پاکستان ٹوٹا تو بہت کچھ ٹوٹ گیا۔ لازوال قربانیوں سے وطن عزیز کو آزاد کرانے والے اسلاف کا مان ٹوٹا ۔ کروڑوں محب وطن لوگوں کا دل ٹوٹا ۔ نئی نسل کے خواب ٹوٹ گئے ۔ سب سے بڑھ کر قیام پاکستان کا اساسی نظریہ ٹوٹا ۔ جس پر بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی نے رعونت آمیز لہجے میں اعلان کیا کہ دو قومی نظریہ انہوں نے خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے ۔ اس جملے میں زہر بھی تھا اور سخت کاٹ بھی ۔ کیونکہ جس بنیادی اصول اور نظریہ کی بنیاد پر پاکستان ، جس میں مغربی اور مشرقی پاکستان شامل تھا ، معرض وجود میں آیا وہ سقوط ڈھاکہ کے بعد اپنے انجام کو پہنچ گیا تھا ۔ آخر صرف چوبیس سال بمشکل اکٹھا سفر کرنے کے بعد راہیں کیونکر جدا ہو گئیں ۔ جس خطہ کے لوگوں نے حصول پاکستان کے لئے بے مثال قربانیاں دیں ، انہوں نے یہ سقوط کیسے سوچا اور برداشت کر لیا ۔ جدا ہونے والے اصل میں تو جوڑنے والے تھے ۔ مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر مسلمانان ہند کو اکٹھا کرنے والے تھے ۔ انہوں نے مسلم لیگ کا پودا اپنی سر زمین پہ اگایا اور پروان چڑھایا ۔ اس کی آبیاری کے لئے نواب سلیم اللہ ملک ، وقار الملک ، فضل الحق ، مولوی نذیر احمد جیسے نابغوں کی خدمات اور قیادت دستیاب تھی ۔ وہ تو متحد اور مضبوط پاکستان کے خواہاں تھے ۔ آزادی کے بعد آخر کون سے ایسے حالات پیدا ہو گئے جنہوں نے دونوں حصوں کے بیچ غلط فہمیاں اور دراڑیں پیدا کر دیں ۔
قومی زبان اور ثقافت کے گرد گھومنے والے تنازعے نے بد گمانی اور تفریق کے بیج بو دئیے ۔ عدم اعتماد اور غلط فہمیوں کی سلگتی چنگاریوں کو اندرونی حماقتوں اور سازشوں کی پیہم ہوا ملتی رہی ۔ جس سے اختلافات اور دلوں میں فاصلے بڑھتے چلے گئے ۔ سیاسی ، سفارتی اور عسکری ناکامیوں کے علاوہ دونوں بازوئوں میں دوری اور ناراضی کی وجہ درمیان میں حائل زمینی فاصلے بھی تھے ۔ اس پہ مستزاد مشرقی حصے میں قدرتی آفات سے تباہی آور مغربی حصے سے متوقع تعاون کی عدم دستیابی بھی جلتی پہ تیل ڈالتی رہی ۔ سچ تو یہ ہے روز اول سے ہی بھارت پاکستان توڑنے کی سازشیں کر رہا تھا ۔ اس نے اپنے پالتو سیاستدانوں اور ایجنٹوں کے ذریعے ہمارے قومی وحدت کے وجود کو کمزور کرنا شروع کر دیا۔ باہمی بداعتمادی اور بدگمانی اتنی گہری ہو گئی کہ تمام ملک دشمن قوتوں کو وار کرنے کا موقع مل گیا ۔ چھوٹی چھوٹی رنجشوں اور شکووں سے پیدا ہونے دوری دشمنی میں بدل گئی ۔ حالات کو سنبھالنے اور سدھارنے کی کوشش الٹا سول جنگ کا سبب بن گئی ۔ دونوں اطراف اپنوں کا خون بہا ، تباہی ہوئی ۔ پڑوسی ملک بھارت نے کھلم کھلی مداخلت اور جارحیت کا ارتکاب کیا ۔ ملک ٹوٹ گیا اور مشرقی حصہ بنگلہ دیش بن گیا ۔ اگرتلہ سازش کا سرغنہ ، عوامی لیگ کو سیاسی سے زیادہ دہشت گرد پارٹی بنا کر ریاست کے خلاف غداری کرنے والا ملک دولخت کرکے بنگلہ دیش کا صدر بن گیا پھر کچھ عرصہ بعد وزیراعظم اور پھر کچھ مدت کے بعد دوبارہ صدارت کے منصب پہ براجمان ہو گیا ۔ بھارتی فوج کی تربیت یافتہ مکتی باہنی فورس ، عوامی لیگ کے عسکری ونگ اور بھارت کے بلا روک اثر و رسوخ نے بنگلہ دیش کے ماحول اور مزاج پر گہرا اثر مرتب کیا ۔ عوامی لیگ بھارت کی گود میں کھیلتے ہوئے پاکستان کے خلاف اندرون اور بیرون بنگلہ دیش نفرت اور عناد کی آگ پھیلاتی رہی ۔ 71 کی جنگ کے دوران ملک کو ٹوٹنے سے بچانے کے لئے جس جس محب وطن نے کوشش کی تھی ، بانی بنگلہ اور اس کی بیٹی نے انہیں چن چن کر انتقام کا نشانہ بنایا۔ کسی کو عمر بھر پس زنداں پھینک دیا اور کسی کو بلاوجہ سولی چڑھا دیا ۔ بھارت کے ساتھ مل کر بنگلہ دیش کو نہ صرف الگ ملک بنایا بلکہ اس پر وحشت اور دہشت کی فضا بھی قائم کر دی ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ علیحدگی کے محض چار سال بعد نام نہاد بانی بنگلہ اور اس کی فیملی کو اپنے ہی پالے اور ورغلانے فوجیوں نے قتل کر دیا ۔ حسینہ واجد اپنی بہن کے ساتھ اس وقت بیرون ملک ہونے کے سبب معجزاتی طور پر بچ گئیں۔ اک دراز عرصہ کے بعد جب حالات سازگار ہوئے تو ملک میں واپس آئیں ۔ عملی سیاست میں آندھی کی طرح وارد ہوئیں ۔ بھارت کی کٹھ پتلی بن کر اقتدار کے جھولے جھولنے لگی ۔ اپنے مخالفین پر زندگی عذاب اور زمین تنگ کر دی ۔ فسطائیت اور آمریت کی بد نما مثالیں قائم کر دیں ۔ ایک طرف اس نے اندرونی طور پر مخالفین کو ظلم و جبر کے شکنجے میں جکڑے کے رکھا ، دوسری طرف بھارت کی خوشنودی میں پاکستان کے خلاف زہر اور نفرت پھیلاتی رہی ۔
ملکی تاریخ کو بدل کر طلبا ء کے سلیبس کا حصہ بنوا دیا ۔ یونیورسٹی، کالجز اور سکولز میں طلباء کو پاکستان جھوٹی اور من گھڑت واقعات پر مبنی تاریخ پڑھائی جاتی ۔ پاکستان اور اس کی افواج کے کردار کو بڑا بھیانک بنا کر پیش کیا جاتا ۔ یوں نئی نسل کے ذہنوں پاکستان دشمنی اور نفرت ٹھونسنے کی ہر طرح کی کوشش کی گئی ۔ دونوں ملکوں کے بیچ تناو اور بد اعتمادی اتنی بڑھ گئی کہ یاد ہی نہ رہا کہ کبھی دونوں ایک ملک کے شہری تھے ۔ ایک پرچم ، ایک ترانہ اور ایک نظریہ تھا ۔ حسینہ واجد کے پندرہ سالہ جابرانہ دور حکمرانی نے دونوں ملکوں کے بیچ اتنی خلیج اور نفرت پیدا کردی تھی کہ دوبارہ قربت کی تمام امیدیں اور امکانات دم توڑ گئے ۔ اچانک بنگلہ دیش کی تاریخ میں ایک موڑ آتا ہے ۔ عوامی لیگ اور پاکستان دشمن قوتوں کی گاڑی آتش فشاں سے ٹکرا جاتی ہے ۔ جو پہلے ہی ان کے خلاف پکے لاوے سے بھرا پڑا تھا ۔ حسینہ واجد کے رجا کار ، کے طنزیہ جملے نے اس لاوے کو انقلاب کی راہ پہ ڈال دیا ۔ پھر چشم فلک نے وہ دیکھا جسکا کچھ روز پہلے تک گماں بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ صرف مجیب ، حسینہ اور مکتی باہنی کے مجسمے ہی نہیں توڑے گئے بلکہ ان کے ناموں کو بھی نشان نفرت بنا دیا ۔ قدرت کا کمال سمجھیں یا انتقام بنگلہ دیش اب انہی قوتوں کے کنٹرول میں ہے جو دہائیوں حسینہ واجد کے جبر و استبداد کا شکار رہیں اور پاکستان کے لئے کچھ نرم گوشہ رکھتی تھیں ۔ یہ بھی حسین اتفاق ہے بنگلہ دیش میں جب بدامنی اور سیاسی عدم استحکام کا بھونچال تھا ، عین اس وقت بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم پاکستان میں کھیل کر جیت کے مزے لے رہی تھی ۔ یوں قربتوں کے اسباب قدرتی طور پر بننے لگے ۔ بنگلہ دیش کی فضا میں بھی پاکستانیت کی یادیں عود آئی ہیں ۔ جس کا سب سے بڑا حیران کن اور خوشگوار واقعہ ڈھاکہ میں بانی پاکستان کی وفات کی سالانہ برسی کے سلسلے میں منعقد ہونے والی تقریب ہے ۔ جس کی تفصیلات انتہائی حوصلہ افزا اور امید افزا ہیں ۔ نواب وقار الملک اکیڈمی ڈھاکہ میں بڑے باوقار انداز میں تقریب ہوئی ۔ شرکا میں صاحب علم ، دانشور اور پرانی سیاسی نابغہ روزگار ہستیاں شامل تھیں ۔ سب نے قائد اعظم ؒ کو بانی پاکستان تسلیم کرتے خراج تحسین پیش کیا ۔ ان کا کہنا تھا ، قائد اعظمؒ نہ ہوتے تو پاکستان بشمول بنگلہ دیش نہ بنتا ۔ جس کا لب لباب یہ تھا کہ مشرقی و مغربی پاکستان کا اصل بانی جس نے انگریزوں سے آزادی دلائی وہ قائد اعظم ؒتھے ۔ ساتھ ہی اعلان کیا کہ بنگلہ دیش میں قائد اعظم ؒاور علامہ اقبال ؒکے نام سے منسوب عمارتوں کو ایسے ہی بحال اور برقرار رکھا جائے گا ۔ یہ تبدیلی کے جھونکے نہیں تو کیا ہے ۔ ابھی سطور لکھتے ہوئے مجھے ایک خبر ملی ہے ۔ ڈھاکہ میں فوجی افسران کو خطاب کے دوران پروفیسر شاہد الزمان نے تجویز دی ہے کہ پاکستان ہمارا سب سے زیادہ قابل اعتماد ساتھی ہے ہمیں اس کے ساتھ نیوکلیئر اور دفاعی معاہدہ کر لینا چاہئے ۔ بصورت دیگر ہندوستان ہماری سلامتی اور سیاست سے چھیڑ خانی کرتا رہے گا ۔ تو ذرا بتائیں ، ایسی پیش رفت اور بنگالی عوام کے فکری تغیرات خلیج بنگال میں غرقاب دو قومی نظریہ کے دوبارہ ابھرنے کے آثار نہیں ہیں ۔ پاکستان کو چائیے کہ وہ تمام سفارتی ، سیاسی ، مذھبی اور ثقافتی ہنر انتہائی احتیاط، تدبر اور حکمت سے استعمال کرتے ہوئے موجودہ حالات کو اپنے مفاد میں استعمال کرے ۔ ایسا ہو جاتا ہے تو بہت سارے علاقائی اور عالمی مسائل میں بہتری آجائے گی ۔