اک زمانہ تھا والدین بچے کو اچھائی اور برائی کی شناخت کراتے تھے ۔ دونوں میں فرق سمجھاتے تھے ۔ آداب محفل سکھاتے تھے ۔ خوش کلامی اور خوش اخلاقی کی تربیت دیتے تھے ۔ اچھی بات کی تلقین اور بری سے منع کرتے تھے ۔ دشنام طرازی سے پرہیز اور شیریں سخنی کی تاکید کرتے تھے ۔ منفی سوچ اور گنوار لہجہ بچوں سے دور رہنے کا کہتے تھے ۔ طرزِ تکلم اور عمل بچے کی تربیت کا عکاس ہوتا تھا ۔ ان دو عوامل کا اس کی شخصیت سازی میں کلیدی رول ہوتا تھا ۔ شستہ و شگفتہ گفتگو شخصیت کو نکھار دیتی ۔ اس کے برعکس غیر مہذب طرزِ کلام اس کے بگاڑ کا سبب بنتا ۔خوش گفتار و خوش اخلاق شخص کی خاص قدر کی جاتی اور بد زبان کو برا جانا جاتا تھا ۔ اب خدا جانے کیا ہو گیا ۔ کیسا وقت آ گیا ہے ۔ ہماری سوچ بدل گئی، اخلاقی و سماجی اقدار دم توڑ رہی ہیں ۔ رکھ رکھا ، بھرم اور لحاظ جیسی روایات سسکیاں لے رہی ہیں ۔ منہ میں جو آتا کہہ دیا جاتا ہے ۔ اچھے برے کا احساس ہے نہ ندامت ۔ بری بات، بری نہیں لگتی اور اچھی بات کی قدر ہی نہیں رہی ۔ اس پہ مستزاد بد تہذیبی، فحش گوئی اور پھکڑپن کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔ جو جتنا بڑا بد زبان اور جگت باز ہوتا ہے اتنا ہی بڑا ہیرو بن جاتا ہے ۔اس کے ذو معنی اور اخلاق باختہ جملوں کو بے حد پسند کیا جاتا ہے ۔ ٹک ٹاک بنا کر انہیں وائرل کیا جاتا ہے ۔ اس کے منفی پن کو مزاح کا رنگ دے کر ابلاغ کیا جاتا ہے ۔ ایسے جملوں سے بجائے نفرت کرنے کے لطف اٹھایا جاتا ہے ۔ جو بے حسی کی مہلک روش کو مزید تقویت بخشتا ہے۔ یہی روش غیرمحسوس انداز میں ہماری اخلاقیات کی جڑیں کاٹ رہی ہے ۔ آج کل یہ عمل زور و شور سے ہو رہا ہے ۔
سوشل میڈیا کی چکاچوند اور کثرت استعمال نے اس چنگاری میں جان ڈال دی ہے معاشرے میں اک اضطراب ہے جو سوشل میڈیا نے پیدا کر رکھا ہے ۔ جس کی شدت بتدریج بڑھتی ہی چلی جارہی ہے ۔ کچھ عرصہ قبل ایک ایم این اے سے کسی واقعہ بارے سوال کرتے ہوئے ایک صحافی نے پوچھا کہ کیا اس کے بعد پروگرام جاری رہا ؟ اس پر موصوف بولے ’’پروگرام تو وڑ گیا ‘‘ دیکھا جائے تو ہماری اخلاقی و سماجی اقدار کے مطابق یہ جملہ بے ہودگی کے زمرے میں آتا ہے ، جس پہ ناپسندیدگی بنتی تھی ۔ لیکن حیران کن طورپر ہوا اس کے برعکس ۔ اس جملے نے اتنی مقبولیت حاصل کی ہر خاص و عام کی زبان پر چڑھ گیا ۔ کسی کو اس کے اندر پنہاں منفی اثر کا ادراک اور نہ احساس ہوا ۔ تاہم جب ایک بچے نے پورے خاندان کے سامنے بڑوں سے وڑ جانے کا مطلب پوچھا تو سب چونک گئے ۔ عجیب تذبذب میں پھنس گئے کہ کیا تشریح کرکے بچے کا تجسس دور کیا جائے ۔ ادھر ادھر کی باتیں کر کے بچے کو ٹرخا دیا گیا ۔ تاہم اس چیز کے احساس نے ہلکی سے گد گدی ضرور کی کہ ہمیں اپنی اخلاقی اقدار کو زندہ رکھنا چاہئے اور ایسے واہیات باتوں کو پروموٹ کرنے کی بجائے ان کا قلع قمع کرنا چاہئے ۔ ورنہ ایسی بے ہودگی نئی نسل کا قابل قبول اخلاقی معیار بن جائے گی ۔کچھ روز قبل سوشل میڈیا پہ ایک وڈیو وائرل ہوئی ۔جس میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اپنی فیملی کے ہمراہ ایک بیکری پہ جاتے ہیں ۔بیکری کا ایک ملازم ان سے پوچھتا ہے ’’آپ عیسی فائز ہو ؟‘‘ اثبات میں جواب ملنے پر وہ ایک گالی نما جملہ داغ دیتا ہے ۔ اب اس گالی کو ایک حلقے نے اتنی پذیرائی دینا شروع کی کہ وہ ٹرینڈ بن گیا ۔ سوشل میڈیا پہ طوفان بدتمیزی بپا ہو گیا ۔ بدتمیزی کرنے والے نوجوان کو لوگ نہ صرف ہیرو بنا کر پیش کرنے لگے بلکہ قطار اندر قطار اس بیکری کی زیارت بھی کرنے لگے ۔
ذرا رک کر ،ٹھنڈے دل کے ساتھ خود سے پوچھیں ، کیا یہ رحجان اور طریقہ کبھی ہماری معاشرت اور اخلاقی تربیت کا حصہ رہا ہے ؟ ایسی مضحکہ خیز حرکات سے ہم اپنی سوچ کی گراوٹ کا اظہار نہیں کر رہے ؟کیا یہی سوچ شدت پسندی کی سیڑھی سے چڑھ کر دہشت گردی تک نہیں پہنچ جاتی؟جب منفی حرکات ذہنی آسودگی کا ذریعہ بن جائیں تو سمجھو معاشرہ بڑے خطرے کی زد میں ہے ۔ مثبت اور سنجیدہ معاملات کو ادائے بے نیازی اور نفرت کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ ملکی معیشت اور سلامتی بارے امید افزا نوید اور علامتوں پہ جب ایک خاص طبقے کا دل کڑھے اور اس میں کیڑے نکالے تو سمجھو اس کی حب الوطنی پر سیاسی و شخصی وابستگی غالب آ چکی ہے ۔ اک زمانہ تھا پاکستان بارے کوئی تضحیک آمیز بات کرتا تو ہمارا خون جوش ِغیرت سے کھول اٹھتا ۔ ہر طرح کی سیاسی و نظریاتی وابستگی بھلا کر صرف پاکستان کی عزت اور سلامتی کے لئے سب ایک ہو جاتے ۔ قومی اتحاد ہی اندرونی اور بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے بہترین ہتھیار ہوتا تھا ۔ سوشل میڈیا پر آج ایک خاص طبقے کی جانب سے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں بھارتی وزیر خارجہ کے بیانات کو بنیاد بنا کر اپنے ہی ملک کے خلاف ہرزہ سرائی کی جارہی ہے۔ جو بہت افسوس ناک اور تشویش ناک ہے ۔
ہمارے پاس ہتھیار بھی ہیں ، اسلحہ کے انبار بھی ہیں ، ایٹم بم بھی ہیں اور میزائل کی کھیپ بھی ، مگر سب کچھ قومی اتحاد اور مطلوبہ جذبہ حب الوطنی کے بغیر بے اثر اور بے معنی سا لگتا ہے ۔ آخر ہمارے ذہنوں پر منفی سوچ، لہجوں میں تلخی اور رویوں میں جارحانہ پن کیوں حاوی ہو گیا ہے ؟ کہیں والدین اور سیاسی راہنما تربیت اور راہنمائی میں کوئی کوتاہی تو نہیں کر رہے ؟ ان کے دلوں میں نرمی ، شگفتگی ، تمیز اور تحمل مزاجی کی مٹھاس ڈالنے کی بجائے کہیں نفرت و عناد کا زہر تو نہیں گھولا جارہا؟ معاشرے کا حسن ماں کے ہاتھ میں ہے ۔ ان کی گود بچے کی پہلی تربیت گاہ ہوتی ہے ۔ بچے کی تربیت جتنی اچھی ہوگی اتنا ہی اچھا وہ انسان اور شہری بنے گا۔ اس کے بعد بڑی ذمہ داری ریاست کی ہے۔ اچھے شہریوں کی حوصلہ افزائی اور پذیرائی کرے ۔ بگڑے شہریوں کی جزا و سزا کے موثر عمل سے اصلاح کرے ۔زومبیز کی بہتات ہوجائے تو ہرکس و ناکس کو اپنی بقا ء کے لیے بالآخر زومبی بننا پڑتا ہے۔ روزا فزوں بڑھتی اس اخلاقی ابتری کو روکا نہ گیا تو انتشار اور بدامنی کی آگ سب کچھ راکھ کر دے گی۔