Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

کیا ہم اُدھر کے اُدھر ہی کھڑے ہیں؟

آپ نے اکثر یہ جملہ سنا ہوگا کہ ’’ہم ابھی تک ادھر کھڑے ہیں جہاں سات دہائیاں پہلے تھے۔‘‘ یہ اشارہ قیام پاکستان کے وقت کی طرف ہوتا ہے ۔ ایسی باتیں، تجزیے، تبصرے اور آہوں سے مزین بیانات بھی سنے ہوں گے کہ ’’ہماری عادات بدلیں ،نہ حالات۔ ملک تب بھی گھبمبیر سیاسی و معاشی مسائل سے دوچار تھا سو اب بھی ہے۔ بس کوئی غیبی قوت ہے جو اس کو بچا اور چلا رہی ہے۔ گرد و پیش کےممالک خوشحالی و ترقی کی شاہراہوں پر ہم سے بہت آگے نکل چکے ہیں، جبکہ ہم برلبِ سڑک کھڑے دوڑتی گاڑیوں کو ہی دیکھے جا رہے ہیں۔ ہماری کوئی منزل ہے اور نہ کوئی سمت ۔ جمود کی جکڑ تحریکی جذبہ پیدا ہونے دیتی اور نہ احساس زیاں ہونے دیتی ہے۔ من حیث القوم سستی اور سہل پسندی کا ہم شکار ہیں۔ روزِ اول سے مانگ کر کھانے کی پڑی لَت جاتی ہے نہ ندامت ہوتی ہے ۔ اوپر سے دماغوں میں چٹان جیسی جھوٹی انا پال رکھی ہے۔ معاشرے میں چور اور کرپٹ عناصر کی کثرت ہے۔ حیران کن تضادات کی لمبی فہرست ہے۔ اس اخلاقی و معاشی معیار کے باوجو امتِ مسلمہ کا لیڈر ہونے کا ہمیں بڑا زعم ہے، مظلوم اور معتوب مسلم ممالک کا درد ہمیں پیہم مضطرب کرتارہتا ہے جسکا اکثر اظہار بڑے بڑے ملک گیر جلسوں میں کیا جاتا ہے، بڑھکیں ماری جاتی ہیں، دھمکیاں دی جاتی ہیں، الٹی میٹم تک دیے جاتے ہیں اور آخر میں پچھلے دروازے سے نکل کر اپنے عشرت کدوں کو سدھار جاتے ہیں۔ زمینی حقائق اور عملی کارکردگی دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ہم اِدھر کے اُدھر ہی کھڑے ہیں جہاں یوم آزادی کے وقت کھڑے تھے‘‘ ۔درج بالا تاثرات میں تعصّب اور غصے کے انگارے سلگ رہے ہوتے ہیں۔ ان میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ ایسے بیانات اور تجزیے لاعلمی، مسخ شدہ تاریخ اور غلط بیانیوں کی افسوسناک مثال ہوتے ہیں۔ آج کے حالات کے پیش نظر ماضی کی اچھی تاریخ کو بھی فرط جذبات و رنج کی آگ میں پھینک کر راکھ کردیتے ہیں۔ اپنے قومی سفر اور ترقی کے کاموں کو یکسر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ جو ہماری قومی تاریخ کے چہرے کو بدنما دھبوں سے داغدار کر دیتا ہے جس کو دیکھ کر ہماری نئی نسل مایوس ہوتی ہے۔ اس کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ اس کے دل میں اپنے وطن کی قدر و منزلت گھٹتی رہتی ہے۔ احساس تفاخر و تشکر ماند پڑ جاتا ہے۔ یوں نئی نسل کے ذہنی کشت پر منفی رجحان اور سوچ کی بوٹیاں اگنا شروع ہو جاتی ہیں۔ ریاست سے ان کا اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ روشن مستقبل اور خوشحالی کی امیدوں کے چراغ پھڑ پھڑانے لگتے ہیں۔ ان کے اذہان باغیانہ فکر و عمل کی گرفت میں چلے جاتے ہیں۔ یاد رہے من گھڑت ہونے کے باوجود ایسی متھز یا بیانیہ بڑا اثر پذیر ہوتا ہے۔ انقلاب کو ہوا دے کر متحد و مستحکم ریاست کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ ویسے بھی یہ نفسیاتی جنگ کا زمانہ ہے۔ جس میں مسخ شدہ تاریخی حقائق، جھوٹی خبریں اور داستانیں بطور ہتھیار استعمال ہوتی ہیں۔ جو کسی بھی ملک کے سماجی و معاشی ڈھانچے کےساتھ اسکی فصیل بقا کو بھی لرزا دیتا ہے۔ لہٰذا ہمیں ایسے منفی جملوں، تجزیات و تبصروں سے گریز کرنا چاہیے۔ صرف تاریخی حقائق کے ہی یہ منافی نہیں بلکہ ملکی مفاد کے بھی خلاف ہیں۔ کون کہتا ہے کہ ہم وہیں کے وہیں کھڑے ہیں؟ نئی نسل کو سچ بتائیں! ستتر سالہ قومی تاریخ میں ہم نے حیران کن کارنامے بھی انجام دئیے ہیں۔ قومی تاریخ کے اس سفر کو اک سرسری سی نظر ہی سے دیکھ لیا کریں۔ قیامِ پاکستان کے وقت ہمارے پاس کاغذ نتھی کرنے کو کاغذی سوئی تک نہ تھی۔ ہمارے پاس دارالخلافہ تھا نہ آئین۔ اثاثوں کی تقسیم میں بھی ہم سے فراڈ ہوا۔ زمینی بٹوارے میں بددیانتی کی گئی۔ اس پہ مستزاد خالی خزانے سے ریاستی کاروبار چلانا انتہائی دشوار تھا۔ ملک کے اندر بہت سی ریاستوں نے ابھی پاکستان سے الحاق نہیں کیا تھا۔ انتظامی اور معاشی مسائل کے پہاڑ کھڑے تھے۔ ایسے ہی خوفناک چیلنجز کو دیکھتے پنڈت جواہر لال نہرو نے بڑی رعونت سے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان بمشکل چھ ماہ چلے گا اور دوبارہ لوٹ کر اُن کے بازوں بلکہ قدموں میں آگرے گا۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں