Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

بتدریج کمزور ہوتا ملکی نظام ِمدافعت

چند روز سے ملکی فضا بڑی سوگوار ہے۔ مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے ہولناک واقعات رونما ہوئے۔ ان کی تفصیل سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ دل رنج و الم سے بھاری ہے، بے بسی اور بےچارگی کا ایسا عالم کہ سوچ سوچ کر دماغ پھٹ رہا ہے۔
آخر ملکِ خداداد کس بری نظر کی نذر ہو گیا ؟ اس کی تو بنیاد ہی اسلام کے نام پر اٹھائی گئی تھی، جسکو دو قومی نظریہ کی کنکریٹ سے بھرا تھا۔ ہمارے اسلاف کی قربانیوں کا خون بھی اس میں شامل تھا۔ مگر افسوس یہ ابتدا ہی سے اندرونی و بیرونی سازشوں کا شکار ہو گیا۔ بابائے قوم کی بے وقت ارتحال سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔ قوم غم سے نڈھال ہو گئی۔ اس کے بعد جو کچھ ’’غنڈوں میں گھری رضیہ‘‘ کے ساتھ ہوا اس سے تاریخ بھری پڑی ہے اور پیہم نوحہ کناں ہے۔ ہم نے جس کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا تھا، وہ نہ اسلامی ریاست بن سکی اور نہ ہی فلاحی، بلکہ فروعی تنازعات کا شکار ہو گئی۔ جس نے عظیم اور متحد قوم بننا تھا وہ بے سمت ہجوم بنتی گئی۔ رہی سہی کسر اس کو نصیب ہونے والی نااہل اور عاقبت نااندیش قیادتوں نے پوری کر دی۔ مشرقی پاکستان کھونے کے بعد بچے کھچے ملک کو بھی ہم صحیح طور چلانے میں ناکام چلے آ رہے ہیں۔ بے شک اس میں دشمنوں کے مذموم ہاتھ بھی ہیں لیکن اپنوں نے بھی اسے کافی ضربیں لگائی ہیں۔ وارداتوں کی شکل میں یہ ضربیں اتنی لگائی جا چکی ہیں کہ وطنِ عزیز کا مدافعتی نظام کمزور پڑ گیا ہے۔ انسانی وجود میں مدافعتی نظام کی کلیدی حیثیت ہے۔ اس کی ناکامی ہر طرح کی بیماریوں کے راستے ہموار کر دیتی ہے جس پر کسی طرح کا بھی حربہ اور علاج کارگر نہیں ہوتا۔ یوں زندگی کی تمام امیدیں دم توڑ دیتی ہیں۔ امید کا ٹوٹنا سانسوں کی ڈوری ٹوٹنے کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ اسی طرح کی صورتحال سے وطن عزیز اس وقت دو چار ہے۔ اس کا نظام ِمدافعت جواب دے چکا ہے۔ کسی بھی ملک کا سب سے مضبوط دفاع، قومی اتحاد و یکجہتی، جذبۂ حبّ الوطنی، قانون کی حکمرانی، فعال عدالتی نظام، مستحکم معیشت اور پروفیشنل آرمی سے ہوتا ہے۔ قومی نظام مدافعت کے یہ عناصر جب تک مؤثر اور مضبوط رہتے ہیں، کسی بھی قسم کا اندرونی و بیرونی عارضہ آسانی سے لاحق نہیں ہوتا۔ اگر کسی بیماری کے اثار ظاہر ہوں تو اسے سر اٹھاتے ہی کچل دیا جاتا ہے جس سے ملک میں نہ صرف امن و آشتی کی فضا قائم رہتی ہے بلکہ خوشحالی کے در بھی کھل جاتے ہیں۔
وطن عزیز کی حالیہ صورتحال سے اندازہ یہی ہوتا ہے کہ اس کا مدافعتی نظام جواب دے چکا ہے۔ قومی اتحاد کی دیوار لرز رہی ہے۔ ادارے اعتماد کھو چکے ہیں۔ انصاف ہوتا نظر نہیں آرہا۔ قوم میں گہری تقسیم پیدا ہوگئی ہے۔ معاشی اور سیاسی عدم استحکام کا طوفان تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ قومی حیات کی ناو شدید ہچکولے کھا رہی ہے۔ یہ مقام ِفکر و عمل ہے، بیماری کی تشخیص اور فوری علاج وقت کی اشد ضرورت ہے۔ تین بڑی جنگیں اور 20 سال سے دہشتگردی کے خلاف لڑنے کے باوجود حالات اس قدر دگرگوں اور مخدوش نہیں ہوئے جیسے گزشتہ دو سال میں ہو گئے ہیں۔ معیشت تو پہلے بھی کوئی ایسی حوصلہ افزا نہ تھی، دہشت گردی بھی ہلکی ہلکی سلگ رہی تھی، نظام ِعدل و انصاف بھی ایسا ہی تھا، بیرونی سازشیں بھی تھیں، مگر سب کچھ کافی کنٹرول میں تھا، پھر چند برس میں آخر ایسا کیا ہوا کہ ملک میں دہشت گردی کی انتہائی خطرناک آگ پھر سے بھڑک اٹھی ہے؟ ریاست کی رٹ ماند پڑ گئی ہے۔ قوم ناصرف بے حس ہو گئی ہے بلکہ شدید باہمی نفرت میں جھلس رہی ہے۔ پہلے والا قومی جذبہ، عزم اور اتحاد نظر نہیں آ رہا۔ میری دانست اور تجزیے کے مطابق دو عوامل نے ہماری قومی سوچ ہیئت، سلامتی اور امن کو خراب اور کمزور کرنے میں مہلک کردار ادا کیا ہے۔ ایک ملکی تحفظ کے ضامن اداروں کو بدنام، کمزور اور بے وقعت کرنے کی سازشیں۔ دوسرا، سیاسی انتہا پسندی کے فروغ سے قوم میں گہری ہوتی خطرناک تقسیم۔ ان دو عوامل نے جسد ملت کو اتنا لاغر کر دیا ہے کہ اندرونی و بیرونی دشمن کو اس پر وار کرنے کا سنہری موقع مل گیا ہے۔ ہمارے کمزور اندرونی حالات کا وہ خوب فائدہ اٹھا رہا ہے۔ ہم میں بہت سارے سادہ لوح اس کا ادراک اور احساس کرنے سے بلکل عاری ہیں۔
بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کی وارداتیں، خیبر پختون خواہ میں سر اٹھاتی دہشت گردی و انتہا پسندی، کچے کے ڈاکوؤں کے ہاتھوں پولیس پارٹی پر حملہ آور دلخراش شہادتیں سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ اس خونی سلسلے کو نہ روکا گیا تو خاکم بدہن ملک کسی بڑے سانحے سے بھی دوچار ہو سکتا ہے۔ اس لیے سب کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے۔ ذاتی و سیاسی مفادات بھلا کر قومی مفادات کی فکر کریں۔ یہ ملک ہوگا تو ہم ذاتی و سیاسی فائدے بھی اٹھا سکتے ہیں، بصورت ِدیگر قیامت تک پچھتانا ہمارا مقدر بھی بن سکتا ہے۔ جتنا جلد ممکن ہو فروعی اختلافات بھلا کر متحد ہو جائیں، قومی سلامتی کے اداروں سے شکایات کو کچھ دیر کے لیے ایک طرف رکھ کر اس کے ساتھ کھڑے ہو جائیں، سب مل کر ایک بہادر اور باغیرت قوم کی طرح دہشت گردی، دراندازی اور بیرونی و اندرونی دشمن کا مقابلہ کریں۔ اس کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا کر اپنی مٹی سے محبت کا ثبوت دیں، پھر نہ کہنا کہ خبر نہ ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں