Search
Close this search box.
جمعه ,26 جون ,2026ء

موت کی جانب گامزن اقوام متحدہ

مشرق وسطیٰ اس وقت اسرائیلی بربریت اور درندگی کی زد میں ہے اور آگ کے شعلے بلند ہورہے ہیں۔یہ وہ آگ ہے جو عالمی امن کے ٹھیکیداروں بالخصوص امریکہ اور برطانیہ نے 78 برس قبل سرزمین فلسطین پر ایک ناپاک اور نجس اسرائیل کے قیام کی شکل میں بھڑکائی ہے اور اب یہ آگ آہستہ آہستہ پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ 7اکتوبر 2023میں حماس کی جانب سے طوفان القصی کوئی علی الاٹپ اقدام نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے ناجائز اسرائیل کی برسوں پر محیط اہل غزہ کو محصور اور انہیں دانے دانے کا محتاج بنانے کی سفاکانہ اور مذموم کارروائیاں کارفرما تھیں جس کا اظہار اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی کیا تھا۔سات اکتوبر سے لے کر آج کے دن تک اسرائیل نے پورے فلسطین میں قتل عام کی صورت میں نسل کشی کا جو سلسلہ شروع کیا ہے ،اس کا دائرہ اب لبنان،شام ،یمن ‘ عراق اور دوسرے ممالک تک پہنچ چکا ہے اور اب توانسانیت کے قاتل نتین یاہو نے یہ اعلان بھی کردیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا کوئی ایسا علاقہ نہیں جہاں اسرائیل نہیں پہنچ سکتا ہو۔ انسانیت کے اس قاتل کو اپنے آقا امریکہ جو خود کو انسانیت اور انسانی حقوق کا علمبردار گرداننے میں کوئی شرم وحیا اور عار محسوس نہیں کرتا نہ صرف بھرپور مدد و اعانت حاصل ہے بلکہ اس نے مشرق وسطیٰ میں اپنے بحری بیڑے کیساتھ ہزاروں فوجی بھی تعینات کیے ہیں،جس کا مقصد اپنے ناجائز بچے کاتحفظ کرنا اور اس کیلئے اگر پوری دنیا کو بھی نیست و نابود کرنا پڑے تو شائد یہ اس بہادر کیلئے گھاٹے کا سودا نہیں ہوگا۔27 اور 28 ستمبر کی درمیانی رات کو بیروت میں لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے ہیڈ کوارٹر پر اسرائیل نے یکے بعد دیگرے متعدد حملے کیے،جس کے نتیجے میں حزب اللہ کے سربراہ شیخ حسن نصراللہ اور ان کی بیٹی زینب نصر اللہ سمیت بیس سے زائد افراد شہید اور سینکڑوں زخمی ہوگئے۔ان حملوں میں امریکی ساختہ بم استعمال کیے گئے ،جن کا وزن دو ہزار پونڈ کے لگ بھگ ہے اور اس کا اعتراف امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کی فضائی امور کی ذیلی کمیٹی کے چیئرمین مارک کیلی نے این بی سی کو انٹرویو کے دوران کیا ہے کہ اسرائیل نے 27ستمبر کو بیروت میں حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ کو مارنے کیلئے جو بم استعمال کیا وہ امریکی ساختہ گائیڈڈ بم تھا۔مارک کیلی نے مزید کہا کہ اسرائیل نے کیلی 84 بم استعمال کیا جس کا وزن 2000 پائونڈ یا 900 کلو گرام تھا۔ لبنان میں اسرائیلی حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کے بارے میں یہ پہلا امریکی بیان تھا۔ اسرائیل نے حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کو ظاہر کرنے سے انکار کیا تھا۔جبکہ امریکی پینٹاگون نے ابھی تک مارک کیلی کے بیانات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔جبکہ امریکی صدر نے سید حسن نصر اللہ کے قتل کو انصاف پر مبنی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو حق دفاع حاصل ہے جس کی امریکہ حمایت کرتا ہے۔جس سے واضح ہوگیا ہے کہ امریکہ عربوں کے قتل عام کو جائز ٹھہراتا ہے۔اس واضح اور کھلی امریکی حمایت کی شہ پر ہی اسرائیل نے لبنان میں اب زمینی کارروائی بھی شروع کی اور لبنان کی بستیوں کو فوجی چھائونیاں قرار دیا جاچکا ہے۔
اس سے قبل 30ستمبر کو لبنان،شام ،عراق ،یمن اور غزہ میں اسرائیل نے ایک ساتھ حملے کرکے درجنوں افراد شہید اور سینکڑوں زخمی کیے۔پوری دنیا اس ننگی بربریت اور ریاستی دہشت گردی پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے،جس کا سادہ الفاظ میں مطلب اسرائیلی حمایت سمجھی جاتی ہے۔ ظاہر ہے جب نشانہ مسلمان ہوں اور مارنے والا یہودی دہشت گرد ہو تو نہ کوئی نوٹس لینے والا ہے اور نہ اس قتل عام پر کوئی شور وغوغا ہے۔ایک ایک کرکے مسلمان نشانہ بن رہے ہیں۔جس کا آغاز 9/11 کے بعد کیا گیا۔جب دہشت گردی کے نام پر افغانستان کو تختہ و تاراج کرکے لاکھوں افغانوں کا خون بہایا گیا ۔پھر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار weapon of mass destruction کے نام پر عراق کی خود مختاری اور سالمیت کو ملیا میٹ کرکے لاکھوں لوگوں کا خون بہایا گیا۔اسی پر بس نہیں کیا گیا بلکہ شام اور لیبیا میں بھی لاکھوں لوگوں کا خون اس نام پر بہایا گیا کہ عوام کو آمریت سے نجات دالاکر انہیں جمہوری حقوق فراہم کرنے ہیں۔کرنل معمر قذافی کو جس بیدردی اور بے رحمی سے قتل کروایا گیا وہ بھی امریکی تاریخ کے ماتھے پر ایک ایسا سیاہ دھبہ ہے ،جس سے کسی صورت دھویا نہیں جاسکتا۔ حالانکہ عراق پر حملے کے کئی برس بعد سابق امریکی وزیر خارجہ انجہانی کولن پاول نے ایک انٹرویو میں اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ weapon of mass destruction کے نام پر اقوام متحدہ میں ان سے جھوٹ بلوایاگیا جو اس کے دامن پر ایک سیاہ دھبہ ہے۔
اب ایران کو گھیرنے کی تیاری کی جاچکی ہے اور اس کیلئے حالات کو بڑی تیزی کے ساتھ جنگ کی طرف لے جایا جارہا ہے ۔رواں برس 31جولائی کو تہران میں حماس کے سربراہ سید اسماعیل ہانیہ کی شہادت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی اور اب حزب اللہ کے سربراہ کا قتل بھی پورے خطے میں جنگ کے شعلے بھڑکانے کیلئے کیا گیا ہے۔ 2006 میں بھی اسرائیل نے لبنان پر حملہ کرکے اس سے زمین بوس کیا تھا اور پھر اس وقت کی امریکی وزیر خارجہ Condoleezza Rice نے کہا تھا کہ ایک نیا مشرق وسطیٰ جنم لے رہا ہے۔لیکن اس سے ذلت و رسوائی کے سواکچھ حاصل نہیں ہوا اور اسرائیل کو بدترین ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا۔
( جار ی ہے )

یہ بھی پڑھیں