(گزشتہ سے پیوستہ)
جب بارشیں برستی ہیں تو ایک ساتھ برستی ہیں،جب ہوائیں چلتی ہیں تو ایک ساتھ چلتی ہیں،چاند کا مطلع ایک ساتھ کا مطلع ہوتا ہے۔ہماری ثقافت،مذہبی روایات،رہن سہن ،بود و باش ،زبان ،لباس،کھانا پینا ایک ہی ہے،ہمارے دریا پاکستان کی طرف بہتے ہیں، لہذا اس تناظر میں سید علی گیلانی کہتے ہیں کہ مقبوضہ جموں و کشمیر پاکستان کا جزو لاینفک ہے۔7اگست 2004 میں سید علی گیلانی نے اپنی ایک الگ جماعت “تحریک حریت” کی بنیاد ڈالی تھی اور وہ ا س کے پہلے سربراہ مقرر ہوئے ۔سید علی گیلانی نے19مارچ 2018 میں اپنی زندگی میں ہی اپنے دست راست جناب محمد اشرف خان صحرائی کو تحریک حریت کی سربراہی منتقل کی تھی،جس کے بعد ان کی زندگی میں صحت کے حوالے سے کافی نشیب و فراز آئے اور وہ صاحب استراحت ہوگئے۔اس سے قبل 2003 میں کل جماعتی حریت کانفرنس تحلیل کی گئی اور ایک نئی حریت کانفرنس معرض وجود میں لائی گئی،جس سے تطہیری عمل کا نام دیا گیا اور پھرسید علی گیلانی تاحیات چیئرمین مقرر کئے گئے۔29جون 2020 میں ناگزیر وجوہات کی بنا پر انہوں نے کل جماعتی حریت کانفرنس سے بھی علیحدگی اختیار کی تھی۔ اس سے قبل انہوں نے سید عبداللہ گیلانی کو آزاد جموں وکشمیر اور بیرونی دنیا میں اپنا نمائندہ بھی مقرر کیا تھا،سید علی گیلانی معروف عالمی اسلامی فورم “رابطہ عالم اسلامی” کے بھی رکن تھے۔وہ یہ رکنیت حاصل کرنے والے پہلے کشمیری حریت رہنما ہیں۔ ان سے قبل سید ابو الاعلی مودودی اور سید ابو الحسن علی ندوی جیسی علمی شخصیات برصغیر سے “رابطہ عالم اسلامی” فورم کی رکن رہ چکی ہیں۔ مجاہد آزادی ہونے کیساتھ ساتھ وہ علم و ادب سے شغف رکھنے والی شخصیت بھی تھے اور علامہ اقبال کے بہت بڑے مداح تھے۔سید علی گیلانی یکم ستمبر 2021 میں حیدر پورہ سرینگر میں واقع اپنے گھر پر داعی اجل کو لبیک کہہ گئے،وہ اس دنیا سے جانے سے پہلے 12 برسوں تک اپنے ہی گھر میں مقید رکھے گئے،ا نہیں تمام بنیادی انسانی حقوق سمیت مذہبی ،سیاسی اور سماجی حقوق سے محروم رکھا گیا ۔وہ کبھی کبھار اپنے گھر کے مرکزی دروازے پر آکر بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں سے یوں مخاطب ہوا کرتے تھے،گیٹ کھولو،تمہاری جمہوریت کا جنازہ نکل چکا ہے۔کیوں بھارتی مظالم کا حصہ بنتے ہو۔بھارت نوازوں کیلئے وہ کسی قسم کا نرم گوشہ نہیں رکھتے تھے اور ببانگ دہل بھارت نوازوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے تھے کہ یہی لوگ کشمیری عوام پر مظالم کے ذمہ دار اور بھارتی قبضے میں کلہاڑی کے دستے کا کردار ادا کرتے ہیں لہذا ان بھارت نوازوں کیساتھ کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا اور پھرزندگی کی آخری سانس تک وہ اپنے عہد پر قائم رہے۔
فاروق عبداللہ نے ایک موقع پر ایک بھارتی ٹی وی چینل کو انٹریو میں اس بات کا کھل کر اظہار کیا کہ سید علی گیلانی کیساتھ لاکھ اختلافات اپنی جگہ لیکن ان کے نظر یات کو پیسوں سے نہیں بدلاجاسکتا۔یہ سید علی گیلانی کی ذات کیلئے ایک بھارت نواز کا بہت بڑا Compliment تھا۔ان کی تحریک آزادی کشمیر کیلئے بیش بہا قربانیوں کے بدولت ہی حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں 14اگست 2020 میں پاکستان کے سب بڑے سول ایوارڈ نشان پاکستان سے نوازا گیا۔تاریخ کا یہ فیصلہ ہے کہ کوئی بھی ایسا شخص جس نے انسانی افکار پر گہرے اثرات و نقوش چھوڑے ہوںاور اپنی زندگی کسی اعلی مقصد کے حصول کیلئے وقف کررکھی ہو اور اپنی قوم کی آزادی کیلئے خود کو وقف کیا ہو، نسلوں تک زندہ رہتے ہیں۔سید علی گیلانی اس دنیا سے کوچ توکر گئے ہیں لیکن ان کے خیالات کشمیری نوجوانوں کیلئے آج بھی امید کی کرن ہیں۔ بھارت نے انہیں ایک دہائی سے زائد عرصے تک مسلسل گھرمیں خانہ نظربند رکھا لیکن وہ ان سے آزادی اور مزاحمت کی سوچ کو چھیننے میں ناکام رہا۔گیلانی صاحب کا ناتواں جسم مقبوضہ جموں و کشمیر میں تعینات دس لاکھ سے زائد قابض بھارتی افواج سے زیادہ مضبوط تھا وہ اپنی موت کے بعد بھی قابض بھارتی افواج کیلئے خوف کی علامت تھے جنہوں نے بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سید علی گیلانی کی میت کو قبضے میں لیکر کر انکی آخری وصیت کے برعکس زبردستی فوجی محاصرے میں حیدر پورہ قبرستان میں رات کی تاریکی میں ان کی تدفین کی تھی۔سید علی گیلانی نے اپنی بہت سی انقلابی اور نظریاتی تقاریر میں مسئلہ کشمیر کے مستقبل کے بارے میں پیشن گوئیاں کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ جب جموں کی طرح وادی کشمیر میں بھی آبادی کا تناسب ہندوئوں کے حق میں تبدیل کیا جائے گا تو بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں رائے شماری کیلئے تیارہو سکتا ہے۔ خدشہ ہے کہ مودی حکومت اپنا نوآبادیاتی منصوبہ مکمل کرنے کے بعد رائے شماری کرانے پر آمادگی ظاہر کرے گی۔ 05اگست 2019 میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور 4500000 لاکھ غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل فراہم کرنا اسی کی طرف اشارہ ہے جس کی نشاندہی جناب سید اپنی زندگی کے آخری ایام میں کرچکے ہیں۔بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی طرح قائد کشمیر سید علی گیلانی نے بھی ماضی کے واقعات سے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ہندو کبھی بھی بھارت میں مسلمانوں کے وجود اور مقبوضہ جموں وکشمیرمیں اکثریتی آبادی کے طور پر قبول نہیں کریں گے۔مودی کے اقدامات نے سید علی گیلانی کے نظریات کو درست ثابت کیا ہے۔البتہ اخری ایام میں انہیں روحانی ا ور جسمانی تکلیف پہنچائی گئی۔جن سے وہ بڑے مضمحل ہوئے اور جس کا مقدمہ ضرور اللہ کی عدالت میں دائر ہوگا۔ پھر نہ جانے کون کون اس کی زد میں آئیں گے۔