Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

مقبوضہ کشمیر میں اسمبلی انتخابات کا بھارتی اعلان

بھارتی الیکشن کمیشن نے بالآخر مقبوضہ جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کرانے کا اعلان کر ہی دیا ہے،جو بھارت نواز جماعتوں کیلئے خد ا خدا کرکے کفر ٹوٹا ہے کے مصداق ہے۔ مقبوضہ جموںوکشمیر میں آخری مرتبہ 2014میں ریاستی اسمبلی انتخابات ہوئے تھے۔جس کے بعد نریندرا مودی کی جماعت بی جے پی نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی PDP کیساتھ مل کر اتحادی حکومت قائم کی تھی۔ جسے ایجنڈا آف الائنس کا نام دیا گیا۔حالانکہ پی ڈی پی سربراہ مفتی سعید نے پوری الیکشن کمپین بی جے پی کے خلاف اس نعرے پر چلائی تھی کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے انہیں کامیاب کرانا ضروری ہے اور اس نعرے نے انہیں بڑی حد تک سیٹوںکی عددی برتری بھی دلائی ۔ظاہری بات ہے کہ انہیں سہارے کی ضرورت تھی ،جس کیلئے قرعہ فعال بی جے پی ہی کیلئے نکلا۔وزارت اعلی کا ہما مفتی سعید کے سر رکھاگیا،گوکہ وہ پہلے بھی کانگریس کیساتھ ڈھائی سالہ وزارت اعلی کی میوزیکل چیئر کے مزے لوٹ چکا تھا۔ دسمبر 2015 میں سرینگر میں ایک عوامی جلسے میں مفتی سعید کو اسوقت ہزیمت اور سبکی کا سامنہ کرنا پڑا تھا جب نریندر امودی نے اپنی تقریر میں کہا کہ انہیں مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں کسی کی مشاورت کی ضرورت نہیں ہے۔ مفتی سعید نے اسی جلسے میں مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت یا مذاکرات کی وکالت کی تھی۔مبصرین کا کہنا ہے کہ بھاجپا کیساتھ گٹھ جوڑ کرکے مفتی سعید نے تاریخی غلطی کی جس کا خمیازہ ریاستی درجے کی تنزلی اور جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے چھن جانے کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ انکا مزیدکہنا ہے کہ مفتی سعید ، اپنے سیاسی تجربے کے باوجود نریندر مودی اور بھاجپا کے عزائم کو سمجھنے میں ناکام رہے۔جنوری 2016 میں مفتی سعید کئی دنوں تک بیمار رہنے کے بعد چل بسے،تو محبوبہ مفتی نے وزارت اعلی کی بھاگ ڈور سنبھالی،چونکہ پی ڈی پی اور بی جے پی کا شروع دن سے غیر فطری اتحاد تھا لہذا نہ ان کے خیالات ایک دوسرے کیساتھ میل کھاتے تھے اور نہ ہی نظریات۔لاوا اندر خانے پک چکا تھا اور 19 جون سنہ 2018 میں بی جے پی کی جانب سے جموں وکشمیر حکومت سے الگ ہونے کے اعلان کیساتھ ہی محبوبہ مفتی اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئیں، جس کے بعد مقبوضہ جموں کشمیر میں گورنر راج کا نفاذ عمل میں لایا گیا اور پھر دسمبر 2018 میں صدارتی راج نافذ کیا گیا۔ محبوبہ مفتی ریاست کی ناکام ترین وزیر اعلی ثابت ہوئیں کیونکہ انکے دور اقتدار میں08 جولائی 2016میں افسانوی شہرت کے حامل اور تحریک مزاحمت کی علامت سمجھے جانے والے برہان وانی کا ماورائے عدالت قتل کیا گیا،جس نے پورے مقبوضہ جموں وکشمیر میں ایک نئے انتفاضہ کو جنم دیا ،جس میں سینکڑوں کشمیری نوجوان بھارتی گولیوں کا نشانہ بنے اور پھر محبوبہ مفتی نے اس وقت کے بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کیساتھ سرینگر میں ایک پریس کانفرنس میں رعونت سے بھرپور انداز میں کہا تھا کہ شہید کشمیری بچے بھارتی فوجی کیمپوں پر کیا دودھ اور ٹافیاں لینے گئے تھے۔جس پر کشمیری صحافیوں نے سخت ردعمل کا مظاہرہ کرکے ان کی چائے پینے سے انکار کیا تھا۔
مقبوضہ جموںو کشمیر میں اسمبلی انتخابات پورے دس برسوں کے بعد منعقد ہونے جارہے ہیں۔ان دس برسوں میں کشمیری عوام کیساتھ پتھر کے زمانے کا سلوک روا رکھا گیا ۔بھارت سے تھوک کے حساب سے اعلی آفیسران کو یہاں لاکر کشمیری عوام پر مسلط کیا گیا۔تمام اہم عہدوں پر بھارتی آفیسران تعینات کیے گئے اور کشمیری ملازمین بالعموم اور آفیسران بالخصوص کھڑے لائن لگائے گئے۔یہاں تک کہ 05 اگست 2019 میں مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق دو اہم شقوں 370اور 35اے کو بیک جنبش قلم ایک صدارتی فرمان کے ذریعے ختم کرکے اس سے دو حصوں جموںو کشمیر اور لداخ پر مشتمل مرکز کے زیر انتظام یونین ٹیریٹری بنادیا گیا ۔گوکہ 2019 سے پہلے بھی مقبوضہ جموں وکشمیر کا انتظام و انصرام بھارتی حکومت کے مقرر کردہ گورنر کے ذریعے چلایا جارہا ہے لیکن5 اگست 2019 میں غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات کے بعد جموںو کشمیر اور لداخ میں ل لیفٹیننٹ گورنر وں کی تقرریاںعمل میں لائی گئیں۔05اگست 2019 کے بعد یہاں نت نئے قوانین نفاذ کیے گئے ،جن میں غیر ریاستی باشندوں یعنی ہندوئوں کو مقبوضہ جموں وکشمیر کا ڈو میسائل کا حقدار ٹھرایا گیا اور آج کے دن تک بیالیس لاکھ ڈومیسائل کا اجرا کیا جاچکا ہے۔بدنام زمانہ قانون UAPA کی آڑ میں کشمیری عوام کو اپنے ہی وطن میں اجنبی اور تمام اختیارات سے محروم کیا گیا ہے۔درجنوں کشمیری مسلمان ملازمین کو ان کی نوکریوں سے برخاست کیا گیا۔جائیداد واملاک اور رہائشی مکانوں پر ہر دوسرے دن قبضہ کرنا معمول بن چکا ہے۔اہل کشمیر کی سانسوں پر پہرے بٹھائے گئے۔لیفٹیننٹ گورنر کو اختیارات کے نام پر ریاست کا مختار کل بنادیا گیا ہے ۔جس سے مستقبل کا خاکہ اس بات کی بذات خود وضاحت کرتا ہے کہ مودی کے عزائم کس قدر بھیانک اور خوفناک ہیں۔ ( جاری ہے )

یہ بھی پڑھیں