Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

مقبوضہ کشمیر میں اسمبلی انتخابات کا بھارتی اعلان

(گزشتہ سے پیوستہ)
پھر حد بندی کمیشن کے نام پرصوبہ جموںجو کہ چند ایک اضلاع کے علاوہ ہندو اکثریتی ہے اسمبلی سیٹوں کی تعداد 107 سے بڑھا کر 114 کردی گئی۔جموں کے حصے میں 6 جبکہ مقبوضہ وادی کشمیر کو صرف ایک اضافی نشست دی گئی ہے۔جس کے بعد وادی کشمیر کی کل 47 نشستیں ہیں جبکہ جموں کی 43 نشستیں ہو ں گی۔ یعنی 04 نشستوں کا اب صرف فرق باقی رہ گیا ہے۔جبکہ 24 نشستیں علامتی طور پر آزاد جموں کشمیر کیلئے ہیں۔جو کنٹرول لائن معرض وجود میں آنے کے بعد رکھی گئی ہیں۔ان تمام اقدامات کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ کشمیری عوام پر ہندو وزیر اعلی مسلط کرکے 05 اگست2019 میں مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کو ریاستی اسمبلی سے توثیق کرائی جائے۔مگر اس سادگی پر کون نہ مرجائے اے خدا ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔رواں برس مئی میں بھارتی پارلیمانی انتخابات مقبوضہ جموںو کشمیر میں بھی کرائے گئے اور چشم فلک نے یہ نظارہ بھی خوب دیکھا کہ بی جے پی کو مقبوضہ وادی کشمیرمیں امیدار تک نہیں ملا۔ریاستی اسمبلی انتخابات میں صورتحال یکسر مختلف نہیں ہوگی کیونکہ بھارتی پارلیمانی انتخابات میںجیل کا بدلہ ووٹ سے۔ ظلم کا بدلہ ووٹ سے اور جبر کا بدلہ ووٹ سے نعرے ہر سو گونج چکے ہیںاور پھر شمالی کشمیر میں بھارت کی تہاڑ جیل میں گزشتہ پانچ برسوں سے قید کاٹنے والے انجینئر رشید کی کامیابی نے سیاسی پنڈتوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کیا۔
بھارتی الیکشن کمیشن کے مطابق مقبوضہ جموں کشمیر میںآئندہ ماہ 18 ستمبر سے تین مراحل میں انتخابات ہوں گے اور 4 اکتوبر کو گنتی کا آغاز ہو گا جبکہ 6 اکتوبر کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ لیفٹیننٹ گورنر کی موجودگی میں وزیر اعلی برائے نام اور ریاستی اسمبلی ایک ربڑ سٹمپ کی مانند ہوگی ۔ یہی وجہ ہے محبوبہ مفتی نے حال ہی میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اسمبلی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گی کیونکہ علاقے کی حیثیت محض ایک میونسپلٹی کی سی رہ گئی ہے ۔محبوبہ مفتی کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کا اپنا آئین، جھنڈا اور ایک مضبوط قانون ساز اسمبلی تھی۔ موجودہ منظر نامے میں جہاں وزیر اعلی زیادہ تر فیصلوں کیلئے لیفٹیننٹ گورنر سے اجازت کے مرہون منت ہوں گے، ایسے میںالیکشن میں شرکت کرنا ان کیلئے مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ جبکہ نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ جو ماضی میں ایسے ہی خیالات کا اظہار کرچکے تھے ،چند روز قبل بھارت کے بڑے میڈیا گروپ NDTVکو انٹرویو میں اپنے فیصلے پر قائم رہنے کے سوال کے جواب میںسر ہلایا ہے۔
مودی اور اس کے دوسرے قبیل کا مقبوضہ جموںو کشمیر میں ریاستی اسمبلی انتخابات کرانے کا دور دور تک کوئی منشا اور رضا مندی نہیں تھی لیکن آرٹیکل 370 کی منسوخی کو جب بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا جس پر سماعت کے بعد دسمبر 2023 میں فیصلہ سناتے ہوئے بھارتی سپریم کورٹ نے مودی حکومتی فیصلے کو انصاف کا خون کرکے اگر چہ برقرار رکھا لیکن ساتھ ہی جموں کشمیر میں30ستمبر 2024 سے پہلے پہلے ریاستی اسمبلی انتخابات کروانے کے ا حکامات صا در کیے۔یہی وجہ ہے کہ مودی کوانتخابات کا اعلان کروانے کاکھڑوا گونٹ پینا ہی پڑا۔ حالانکہ مودی انتخابات سے قبل ریاست کا درجہ بحال کرانے کا اعلان کرچکا تھا ،گو کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انتخابات کا بگل بج چکا ہے البتہ ریاستی درجے کی بحالی کااعلان نہیں کیا گیا۔بھارتی حکومت مقبوضہ جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد سے کشمیری عوام میں پائے جانیوالے غم وغصے کے باعث یہاں اسمبلی انتخابات کرانے سے انکارکرتی رہی ہے ۔کشمیری عوام کی طرف سے مسترد کئے جانیوالے کے حوالے سے مودی حکومت کے تحفظات کی تصدیق حالیہ بھارتی لوک سبھاانتخابات کے دوران بھی ہوئی ہے جب BJP کو مقبوضہ وادی کشمیرمیں کوئی انتخابی امیدوار نہیں مل سکااور اسکی حمایت یافتہ جماعتوں کو بھی انتخابات میں شکست کا منہ دیکھناپڑا۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں ایک ایسے وقت میں ریاستی اسمبلی انتخابات کرائے جارہے ہیں جب پوری آزدای پسند قیادت بشمول خواتین رہنما بھارتی جیلوں میں قید وبند کی صعوبتوں سے گزر رہی ہیں۔جماعت اسلامی مقبوضہ جموں وکشمیر کو بندوق کی نوک پرانتخابات میں گھسیٹا جارہا ہے،حالانکہ جماعت اسلامی برسوں پہلے نہ صرف پابندیوں میں جکڑی جاچکی ہے بلکہ امیر جماعت داکٹر عبدالحمید فیاض سے لیکر سینکڑوں اراکین اور دوسرے رہنما بھارتی جیلوں میں بند ہیں۔ان کے تعلیمی و فلاحی اداروں کو قبضے میں لیا جاچکا ہے،جس سے ہزاروں بچے متاثر ہوچکے ہیں۔ایسے میں ان بھارتی انتخابات کی کیا ساکھ ہوگی اور انہیں قبولیت کا درجہ عطا کرنا خود کو ننگا کرنے کے مترادف ہوگا۔بھارت نے ہر دور میںانتخابی ڈراموں سے مسئلہ کشمیر کی عالمی سطح پر ہیئت اور اہمیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔حالانکہ مسلہ کشمیر اور انتخابات کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے ۔مسئلہ کشمیر گزشتہ 77برسوں سے ایک متنازعہ مسئلہ ہے ،جس پر ایک یا دو نہیں بلکہ ڈیڑھ درجن سے زائد قراردادیں آج بھی دنیا کے سب سے بڑے عالمی فورم اقوام متحدہ میں عملدر آمد کی منتظر ہیںاور بھارتی حکمران خود مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لیکر گئے اور پھر پوری دنیا کو گواہ ٹھرا کر کشمیری عوام کو ا زادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے ا پنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کا موقع فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔طویل عرصہ گرزنے اور کئی نسلیں اس مسئلے کی نظر ہوچکی ہیں البتہ مسئلہ کشمیر آج بھی حل طلب ہے ،جس نے اس پورے خطے کو عدم استحکام اور خطرات سے دوچار کیا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارتی حکمران جو اس پورے خطے میں ہندتوا کا خواب دیکھ رہے ہیں مگر انہیں قدم قدم پر ناکامی و رسوائی کا سامنا ہے ،ضد اور ہٹ دھرمی پر مبنی سیاست ترک کرکے مسئلہ کشمیر کواس کے تاریخی پس منظر اور اہل کشمیر کی امنگوں کے مطابق حل کریں تاکہ یہ خطہ جو صدیوں سے بدتریں صورتحال سے جوجھ رہا ہے ،امن و استحکام کا گہوارہ بن سکے اور اس خطے میں رہنے والے لوگ بھی امن و سکون کی زندگی بسر کرسکیں۔

یہ بھی پڑھیں