Search
Close this search box.
پیر ,08 جون ,2026ء

کہاں جائیں یہ بے خانماں لوگ ؟

انسان وقت کی تلوار سر پر لٹکائے زندگی بسر کر رہا ہے وہ بے بس ہے یا بے بس کردیا گیا ہے۔ جب سے میری طبیعت خراب رہنے لگی ہے اور میری اہلیہ اپنی چار سال کی بقایا ملازمت سے اکتاہٹ سی محسوس کرنے لگی ہے میرے بچوں نے میرے لئے ایک کھانا پکانے والی رکھ دی ہے۔کل وہ بہت دیر سے آئی استفسار پر روتے ہوئے بتایا ’’گھر میں ایک بلب اور ایک پنکھا چلتا ہے ،بل گیارہ ہزار آگیا ہے ،واپڈا دفتر گئی تھی ، کسی نے بات نہیں سنی‘‘۔
میری سانس ایک پل کو رک سی گئی ، حکمران تو سفاک ہیں ہی یہ حکومتی اہلکار بھی بے حس اور شقی القلب ہو گئے ہیں کہ ملک کے غریب لوگوں کی بات بھی توجہ سے سننا گوارہ نہیں کرتے ۔یہ کیسا وقت ہمارے سروں پر آن کھڑا ہوا ہے،کسی کو کسی کی پروا ہ نہیں رہی ،ہمدردی کے دو لفظ ادا کرنا بھی محال ہوگیا ہے جو مصائب و آلام میں گھرے عام لوگوں کے لئے تسکین کاباعث بن سکیں ۔
ادھر ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ حکومت کسی طور آئی پی پیز کے ساتھ بات کرنے کے لئے تیار نہیں کہ ان کے اپنے مفادات خطرے میں پڑنے کا خدشہ ہے اور وہ اپنے معمولی یا بڑے مفادات کے خلاف کیسے پیش رفت کر سکتے ہیں۔ حقیقت حال یہ ہے کہ حکومت فقط ایک وفاقی محکمے کے ساتھ آہنی ہاتھ سے نمٹنے کا عزم کر لے تو عام آدمی سے لے کر تنخواہ دار طبقہ تک آسودہ حال ہو جائے ۔مگر حکومت اس پر ہاتھ نہیں ڈالنا چاہتی جو حکومت ان بائیس ہزار ڈاکوں کا حساب کتاب رکھنے کے لئے ایک چارٹرڈ اکائونٹنٹ نہیں رکھ سکتی کہ ان بائیس ہزار ایف بی آر ملازمین کی چیرہ دستیوں اور اپنی بے اعتدالیوں پر سے پردہ اٹھ جائے گا ۔وہ حکومتی اخراجات جو تاجر طبقہ ہی نہیں عام کاروباری طبقات کا لہو نچوڑ کر پورے کئے جاتے ہیں ان کا کچا چٹھہ کھل جائے گا ۔اس پر مستزاد یہ کہ حکومت اپنے وزیروں ،مشیروں اور اسمبلی اراکین کی مراعات کا جو لامحدود بجٹ رکھتی ہے اس کی کلعی کھل جائے گی۔حکومت جو ملازمین کی تنخواہوں پر تو ٹیکس عائد کرتی ہے ان کے جینے کی راہ میں تو رکاوٹیں کھڑی کرتی ہے مگر اپنے اور اپنے حمایت کرنے والوں کی مراعات پر کمپرومائز کرنے پر آمادہ ہی نہیں ہوتی۔
اسٹیبلشمنٹ کے اللوں تللوں کے معاملات کو نہیں چھیڑتی ،مفت ،بجلی،گیس پیٹرول اور فون بلز کاخرچہ قوم کے افراد کے کندھوں پر ڈالتے ہوئے غریب ونادار اور نان جویں کو ترسنے والوں تک کا دھیان نہیں رکھتی ۔وہ مقتدرہ کے بجٹ میں حقیر سے اضافہ کرکے اس پربے جا تنقید کے دروازے کھول کر اپنوں اور پرایوں سے ہوہکار تو مچواتی ہے مگر یہ نہیں سنا دہشت گردوں کے ہاتھوں جام شہادت پینے والے عام سپاہیوں کے خاندان کی کفالت کا بوجھ اٹھاتی ہو ۔ان کے بچوں کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم دلانے کی باقاعدہ ذمہ داری اٹھاتی ہو!
میں کتنی بے خانماں عورتوں کونوحہ لکھ سکتا ہوں جو روزانہ ہاتھوں میں بجلی، گیس اور پانی کے بل اٹھائے متعلقہ دفتروں میں ماری ماری پھرتی ہیں ۔جن کے بچے گھر میں بھوک سے بلبلارہے ہوتے ہیں ،جن کے قوام تلاش رزق میں مارے مارے پھر رہے ہوتے ہیں ۔ان کے چولہے دعا کی آنچ سے تو نہیں جل سکتے ۔دستور پاکستان یہ کہتا ہے کہ ان کے نان نفقے اور ان کے بچوں کی تعلیم کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے مگر ہم نے اپنے دستور کو پس پشت ڈال دیا ،ہماری کسی حکومت یاحکمران نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔قیام پاکستان کے بعد جو ابتدائی دستور بنایا گیا اس میں کیا لکھا تھا ۔ہمارے حکمران اور سیاستدان تو ایک ہی بات جانتے ہیں کہ قوم کو کیسے تباہ کن حالات میں رکھنا ہے ،قومی خزانے کو بے دردی سے کیسے لوٹنا ، ہمارے نظام زندگی کو کتنا پیچیدہ اور نامناسب بنانا ہے ،نوجوان نسل کو کسطح ملازمتوں سے باہر رکھنا ہے ،پیش پاافتادہ افکار و نظریات رکھنے والے ریٹائرڈ افراد کو پھر سے کیسے محکوموں میں کھپانا ہے کہ وہ اپنے اور حکمرانوں کے مکروہ عزائم کی تکمیل میں لگے رہیں۔
ہماری نئی نسل کی اعلیٰ تعلیم یافتہ بچیاں اور بچے رات رات بھر آن لائن کام کریں ،ان کی آمدنی پر حکومت جتنے مرضی ٹیکس لگائے وہ راتوں کے تھکے ہارے ،نیند کے مارے دن کو سڑکوں پر آخر احتجاج بھی نہ کرسکیں کہ تم ان کے کمائے رزق پر اپنی مراعات کیلئے ڈاکہ زنی کیوں کرتے ہو ؟ یا پھر وہ ذہین و فطین نوجوان جو بیرون ملک جاکر اپنی مہارتیں بیچتے ہیں ،اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کو اپنے ملک،اپنی قوم کے لئے استعمال کرنے کی بجائے اغیار کے ہاتھوں فروخت کرتے ہیں ۔تم ان کے بھیجے ہوئے سرمائے پر بھی ایف بی آر کے ڈاکوئوں کو یہ اختیار دیتے ہو کہ جتنا ان کی رگوں سے لہو نکال سکتے ہو نکال لو ۔یہ ایک کھانا پکانے کے لئے کئی کلو میٹر پیدل چل کر پندرہ بیس ہزار تنخواہ لینے والی عورت کا المیہ نہیں کہ ہر مہینے اپنے بلز اٹھائے آدھا دن اداروں کے دفاتر کی دھول چاٹتی ہیں بلکہ یہ ہر محنت کش عورت کا دکھ ہے جسے بانٹنے کے لئے نہ پہلے کسی حکومت نے سعی کی ہے ،نہ ہی کسی عزت کا جھوٹا نعرہ لگانے والوں نے اسے اپنی توجہ کا مرکز بنایا ہے ۔پاکستان میں غربت پنپ رہی ہے ، پنپتی رہے گی حد تویہ ہے کہ یہ اب متوسط طبقے کے دروازوں پر شدت سے دستک دینے لگی ہے ۔
افتادگان خاک کا تو معاملہ ہی کچھ اور ہے! کہاں جائیں یہ بے خانماں لوگ ؟کتنی اور تلواریں ان کے سروں پر لٹکانیں ہیں؟

یہ بھی پڑھیں