Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

مسئلے کا مستقل حل اسے جڑ سے اکھاڑنےمیں ہے

وطن عزیز روزِ اول ہی سے مسائل کی زد میں چلا آرہا ہے ۔ کبھی آئینی مسئلہ اور کبھی معاشی مسئلہ سر اٹھا لیتا ہے ۔ ان مسائل کے جھٹکے رکتے نہیں کہ سیاسی مسائل جنم لے لیتے ہیں ۔ یہ اتنے بے رحم اور زرخیز ہوتے ہیں کہ اپنے بطن سے ہزاروں مسائل اور مشکلات کو پیدا کرتے چلے جاتے ہیں ۔ نتیجتاًکبھی آئینی بحران اور کبھی آمریت کی طویل رات چھا جاتی ہے ۔ کبھی بیرونی سازشوں اور دشمن ممالک کی طرف سے مسلط کردہ جنگوں سے نمٹنا پڑتا ہے ۔ ستتر سالہ قومی سفر کانٹوں ہی پر جاری ہے ۔ پائوں کے ساتھ ساتھ وجود بھی زخمی ہے ۔ اسلام کے نام پر تخلیق ہونے والے اس ملک پر پروردگار کا خصوصی کرم رہا ہے ۔ تمام بلائوں، مصائب ، سازشوں اور مسائل کے باوجود یہ ملک آگے بڑھ رہا ہے ۔ پہلے سے زیادہ اہم اور مضبوط ہے ۔ جوہری طاقت کا حامل ہے ۔ قدرتی وسائل اور افرادی صلاحیتوں سے مالا مال ہے ۔ کمی ہے تو قومی اتحاد اور احساس ِذمہ داری کی ۔ اس پہ مستزاد یہ کہ نظریاتی و سیاسی تفریق گہری ہو گئی ہے ۔ نفرتوں کے سنپولوں کو دلوں میں پڑی دراڑوں سے نکلنے کا خوب موقع مل گیا ہے ۔ جوں جوں یہ دراٹیں وسیع و دراز ہو رہی ہیں ، باہمی دوریاں بڑھ رہی ہیں ۔ بد اعتمادی اور بدگمانی کی فصلیں پک رہی ہیں ۔
روایتی وضع داری اور مروت کی خوش نما کونپلیں مرجھا گئی ہیں ۔ قوی جذبے اور اتحاد کی چادر پہ ہر روز نیا چھید لگ رہا ہے ۔ قومی مفاد بہت پیچھے رہ گیا ہے ۔ کبھی کبھی گمان ہوتا ہے کہ قومی مفاد کی اہمیت اور شناخت ہی دھندلا گئی ہے ۔ آنکھوں پر چڑھے ذاتی مفاد کے چشمے سے قومی مفاد نظر ہی نہیں آ رہا ۔ آپا دھاپی کا عالم ہے ۔ افراتفری کا سماں ہے ۔ ہر قومی ادارہ بحرانی کیفیت میں مبتلا ہے ۔ سب کی ساکھ بتدریج خراب ہو رہی ہے ۔ پہلے سا وقار اور تکریم اب ان کے نصیب میں نہیں رہا ۔ عوام کا ان پر سے اعتماد گھٹ کر ختم ہونے کو ہے ۔ نہ ادارے اختیار اور انا کی جنگ سے پیچھے ہٹنے کو تیار ہیں اور نہ ہی قوم مخلص اور اچھے لیڈر کی صحیح شناخت کر پا رہی ہے ۔ جو بھی اچھے پن کی ادا کاری کرتا ہے ، وقت کا پردہ ہٹنے کے ساتھ ہی اس کی اصلیت ظاہر ہو جاتی ہے ۔ چونکہ عوام بری طرح سیاسی و نظریاتی تقسیم کے بھنور میں پھنس چکے ہیں، ان کی سوچ بھی کسی حد تک انتہا پسندی کی حد چھونے لگی ہے ، جس کے باعث دنگا فساد اور امن ِعامہ کے خطرات بڑھ گئے ہیں ۔ معاملات کی حساسیت کا ادراک اور تدارک نہ کیا تو پچھتائوا ہم سب کا مقدر بن جائے گا ۔ اس لئے ضروری ہے مسائل کی جڑ کو پہچانیں اور تلف کریں۔ سطحی اور علامتی اثرات کا علاج محض عارضی اور غیر مئوثر ہو گا ۔
آج کل ملک میں مسائل آندھی میں مٹی کے ذرات کی طرح اڑ رہے ہیں ۔ ہر شعب زندگی گرد آلود ہے ۔ لمحہ موجود میں سیاسی اور آئینی گرد ہر طرف پھیلی ہوئی ہے ۔ یہ قدرتی طوفان کی وجہ سے نہیں ۔ اس کو عدلیہ ، پارلیمنٹ اور سیاستدان مسلسل اڑا رہے ہیں۔ کوئی بھی آئین اور نہ ملک کا خیال کر رہا ہے ۔ سبھی ماورائے آئین اقدامات کر کے اپنے مفادات اور کیریئر کا تحفظ کر رہے ہیں ۔ چلیے کچھ دیر رک کر موجودہ عدالتی اور سیاسی بحران کی جڑ تلاش کرتے ہیں ۔ ہو سکتا پھر کوئی شافی علاج کا نسخہ بھی مل جائے ۔ تحریکِ عدم اعتماد سے کچھ ماہ پہلے حالات نے کروٹ لینا شروع کی ۔ جلسے جلوسوں کی ہوا چلنے لگی ۔ حکومت میں ٹوٹ پھوٹ کی آوازیں آنے لگیں ۔ ایک پیج کے دعویٰ بھی پھڑپھڑانے لگا ۔ اقتدار کی عمارت سے اینٹیں گرنے لگیں ۔ حکمرانوں نے اس ہلچل کا الزام بیرونی ہاتھوں اور اپنوں کی ملی بھگت پر دھرا ۔ جذباتی عوام مشتعل ہو گئے۔ ہمدردی کے سارے پھول گرتی حکومت کی جھولی میں ڈال دئیے گئے۔ اس کی بیڈ گورنس کے جھٹکوں اور شکایات کو یکسر لوح ِیادداشت سے محو کر دیا ۔ 22 اپریل 2022ء کی پر اسرار شب عدم اعتماد کا دھماکہ ہوا جس نے پارلیمنٹ کی عمارت کو لرزا دیا ۔ لمحے بھر میں آئین اور قومی اسمبلی ٹوٹ کر کرچی کرچی ہو گئے، جس کے اثرات عدالت عظمی تک پہنچے۔ ہنگامی حالات کا اعلان ہو گیا ۔ حالات کی نزاکت اور آئین کی شکستگی کو بھانپتے ہوئے سپریم کورٹ نے اسمبلیاں بحال کردیں ۔ بس یہی وہ لمحہ تھا جس نے ملک کو سیاسی عدم استحکام کی ڈگر پر ڈال دیا ۔ سپریم کورٹ کے حکم کو دل و جاں سے مان لیا جاتا ، آئین شکنی کے مرتکبین کو عدالت سزا بھی دے دیتی تو بعد میں آنے والے طوفان کی کسی حد تک روک تھام ہو سکتی تھی ۔
بد قسمتی سے بوجوہ ایسا نہ کیا گیا ۔ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد نئی حکومت معرض وجود میں آ گئی ۔ مگر اس کا وجود سولہ ماہ تھر تھراتا ہی رہا ، کبھی احتجاج اور کبھی صوبائی اسمبلیوں کی ٹوٹ پھوٹ سے ، عدالتوں میں مقدمات کا سیلاب آ گیا ۔ ججز نے بھی جڑ کی بجائے شجر حالات کے برگ و بار کی درستی پر ہی اکتفا کیا جس کے باعث شاخوں پر نئے مسائل آگ آئے جو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے ۔ کاش سیاست دان عدلیہ کے حکم کو مان لیتے، عدم اعتماد کی آئینی حیثیت متنازع نہ کرتے ۔ صوبائی اسمبلیاں توڑی جاتیں، نہ عدلیہ اس عمل کی اجازت دیتی ۔ کیونکہ مقاصد ملکی فلاح و مفاد میں نہ تھے صرف انتقام کی آگ بجھانے کا جنون تھا ۔ اس پر آئین سے ماورا فیصلوں نے جلتی پہ تیل کا کام کیا ۔ سانحہ نو مئی ہو گیا ۔ ادروں کے مابین بد اعتمادی اور مخاصمت کے شعلے عروج پر پہنچ گئے ۔ ایک دوسرے کو اپنے وجود کا خطرہ سمجھنے لگے ، جس کی لپیٹ میں فروری 2024ء کے الیکشن بھی آ گئے جنہوں نے سب کچھ ہی بکھیر کے رکھ دیا ہے ۔ اس کو چننا اور یکجا کرنا دشوار ہو رہا ہے ۔ صرف عدلیہ اور مقتدرہ اس کو مخلصانہ قومی جذبے کے ذریعے ملک کے وسیع تر مفاد میں تبدیل کر سکتے ہیں ۔ عدلیہ اپنے کیے گئے فیصلوں کو آئین سے ہم آہنگ کر ے ۔ مقتدرہ سیاست سے اپنا ہاتھ کھینچ لے ۔ مجھے امید ہے اگر عدلیہ موجودہ حالات کی اصل جڑ ، جو غلط فیصلوں میں گڑی ہے ، تلف کر دیں تو مقتدرہ کی مداخلت بھی کم ہوسکتی ہے ۔ حالات بہتر ہو سکتے ہیں ۔ بصورت دیگر یہ طوفان بڑھتا ہی رہے گا اور خاکم بدہن سب کچھ بہا لے جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں