کائنات کا حسن، قدرت کی عطا کردہ رعنائیوں اور نعمتوں میں مضمر ہے ۔ اس میں پہاڑ ، جنگل ، صحرا ، سمندر ، میدان اور دریا شامل ہیں ۔ یہ سب صورتِ خاک کو دلفریب رنگوں سے سجا دیتے ہیں۔ یہ وسائل انسانی سکون و راحت کا ذریعہ بھی ٹھہرتے ہیں ۔ ان کے بے شمار اوصاف و فوائد ہیں ۔ اسی کائنات میں انسان اللہ کی عظیم تخلیق ہے ۔ کائنات کی رونقیں اور رنگ اسی سے قائم ہیں۔ ہر انسان کا حلیہ اور مزاج مختلف ہوتا ہے ۔ پسند و ناپسند میں بھی فرق ، سوچ اور اپروچ بھی الگ ہو تی ہے ۔ کچھ روشن خیال اور کچھ اس کے برعکس ۔ ان کو تنگ نظر کہہ لیں ، دقیانوس یا پھر رجعت پسند ۔ جو بھی نام دے لیں ، جو لوگ کسی بھی معاملے کے منفی پہلو ڈھونڈنے کے دلدادہ اور مثبت زاویوں کو نظرانداز کرنے کے عادی ہوں وہ تنگ نظر، چھوٹے دل کے لوگ ہوا کرتے ہیں ۔ فراخدلی اور وسیع القلبی ان کی ضد ہوتی ہے ۔ وہ ماہتاب کی روشنی اور گل و لالہ میں نقص ڈھونڈنے میں ماہر ہوتے ہیں ۔ میرا ایسے لوگوں سے آج کل خوب پالا پڑتا ہے ۔ ان میں اپنے بھی ہیں غیر بھی ۔ فوجی اور سول دوست بھی ہیں ۔ ایسے بھی ہیں، جن سے قربت اور محبت چٹان کی طرح مضبوط، ہمالیہ کی طرح بلند اور سمندر کی طرح گہری تھی ۔ سوشل میڈیا اور روز فزوں بد بو کی طرح پھیلتے نظریاتی و سیاسی اختلاف نے ان کی چولیں ہلا دی ہیں ۔ بے تکلفی ماند پڑ گئی ہے ۔ رسمی اور طنزیہ اندازِ اظہار جڑیں پکڑ گیا ہے ۔ دوستی اور وضع داری کی خوبیاں اور اقدار ماضی کا قصہ بنتے جا رہے ہیں ۔ سماجی راہ و رسم بس رسما ًسے رہ گئے ہیں ۔ غمی ، خوشی کے باہمی مواقع پر حاضری محض فرض ِدنیا داری بن گیا ہے ۔ ایسی تقاریب پر عزیز و اقارب کے چہروں پہر گرمجوشی کی مچلتی چمک ناپید ہو گئی ہے ۔ تقریب کے آخری لمحات پہ آمد اور جلد واپسی کی روِش عام ہو گئی ہے ۔ یہ سب ہماری بدلتی سوچ اور سماجی اَقدار کی افسوس ناک عکاسی ہے ۔جیسا کہ آپ کو علم ہے میں اخبار میں باقاعدگی سے کالم لکھتا ہوں ۔ فیس بک پر اپنے خیالات کا اظہار بھی کرتا رہتا ہوں ۔ لکھنے کے لیے مطالعے، تجرِبے اور مشائدے کا ہونا ضروری ہے ۔ سچ لکھنے کے لیے ان تینوں عوامل کا تقاضا پورا کرنا لازم ہے ۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ میں ذاتی علم و دانست کے مطابق وہی کچھ لکھوں جو سچ ہو ۔ مفروضات، قیاس آرائیوں اور سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر تحریر و تقریر میرا شعار نہیں ۔ اس ضمن میں ایک خوب صورت شعر جو میرے مدعا کا دو سطروں میں جامع احاطہ کر دیتا ہے ؎جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں میں اپنے شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں دو روز قبل اسی اخبار میں میرا کالم چھپا ، ’’خلیج بنگال سے ابھرتا ہوا دو قومی نظریہ‘‘ بہت سے احباب نے اس کو سراہا اور درویش کی حوصلہ افزائی بھی کی۔ اس کالم کا مرکز و محور بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی معزولی ، بھارت میں پناہ ، عبوری حکومت کا قیام ، اور پاکستان کے حق میں ہونے والی کچھ پیش رفت اور اثرات پر تھا ۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کے اسباب اور ذمہ دار کرداروں کے کرتوتوں پہ بے شمار کتب لکھی جا چکی ہیں، کم و بیش ہر صاحب ِعلم اس سے آگاہ ہے ۔ کالم کی تنگ دامنی کے باعث میں نے چلتے چلتے تاریخ کے اس گوشہ کو سر سری سا چُھوا۔،وہ بھی اس لیے کہ بنگلہ دیش کے حالاتِ حاضرہ کو تاریخ سے مربوط کر کے مستقبل کا زائچہ بنایا جائے ۔ بنگلہ دیش میں چند روز کے دوران پیش آنے والی پاکستانی سوچ اور خواہش سے ہم آہنگ سرگرمیوں کا تذکرہ کیا ۔ خطے میں ابھرتے نئے تزویراتی ماحول اور صف بندی کی طرف اشارہ کیا ۔
جن قارئین نے اس کو معروضی حالات کے چشمے سے پڑھا انہوں نے ستائش سے نوازا ۔ جنھوں نے تعصب اور خاص سوچ کی عینک سے پڑھا ، وہ بنگلہ دیش کے موجودہ حالات کی تفصیلات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے پچاس سال پرانی تاریخ کی دلدل میں پھسل گئے ۔ ان کے لبوں سے تعریف کی بجائے تنقید کے تیر اڑنے لگے ۔ انہوں نے دلدل سے جتنا حسد بھرا کیچڑ اٹھا کر تحریر کی مقصدیت اور نیت پر اچھالنا تھا اچھالا ، مگر بڑے ڈپلومیٹک انداز میں ،تاکہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے ۔ دوستی کا بھرم بھی رہے اور دوسرے کی کھچائی بھی ہو جائے ۔ کچھ نے تو آئندہ لکھنے کے لیے موضوعات بھی تجاویز کئے جو ان کی خاص سیاسی سوچ اور رغبت کی واضح چغلی کھا رہے تھے ۔ ساتھ تاکید کی بھی کی کہ غیر جانبداری کا دامن بھی مت چھوٹنے دینا ۔مجھے ایسے دیرینہ دوستوں کی معصومیت پر ہنسی بھی آئی اور کچھ ملال بھی ہوا ۔ کہ اللہ کے بندو آپ اچھے بھلے پڑھے لکھے ، زمانہ شناس ہو ، اور پھر بھی ایسے نکات اٹھاتے ہو جن کا سیاق و سباق سے کوئی تعلق ہوتا ہے نہ علمی و ادبی پہلو ۔ چونکہ ہم نے خاص نکتۂ نظر کو ہر جگہ کسی نہ کسی طرح نمایاں کرنا ہے۔ وہ تنقید سے ہو یا تردید سے ، ہر صورت کرنی ہے ۔ دراصل اس خو کے حامل لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنا ان کی فطرت کا حصہ بن گیا ہے ۔ جو ہمارے معاشرے کے حسن اور رنگ میں اپنا بھنگ ڈال رہے ہیں ۔ رشتوں پر شکوک و شبہات کے سائے گہرے ہو رہے ہیں ۔ ذاتی قربتیں دوریوں کے حصار کی گرفت میں جا رہی ہیں ۔ ہر بات کو شک اور بدگمانی کی نظر سے دیکھنا معمول بن گیا ہے ۔ بھرم اور رواداری دم توڑ رہی ہے۔ فروعی رحجان دیمک کی طرح قومی تشخص اور ملی حمیت کے پیکر کو کھوکھلا کر رہا ہے ۔ تیزی سے بڑھتی اس وبا کا ہنگامی بنیادوں پہ تدارک وقت کی اشد ضرورت ہے۔ قلبِ جاں میں گڑی رشتوں کی جڑوں کو آبِ احساس اور انسیت سے بحال اور مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ تبھی ممکن ہے جب گرد پیش میں اڑتی جھوٹے اور من گھڑت بیانیوں کی دھول سے پھیلتے اضطراب کو ختم کیا جائے ۔ ذہنوں کو شخصیت پرستی کے سحر سے آزاد کیا جائے ۔ دن کو دن اور رات کو رات کہنے کی ہمت اور جرات کی جائے ۔ قول و فعل کے تضاد ، زمینی حالات ، کارکردگی ، اور ریکارڈ شدہ ماضی کے پیمانے پہ معاملات کو پرکھا جائے ۔ اچھے اقدامات کی تعریف اور غلط کی مذمت کرنے کی عادت اپنائی جائے ۔ ہر بات سے کیڑے نکال کر باہمی اعتماد کے تالاب میں بلاوجہ ارتعاش پیدا کرتے رہیں گے ، تو غلط فہمیوں کا سلسلہ رکنے کی بجائے تیز تر ہوتا جائے گا ۔ اس لیے چلیے کچھ دیر ٹھنڈے دل و دماغ سے اس مرض کی تشخیص کرنے کی کوشش کریں ، اور مستقل علاج کے راستے تلاش کریں ۔