Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

بھارت کے گلے کی ہڈی

(گزشتہ سے پیوستہ)
کشمیری عوام کیساتھ جب بات چیت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ کشمیر میں 05اگست2019 کے اقدامات سے کتنا بدلائو آیا ہے ؟ تو کشمیری عوام کے جوابات سے بھارتی صحافی شدید شرمندگی اور خفت سے دوچار ہوتے ہیں ۔مودی اور بی جے پی کے جہاں لتے لیے جاتے ہیں وہیں عام کشمیریوں کی جانب سے اس بات کا برملا اظہار کیا جاتا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی سرزمین پر اتنے سکول اور کالج نہیں ہیں جتنے بھارتی فوجی کیمپ قائم ہیں ،ایسے میں آپ لوگ کس امن کی بات کرتے ہیں۔بعض بھارتی صحافیوں کو کشمیری عوام کے غیض و غضب کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔دوسرا ایک اور اہم پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ان ڈھونگ انتخابات میں شریک لوگ خود ہی ایک دوسرے کی شلوار اتار رہے ہیں۔ہر ایک اپنے مخالف کو بی جے پی اور مودی کی بی ٹیم قرار دیتے ہیں۔ان حالات میں مودی حکومت کی جانب سے 25 ستمبرسے بھارت میں تعینات غیر ملکی سفارتکاروں کا منصوبہ بند دورہ سرینگر مقبوضہ جموں و کشمیر کی تلخ حقیقت کو چھپانے کا محض ایک حربہ اورکشمیری عوام کی حالت زار کو نظر انداز کرنا ہے۔غیر ملکی سفارتکاربھی یہ نہ بھولیں کہ جعلی انتخابات مقبوضہ جموں و کشمیر میں اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کا نعم البدل نہیں ہو سکتے،لہذا وہ گمراہ نہ ہوں!اور بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خاتمے کیلئے جدوجہد کرنے والے کشمیری عوام غیر ملکی سفراء سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ اہل کشمیر کیساتھ روا رکھے جانے والے بھارت کے جابرانہ سلوک کا نوٹس لیں گے اور اپنی اپنی حکومتوں سے اپنی سفارشات میں اس بات کی تلقین کریں گے کہ کشمیری عوام بھارتی جبر کے سائے میں زندگی بسر کرتے ہیں لہذا انہیں ان کے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا موقع فراہم کیا جانا چاہیے جس کا وعدہ بھارتی حکمران پوری دنیا کو گواہ ٹھرا کر اہل کشمیر کیساتھ کرچکے ہیں۔ بی جے پی کی زیرقیادت بھارتی حکومت 10 لاکھ سے زائد بھارتی فوجیوں کی تعیناتی کے باوجود مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالات معمول پر آ نے کے دعوے کر رہی ہے۔غیر ملکی سفارتکاروں کو بھی یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ کشمیر ی پنجرے میں بند جابرانہ قوانین کے تحت سچ کا اظہار کرنے سے بھی قاصر ہیں۔غیر ملکی سفارتکاروں کو بھارت کے کسی دھوکے میں نہیں بلکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی جبر کے آئینے میں صورتحال کو دیکھنا چاہئے۔اس کیساتھ ساتھ غیر ملکی سفارتکاریہ نہ بھولیں کہ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے اور بھارت نے اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل ، اقوام متحدہ کے مبصرین اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں کیلئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں زمینی صورتحال کا جائزہ لینے کے حوالے سے دروازے بند کررکھے ہیں۔
اقوام متحدہ کا سربراہ اجلاس ہر سال نیویارک میں منعقد ہوتا ہے ۔جس میں متنازعہ مسائل کو عوامی خواہشات کے مطابق حل کرنے کا عزم کیا جاتا ہے مگر ظالم اور جابر قوتیں محکوم قوموں کو ان کا حق واگزار کرانے کے بجائے ان کا خون بے دردی سے بہاتی ہیں اور دنیا جہاں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے وہیں اقوام متحدہ جیسا عالمی ادراہ بھی بے بسی کی عملی تصویر بناہوا ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر اور ارض فلسطین بھارتی اور اسرائیلی بربریت وریاستی دہشت گردی کی عملی تصاویر ہیں۔ ایسے میں نام نہاد جمہوری بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے۔فسطائی مودی مقبوضہ جموں و کشمیرمیں آبادیاتی تناسب کو تبدیل کر کے کشمیری عوام کی الگ اور منفرد شناخت کو مٹانے کی مذموم کوشش کر رہا ہے۔یہ بات کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر حل ہونے تک جنوبی ایشیا میں امن قائم نہیں ہو گا۔دنیا کو مقبوضہ جموں و کشمیرمیں انسانیت کے خلاف جرائم پر مودی اور اس کی دہشت گرد ا فواج کو جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔تاکہ کشمیری عوام کو مزید قتل و غارت گری سے بچایا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں