Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

بابائے حریت سید علی گیلانی

مقبوضہ کشمیر اور پاکستان مین  بابائے حریت سید علی گیلانی کو ان کی شہادت کی تیسری برسی پر شاندار خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ اس سلسلہ میں مظفر آباد اسلام آباد سمیت پاکستان بھر میں تقریبات ہوئیں ۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے غیر قانونی طورپر نظربند چیئرمین مسرت عالم بٹ اور سینئر رہنمائ شبیر احمد شاہ نے نئی دہلی کی تہاڑ جیل سے جاری اپنے پیغامات میں کہا کہ جموںو کشمیرکے بارے میں سید علی گیلانی کا موقف کشمیریوں کی مزاحمتی جدوجہد کی علامت ہے۔انہوں نے کہاکہ سیدعلی گیلانی کو یقین تھا کہ بھارت کشمیری عوام کی آزادی کی خواہش کو دبانے میں ہرگز کامیاب نہیں ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ سیدعلی گیلانی نے “ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے” کانعرہ لگایا ۔سید علی گیلانی 29 ستمبر 1929 میں شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں پیدا ہوئے۔ 1950 میں ان کے والدین پڑوسی ضلع بارہمولہ کے قصبہ سوپور کے زالورہ منتقل ہوئے۔سید علی گیلانی نے اورینٹل کالج لاہور سے ادیب عالم اور کشمیر یونیورسٹی سے ادیب فاضل اور منشی فاضل کی ڈگریاں حاصل کی تھیں۔ 1949 میں ان کا بحیثیت استاد تقرر ہوا اور مستعفی ہونے سے پہلے بارہ برس تک مقبوضہ کشمیر کے مختلف اسکولوں میں اپنی خدمات سر انجام دیتے رہے۔سید علی گیلانی بچپن سے ہی جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر کیساتھ وابستہ ہوئے اور پھر زندگی کا بیشتر حصہ جماعت اسلامی کے ساتھ ہی گزارا،انہوں نے امیر ضلع اور قیم جماعت سے لیکر قائم مقام امیر جماعت اسلامی کی ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔1953 میں وہ جماعت اسلامی کے رکن بن گئے۔ وہ پہلی مرتبہ 28 اگست 1962 میں گرفتار ہوئے اور 13 مہینے کے بعد جیل سے رہا ہوئے۔ مجموعی طور پر انہوں نے اپنی زندگی کا 14 برس سے زیادہ عرصہ مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارت کی مختلف جیلوں میں گزارا ۔سید علی گیلانی مقبوضہ کشمیر اسمبلی کے میں پندرہ برس تک رکن بھی رہے۔ وہ ریاستی اسمبلی کیلئے تین بار 1972، 1977 اور 1987 میں حلقہ انتخاب سوپور سے جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے۔وہ 30 اگست 1989 میں اسمبلی کی رکنیت سے ہمیشہ کیلئے مستعفی ہوئے۔چونکہ ان کا گھرانہ مروجہ تعلیم کیساتھ ساتھ مذہبی تعلیم کا بھی سختی سے کار بند تھا لہذا انہیں جہاں دنیاوی تعلیم کے زیور سے آراستہ ہونے کا موقع میسر آیا وہیں مذہبی رجحانات کی چھاپ ان کی پوری زندگی پر حاوی رہی۔کہتے ہیں کہ ماں کی گود ہی ایک انسان کی شخصیت کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے،یوں سید علی گیلانی کو بھی یہ تربیت میسر رہی۔وہ بیسوں کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔انھوں نے اپنی دور اسیری کی یاداشتیں ایک شہکار کتاب کی صورت میں تحریر کیں جس کا نام “روداد قفس” ہے۔ بزرگ رہنما مختلف جسمانی عوارض میں بھی مبتلا رہے۔ ان کے دل کے ساتھ پیس میکر لگا ہوا تھا۔ ان کا گال بلیڈر اور ایک گردہ نکالا جاچکا تھا جبکہ دوسرے گردے کا بھی تیسرا حصہ آپریشن کر کے نکالا جاچکا تھا۔مذہب سے لیکر سیاست تک ہر میدان میں انہوں نے اپنا لوہا منوالیا۔جب سیاست پر بات کرتے تو گویا ایک سیل رواں جاری ہوتا اور جب قرآن و حدیث اور سیرت پر گفتگو کرتے تو جیسے منہ سے پھول جڑتے ۔ان کی زندگی کے جس پہلو پر بھی نظر ڈالی جائے وہ بلاشبہ اپنی ذات میں ایک ا نجمن تھے۔انہوں نے اپنی زندگی کی بھرپور سیاسی اننگ کھل کر دشمنوں سے بھر پور داد سمیٹی،مسئلہ کشمیر پر بچپن سے لیکر مرتے دم تک ایک ہی نظریئے پر کار بند رہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارت کا قبضہ نہ صرف غیر قانونی اور غیر آئینی بلکہ ناجائز اور غاصبانہ بھی ہے ،انہیں اپنے مضبوط سیاسی موقف کی بنا پر سخت گیراور شدت پسند کے ناموں سے بھی گردانا جاتا رہا۔ان کی زندگی میں سمجھوتہ نام کی کوئی چیز نہیں تھی،وہ جس بات کو درست اور حق سمجھتے تھے،اس پر ڈٹ جاتے تھے۔
وہ مقبوضہ جموں وکشمیر کا پاکستان سے الحاق کے سب سے بڑے حامی تھے۔ اور اس کا اظہار ڈنکے کی چوٹ پر کرتے رہے ۔1993میں سرینگر میں ایک فوجی بنکر کے سامنے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سید علی گیلانی نے کہا کہ جب وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کا پاکستان کیساتھ الحاق کی بات کرتے ہیں ،تو اس کی بہت ساری وجوہات ہیں،سرینگر مظفر آباد سڑک شدید بادو باراں کے باوجود کبھی بند نہیں ہوئی۔ ( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں