Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

مقبوضہ جموں وکشمیر پر بھارتی قبضہ مستحکم کرنا

(گزشتہ سے پیوستہ)
مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت نواز سیاسی جماعتوں کا بھارتی حکومت کے تازہ اقدام یا فیصلے پر ردعمل بڑی دیر کردی مہربان آتے آتے کے مصداق ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر کی سیاسی جماعتوں کے علاوہ بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے بھی نریندرا مودی حکومت کی جانب سے لیفٹیننٹ گورنر کو مزید اختیارات دینے کے فیصلے کو بی جے پی کے دورحکومت میں آئین کے قتل کی ایک اور مثال قرار دیاہے۔بھارتی کانگریس صدر ملک ارجن کھرگے نے کہا کہ اس اقدام کے دو نتائج ہوسکتے ہیں،مقبوضہ جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ دینے میں تاخیر یا نئی منتخب حکومت کو لیفٹننٹ گورنر کے رحم و کرم پر چھوڑنا۔یہ جموں وکشمیر کیساتھ سراسر دھوکہ دہی ہے۔وہیں کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ اس اقدام سے صاف نظر آرہا ہے کہ مستقبل قریب میں جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ نام نہاد جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ2019 میں ترامیم مقبوضہ جموں و کشمیر پر ناجائز اور غاصبانہ بھارتی قبضے کو مستحکم کرنے کے علاوہ کشمیری عوام کو سیاسی طور پر بے اختیار بنانے کی کوششیں ہیں۔بھارتی حکومت کے اس اقدام کا مقصد یہ بھی ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں نام نہاد لیفٹیننٹ گورنرکو بااختیار بنانے کے نام پر حد سے زیادہ اختیارات تفویض کرنا کشمیری عوام پر BJP کا مسلسل دبائو جاری رکھنے کا منصوبہ ہے کیونکہ جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ 2019 میں ترامیم نئی دہلی سے مقبوضہ جموں و کشمیر کا نوآبادیاتی کنٹرول جاری رکھنا ہے”بھلااس بات سے کون ذی حس انکار کرسکتا ہے کہ مودی کے دور حکومت میں مقبوضہ جموں و کشمیرہندوتوا نوآبادیات کی تجربہ گاہ بن چکا ہے۔اس کے علاوہ کشمیری عوام کو اختیارات سے محروم کرنا، غیر منتخب لیفٹیننٹ گورنر کو بااختیار بنانامقبوضہ جموں و کشمیرکیلئے بی جے پی کی نوآبادیاتی حکمت عملی کا حصہ اور مذموم منصوبہ ہے۔مقبوضہ خطے میں کشمیری عوام کے حقوق چھیننا، ہندوتوا راج کا نفاذ، غیرمنتخب لیفٹیننٹ گورنرکے اختیارات میں اضافہ کرکے اس سے طاقت کا منبع بنانا مودی کا نیا وژن یا منصوبہ ہے۔لہذاغیرمنتخب لیفٹیننٹ گورنر کو مزید اختیارات سے لیس کرنے کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی قبضے کو مرکزی حیثیت دینا اورکشمیری عوام کی آوازوں کو دبانا ہے۔مودی حکومت کی جانب سے غیرمنتخب لیفٹیننٹ گورنرکو بااختیار بنانا جہاں جمہوریت کا گلہ دبانے کے مترادف ہے وہیں بی جے پی کی حکمرانی میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں اس کا راستہ بھی ہموار کرنا بنیادی اہداف میں سے ہے۔05اگست 2019 کے بعد مودی حکومت نے کشمیری عوام کو بے اختیاربنانے کیلئے کئی نت نئے اقدامات کیے ہیں۔جن میں بیالیس لاکھ غیر ریاستی باشندوں کیلئے ریاستی ڈومیسائل کا اجرا،کشمیری عوام کی جائیداد و املاک ،زرعی زمینوں،باغات اور رہائشی مکانات پر قبضہ،مسلمان کشمیری ملازمین کو ان کی نوکریوں سے برطرف اور بھارتی فوجیوں کے علاوہ بھارتی بزنس ٹائیکونزکو یہاں کی زمینیں منتقل کرنا قابل ذکر ہیں۔مودی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیرمیں عوام کو سیاسی، آئینی، ثقافتی اور اقتصادی طور پر بے اختیار بنانے کے اقدامات کو بڑی سرعت کیساتھ نافذ کر رہی ہے۔جس کا یہ بھی مقصد ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی مسلم اکثریت کو ہندو اقلیت میں بدلا جائے ،تاکہ یہاں قبل از اسلام ہندو تہذیب کا دوبارہ احیا ممکن بنایا جاسکے ۔اس کیلئے مقبوضہ خطے میں بڑے پیمانے پر ہندو امرناتھ کا انعقاد اور پھر اس یاتر ا کی حفاظت کے نام پر مزید لاکھوں بھارتی فوجیوں کی تعیناتی ایک اہم جز ہے،جبکہ پورے مقبوضہ جموں وکشمیر کو دنیا کا سب سے زیادہ فوجی تعیناتی والا خطہ بنادیا گیا ہے۔ایسے میں بھارت مقبوضہ جموں وکشمیرمیں ہندوتوا ایجنڈے کو نافذ کرنے کیلئے ایک کے بعد ایک سازش رچارہا ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں ناجائز بھارتی قبضے کو مضبوط کرنا، اختلاف رائے کو کچلنا مودی حکومت کا آہنی ہاتھ والا طریقہ کار ہے۔البتہ یہ بات بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ 05 اگست2019 میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی منسوخی اور پھر کشمیری عوام پر تاریخ کا بدتریں فوجی محاصرہ مسلط ،اہل کشمیر کی سانسوں پر پہرے بٹھانا ،پوری آزادی پسند قیادت سمیت ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو بھارتی جیلوں میں بند اور آئے روز پکڑ دھکڑ مودی کیلئے کار آمد ثابت ہونے کے بجائے ناکامی اور رسوائی کا باعث ہے۔جہاں اہل کشمیر نے بھارتی جبر کے سامنے سرنگوں ہونے سے انکار کیا وہیں بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خاتمے کیلئے برسر پیکار سرفروش کشمیری مجاہدین نے حالیہ ایام میں بھارتی افواج کے خلاف اپنے حملوں میں تیزی لاکر مودی اور اس کے قبیل کو یہ پیغام دیا ہے کہ تم لاکھ کشمیر دشمن اقدامات کریں ،ہم تمہارے اقدامات پر یونہی ضربیں مارتے رہیں گے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیری عوام کو مودی حکومت کے مذموم عزائم ناکام بنانے کیلئے چوکنا رہنا چاہیے اور اس کیساتھ ساتھ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی سازشوں کے خلاف اپنی تاریخ ساز مزاحمت کو بھی ماند نہیں پڑنے دینا ہے۔

یہ بھی پڑھیں