا گیا ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کی ارواح سے پوچھا: ’’لست بِربِم‘‘ (کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟) اور تمام ارواح نے بیک زبان جواب دیا: قالوا بلی (کیوں نہیں، آپ ہی ہمارے رب ہیں)۔ یہ عہد اس وقت ہوا جب انسانی ارواح نے اپنے وجود کی ابتدا کی تھی، اور اللہ نے ان سے ان کی عبودیت کا اقرار لیااور یہ عہد تخلیق آدم سے پچاس ہزار برس پہلے تمام ارواح سے لیا۔ حضرت آدم ؑسے لے کر دنیا کے خاتمے تک اور آخر انسان کی پیدائش تک ہر بنی آدم کا یہ عہد و اقرار ہے۔
قرآن پاک میں اس عہد کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے واضح کیا کہ یہ عہد انسان کی روحانی حقیقت کا حصہ ہے۔ حضرت محمد ﷺ نے بھی اس عہد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے‘‘ یعنی اس فطری عہد پر۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب اللہ نے تمام ارواح کو پیدا کیا تو ان سے سوال کیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ اور انہوں نے اس کا اقرار کیا۔ یہ اقرار انسان کی پیدائش کے بعد اس کی فطرت میں شامل ہوتا ہے۔مختلف اہل علم ، صوفیا، علما، اور مفسرین نے اس موضوع پر سیر حاصل بحث اور لکھا۔ مولانا جلال الدین رومی ؒنے اپنی شاعری میں اس روحانی عہد کا ذکر بارہا کیا ہے۔ انہوں نے کہا:
’’بیا تا گل بر افشانیم و می در ساغر اندازیم
فلک را سقف بشکافیم و طرح نو در اندازیم‘‘
مولانا رومی ؒکے یہ اشعار ہمیں اس دنیا کی قید سے آزاد ہونے اور روحانی حقیقت کی طرف بڑھنے کی دعوت دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک، روحانی عہد کو یاد کرنا اور اللہ کی قربت میں جانا اصل مقصد حیات ہے۔بایزید بسطامی نے روحانی حقیقت اور عہد الرواح پر گہری بصیرت افروز تفصیل پیش کی اور فرمایا۔ ’’میں نے اپنے رب کو پہچانا اپنے نفس کے ذریعے۔‘‘ بایزید بسطامی کی فکر کے مطابق، جب انسان اپنے نفس کی حقیقت کو پہچانتا ہے، تو وہ اس عہد کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے جو اس نے اللہ کے ساتھ تخلیق آدم سے پچاس ہزار سال قبل کیا تھا۔
حدیث قدسی، من عرف نفسہ فقد عرف ربہ جس نے اپنے نفس یعنی روح کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچانا۔ گویا معرفت نفس ہی معرفت خدا ا دروازہ ہے۔روح ہی ہر انسان کی حقیقی ذات ہیں۔ دنیا میں جسمانی وجود کے آنے سے پہلے ہی، ارواح کا تعلق اللہ سے قائم تھا۔ یہ وہ روح ہے جو جسم کے ساتھ دنیا میں اللہ کے امر سے بھیجی گئی۔ جب انسان اس دنیا میں آتا ہے، تو اس کی روح اس عہد کو یاد کرتی ہے جو اس نے اللہ کے ساتھ کیا تھا۔ جب ایک انسان اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے، تو اس کی روح کی بالیدگی اللہ کے قریب ہونے سے ہوتی ہے۔ یہ قربت اسے اللہ کی بارگاہ میں سجدہ کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ جب انسان اللہ کے قریب ہوتا ہے، تو اس کی روح مطمئن ہوتی ہے اور اسے دنیاوی معاملات میں سکون ملتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’لا بِذِکرِ اللہِ تطمئِن القلوب‘‘ (یقینا اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے۔ (سورہ الرعد: 28)
اللہ کے قریب ہونے کا ایک اور طریقہ قربانی کا ہے۔ جب انسان اپنے آپ کو اللہ کے حکم کے تابع کرتا ہے اور اس کی رضا کے لئے اپنی انا اور نفسانی خواہشات و قربان کرتا ہے، تو وہ اللہ کی بارگاہ میں قبول ہو جاتا ہے۔ یہ قربانی جسمانی بھی ہو سکتی ہے اور روحانی بھی، لیکن اصل مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا ہوتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی اور ان کی فرمانبرداری کا واقعہ اس کی اعلیٰ مثال ہے۔
روح کی یاد اللہ کے رازوں کی طرف لے جاتی ہے۔ جب ایک انسان اللہ کے ذکر اور یاد میں مشغول ہوتا ہے، تو اس کی روح بیدار ہو ر اہل یقین کے اسرار کو سمجھنے لگت ہے۔ یہ وہ علم اور معرفت ہے جو اللہ کے خاص بندوں کو عطا ہوتا ہے۔ مولانا رومی ؒکہتے ہیں:
’’تو جوئی گنج را در سبلت و در آستینت
چہ می جوئی ز کارد و چاقو؟‘‘
یہ اشعار اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انسان کو اپنے باطن حقیقت کی تلاش کرنی چاہیے، نہ کہ دنیاوی اور مادی چیزوں میں اور حقیقت سے دور ہونا چاہئے۔ جب انسان اللہ کی قربت میں پہنچتا ہے، تو وہ اہل یقین کی شراب پینے لگتا ہے۔ یہ شراب وہ روحانی علم اور معرفت ہے جو اللہ کی طرف سے عطا ہوتی ہے۔ جو اسے پیتا ہے، وہ اللہ کی محبت میں سرشار ہو جاتا ہے اور دنیا کی خود فریبی کو سمجھنے لگتا ہے اور حقیقت یاد و تلاش کرتا ہے۔ یہ وہ حقیقت روح اور اس کی یاد ہے جو دنیا میں آنے کے بعد بھی انسان کے ساتھ رہتی ہے۔ جب یہ یاد واپس آتی ہے، تو انسان کو اپنی روح کی اصل حقیقت اور اللہ کے ساتھ کیے گئے عہد کی یاد آتی ہے۔ یہ یاد انسان کو اس کی اصل حقیقت کی طرف لے جاتی ہے، جہاں وہ اپنے رب کے ساتھ اپنے تعلق کو پہچانتا ہے۔ حضرت بایزید بسطامی کا قول ہے: ’’جب تمہیں اپنے اصل کی یاد آتی ہے، تو تمہارے دل میں اللہ کی محبت جلنے لگتی ہے۔‘‘عہد الارواح ایک ایسی یاد ہے جو ہر انسان کے دل میں رہتی ہے۔ یہ وہ عہد ہے جو ہم نے اپنے رب کے ساتھ کیا تھا اور جس کا احساس ہمیں دنیا میں رہتے ہوئے بھی رہتا ہے۔ اس عہد کی تجدید اللہ کی یاد اور ذکر کے ذریعے ہوتی ہے اور اس کی اصل حقیقت اللہ کے ساتھ قربت اور اس کی رضا حاصل کرنے میں مضمر ہے۔اللہ کی یاد میں رہنا ذکر ہے۔ ذکر اللہ کے ساتھ بندے کا کنکشن ہے۔ جس کی ایک ادنی سی مثال سمجھنے کے لئے۔ موجودہ دور میں وائی فائی کے کنکشن سے سمجھیں۔ جب یہ کنکشن آن ہوتا ہے تو آپ باہم عزیز و اقارب اور دوست احباب سے رابطے میں رہتے ہین۔ اللہ سے کنکشن کا راستہ ذکر اللہ ہے۔ قرآن کا مختصر ترین مگر جامع ترین بیان اس رابطے اور کنکشن کو اس طرح بیان کرتا ہے۔ فاذکرونی اذکرکم میرے ذکر و یاد میں تمہارا ذکر ہے۔ عہد الرواح ایک روحانی حقیقت ہے جو ہر انسان کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ عہد ہمیں ہماری اصل حقیقت اور اللہ کے ساتھ ہمارے تعلق کی یاد دلاتا ہے۔ جب ہم اللہ کی یاد میں مشغول ہوتے ہیں، تو ہم اس عہد کی حقیقت کو سمجھنے لگتے ہیں اور ہماری روح اللہ کی بارگاہ میں سکون پاتی ہے۔قرآن پاک اور احادیث کے بیان اور اس کی تفسیر مولانا رومؒ کے اشعار، بایزید بسطامیؒ کی تحریر و بیان کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ وہ عہد ہے جو ہمیں اللہ کے قریب لاتا ہے اور ہمیں ہماری اصل حقیقت کا احساس دلاتا ہے۔لہٰذا ہمیں اللہ کے ساتھ رابطے یعنی حالت ذکر میں رہنا چاہئے۔ اس سے ہمیں راحت و سکون اور طمانیت قلب حاصل ہوگی۔ اور ہم فکر و پریشانی میں مبتلا نہیں ہوں گے بلکہ خوش و خرم اور صحت مند رہیں گے۔ یہ صرف اللہ کے ذکر اور یاد میں رہنے سے ہوگا اور ہم اپنے عہد کو پورا کرکے ابدی کامیابی حاصل کرلیں گے۔ آیئے اپنے عہد کو کبھی نہ بھلائیں اور اپنے عہد الارواح پر قائم رہیں۔

یہ بھی پڑھیں