Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

کیا ہم اُدھر کے اُدھر ہی کھڑے ہیں؟

(گزستہ سے پیوستہ)
مگر آفرین ہے بابائے قوم اور اس کی قوم پر جس نے کمال حکمت و دانش سے وہ دعوی غلط ثابت کیا اور ملک کو صحیح سمت دے کر پٹری پر چڑھا دیا۔ بے شک بابائے قوم کی بے وقت موت سے بڑا خلا پیدا ہوا، ملک سیاسی مدو جزر کی نذر ہو گیا۔ اس کے باوجود ہم نے بھارتی جبڑے سے آزاد کشمیر چھین کر لیا۔ ہم نے رن آف کچھ اور پینسٹھ کی جنگ میں دشمن کے دانت کھٹے کیے۔ اس میں کوئی شک نہیں کوتاہیوں اور غلطیوں سے ہم نے مشرقی پاکستان کھویا۔ جس کئی وجوہات ہیں، جو الگ کالم مانگتی ہیں۔ ہم نے پہاڑوں کا دامن چیر کر دنیا کا آٹھواں عجوبہ شاہراہ قراقرم تعمیر کی۔ خلائی تحقیق کے ادارے اور دفاعی سازو سامان کے عالمی شہرت یافتہ کارخانے لگائے۔ سندھ طاس معاہدہ کر کے بھارت سے بہہ کر آنے والے دریاوں پر پانی کا حق حاصل کیا۔ یو این او، کامن ویلتھ اور دیگر عالمی تنظیموں کے ممبر بنے۔ جرمنی جیسے ملک کی مالی مدد کی، کوریا، ملائشیا آور سنگاپور جیسے ممالک کی اقتصادی پالیسیاں بنانے میں معاونت کی۔ اسوقت بھی ہم نیٹو کے اتحادی، شنگھائی تعاون تنظیم کا اہم رکن ہیں۔ ہم کیسے ادھر کے ادھر ہی کھڑے ہیں۔ اسمبلیوں اور حکومتوں کی شکست ریخت کا عمل جاری رہا، کبھی جمہوری سحر اور کبھی آمریت کی شام ہوتی رہی۔ میوزیکل چیئر کا یہ کھیل ہوتا رہا۔ لیکن ترقی کا پہیہ بھی ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ قیام ِپاکستان کے وقت ملک کے بہت سارے حصے میں بجلی تھی نہ کارخانے، بڑا محدود مواصلاتی نظام تھا۔ شہروں کے درمیان ٹوٹی پھوٹی سڑکیں تھیں۔ دیہی علاقے بجلی، ذرائع مواصلات، اسکولوں، کالجوں اور اسپتالوں جیسی سہولیات سے ناواقف تھے۔ شرح خواندگی واجبی سی تھی۔ گاؤں میں کوئی اکا دکا شخص پڑھا لکھا ہوتا تھا۔ وہی اہل گاؤں کے خط لکھتا اور پڑھتا بھی تھا۔ لوگ میلوں پیدل چل کر دوسرے قصبوں اور شہروں کو جاتے تھے۔ بڑے شہروں میں گنے چنے کالج اور اسپتال ہواکرتے تھے۔ مڈل سے آگے تعلیم حاصل کرنا طالب علم کے لیے مسئلہ بن جاتا تھا۔ مزید تعلیم کے لیے دوسرے گاؤں یا دور شہر میں جانا پڑتا تھا۔ بیمار کو اسپتال لے جانا کسی مہم سے کم نہ تھا۔ کئی میل پیدل چل کر کسی سڑک تک جانا پڑتا تھا جہاں سواری ملا کرتی تھی۔ کئی سواریاں بدل کر شہر پہنچتے شام ہو جایا کرتی تھی۔ کیا ہم اب بھی ادھر ہی کھڑے ہیں؟ ملکی دفاع کے لیے چھوٹی سی فوجی نفری اور ٹوٹے ہوئے یا خراب حربی ہتھیار تھے۔ یوں کہہ لیں کہ ملک کھلے آسمان تلے بے یار و مددگار پڑا تھا۔ ہم نے پھر نہ صرف اپنا گھر بنایا، اسے سجایا اور اس کے تحفظ کو بھی مضبوط کیا، بلکہ اڑوس پڑوس پر بھی اپنی دھاک بٹھائی۔ اِس وقت الحمد للہ ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں۔ ہمارے پاس دنیا کی مضبوط ترین فوج ہے۔ ہمارے ملک میں سڑکوں پلوں اور موٹرویز کا جال بچھا ہوا ہے۔ خال خال ہی کوئی گاؤں ہوگا جہاں پختہ سڑک، بجلی اور پانی کی سہولت دستیاب نہ ہو۔ ہر طرف اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں کھمبیوں کی طرح اگی ہوئی ہیں۔ قدم قدم پر آپ کو چھوٹا بڑا اسپتال نظر آتا ہے۔ مہینوں اور دنوں میں ہونے والا سفر اب گھنٹوں اور منٹوں میں ہو جاتا ہے ۔کچے گھروں کی جگہ محل نما پکے مکان بن چکے ہیں۔ ہر دوسرے گھر میں کار کھڑی ہے۔ غریب طبقہ بھی موٹر سائیکل سے محروم نہیں۔ علاقے بھر میں کہیں کہیں کوئی حاجی ہوا کرتا تھا اب ہر آدمی اس سعادت کا حامل ہے۔ آئے روز شہر تو شہر دیہاتوں سے عمرے اور حج کے لیے قافلے جاتے ہیں۔ ہم کیسے وہیں کے وہیں کھڑے ہیں؟ ہمارے پاس دریا ہیں، ڈیمز ہیں، نہریں ہیں، بجلی کے کارخانے ہیں، میٹرو ٹرینیں، بندرگاہیں اور ایئرپورٹ ہیں۔ دلفریب سیاحتی مقامات ہیں۔ ہر شہر میں بڑے بڑے پلازے اور شاپنگ مالز بن چکے ہیں۔ ہر ہاتھ میں موبائل ہے۔ ہم کیسے وہیں کے وہیں کھڑے ہیں؟ خدارا، لاعلمی اور تنگ نظری کا مظاہرہ کر کے اپنی نئی نسل کو اپنے ماضی سے متنفر اور مستقبل سے مایوس نہ کریں۔ دوسرے ممالک سے موازنہ کرتے ہوئے ان کی آبادی ، غذائی ضروت، گھروں کے سائز اور طرز زندگی کا بھی ذکر کر دیا کریں۔ آسٹریلیا پورا براعظم ہے جس کی آبادی اڑھائی کروڑ ہے۔ برطانیہ کی چار کروڑ، ڈنمارک پچاس لاکھ وغیرہ۔ عام شہری چھوٹے چھوٹے ڈربہ نما گھروں میں رہتے ہیں۔ جبکہ یہاں اوسط شہری بھی تین چار کمروں پہ مشتمل گھر کا مالک ہے۔ سب کچھ خراب نہیں، بہت کچھ قابل ذکر و فخر بھی ہے۔ پچیس کروڑ آبادی کو سنبھالنا، خوراک مہیا کرنا، گھر دینا، نوکریاں فراہم کرنا، تین کروڑ آبادی والے ملک سے لامحالہ زیادہ مشکل ہے۔ اس کا بھی احساس و ادراک کیا کریں۔ تمام تر سیاسی اور معاشی کمزوریوں کے باوجود ہم نے ہر شعبۂ زندگی میں خاطر خواہ ترقی کی ہے اور اِن شاءاللہ ہمارا مستقبل مزید تابناک ہوگا۔ مایوسی پھیلانے اور عوام کو بددل کرنے کی روش ترک کریں۔ ملک و قوم کے مفاد کا یہی تقاضہ ہے۔ یاد رہے ہم ادھر ہی نہیں کھڑے جہاں 77 برس پہلے کھڑے تھے بلکہ بہت آگے آ چکے ہیں اور ابھی ہمیں بہت آگے جانا ہے۔ اِن شاءاللہ

یہ بھی پڑھیں