Search
Close this search box.
هفته ,11 جولائی ,2026ء

بلو چستان میں علیحدگی پسند عناصرکی موجودگی

اس اندوہناک سانحے کو بیتے ایک ہفتہ بھی نہیں ہوا، آپ روشنی کی سی رفتارسے سفر کرتےہوئے میڈیاکےحوالے سےجان چکےہوں گےکہ بلوچستان کے علاقے پنجگور میں دہشت گردوں نے ایک زیر تعمیرگھر کے ایک کمرے میں سوئےہوئےکنسٹرکشن ورکرز پراندھادھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں سات مزدور موقع پر جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک شدید زخمی ہوا ہے۔ میڈیا کی اطلاع کے مطابق دہشت گردوں نے گزشتہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب دہشت گردی کی یہ واردات انجام دی۔دہشت گردوں کے ہاتھوں بے گناہ قتل ہونے والے تمام مزدور ملتان کے علاقے شجاع آباد کے رہائشی تھے اور ان کا پیشہ گھرتعمیر کرنا تھا۔ با ت کچھ یوں ہے کہ پنجگور کے محلہ عبدالرحمن کا ایک رہائشی اپنا گھر تعمیر کرانےکے لیے ان مزدوروں کو ملتان کے علاقے شجاع آباد سے لےکرآیا تھا۔ تمام مقتولین آپس میں رشتہ دار ہیں۔دن بھر کام کرنےکےبعد رات کو یہ بدقسمت ورکرزگہری نیندسوئےہوئے تھے۔جدید ہتھیاروں سے لیس دہشت گردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کرکے سب کو موت کے گھاٹ اتارا اور بآسانی فرار ہوگئے۔ ادھر اتوارکو ایک اور واقعے کی خبرمیڈیا پر چلتی رہی،جس میں بتایا گیا کہ بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں بھی جدیدہتھیاروں سے لیس دہشت گردوں کے گروہ نے کئی مزدوروں کو اغوا کرلیا ہے اور تعمیراتی کمپنی کے زیراستعمال 8 بلڈوزر بھی نذرآتش کردئیے۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ بلوچستان میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت دہشت گردی کی وارداتیں کرائی جارہی ہیں۔بلوچستان میں مختلف نظریات،مقاصد اور اہداف رکھنے والی دہشت گرد تنظیمیں سرگرم عمل ہیں۔ بلوچ ایریازمیں بی ایل اے اوردیگربلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں سیکیورٹی فورسز اور غیربلوچ لوگوں پر گھات لگا کرحملےکررہی ہیں جبکہ چمن، ژوب، موسیٰ خیل اور کوئٹہ میں طالبان کے تعاون و حمایت سے دہشت گردی کی وارداتیں کی جارہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ منشیات اور اسلحہ کے اسمگلرز،جعلی کرنسی بنانے والے گینگزاور کریمنل انڈر ورلڈ گینگز بھی قتل وغارت میں ملوث ہیں۔یہ دہشت گرد گروپس اور جرائم مافیاز کا مقصد پاکستان کے ریاستی ڈھانچے کو تباہ کرنا، سیکیورٹی فورسز کا کنٹرول ختم کرنا، بلوچستان میں خوف و دہشت کی فضاء قائم کرنا تاکہ پرو پاکستان طبقے کو دیوار سے لگایا جاسکے اور بلوچستان میں آباد دیگر علاقوں خصوصاً پنجاب کے لوگوں کو خوف زدہ کرنا تاکہ وہ اپنا کاروبار،زرعی زمینیں اور سرکاری ملازمتیں چھوڑ کر بھاگ جائیں اور بعد میں ان دہشت گرد گروہوں کے ماسٹرمائنڈز اور فنانسرز یہ جائیدادیں کوڑیوں کےدام خریدکر اپنی حاکمیت قائم کرلیں۔ یہ گروہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز، سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والے چینی باشندوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں لیکن اب یہ دہشت گرد گروہ سفاکی اور بے رحمی کی ساری حدیں پار کرکے بےگناہ اور غریب مزدوروں کو قتل کرنے پراتر آئے ہیں۔ان کی بہادری اور دلیری کا عالم یہ ہے کہ رات کو گہری نیند سوئےہوئے نہتے مزدوروں کو جدید ہتھیاروں سے قتل کرتے ہیں۔ دنیا میں قوم پرستی اور آزادی کی دعویدار کسی تنظیم یا گروہ نے کبھی نہتے مزدوروں،خواتین اورمسافروں کونشانہ نہیں بنایا لیکن بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سرگرم عمل دہشت گرد گروہ ایسے بزدلانہ حملے کررہے اور بڑی ڈھٹائی سے ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں۔ بلوچستان میں گزشتہ دو دہائیوں میں سینکڑوں اساتذہ، تعمیراتی مزدوروں، کان کنوں اور دیگر ہنرمند اور زائرین و مسافروں کو بڑی بے دردی سے قتل کیا جاچکا ہے۔
رواں برس اپریل میں بھی دہشت گردوں نے ضلع نوشکی میں ایک مسافر بس سے شناخت معلوم کرنے کے بعد منڈی بہاؤالدین کے رہائشی 9 بے گناہ لوگوں کو قتل کردیا تھا۔ کچھ عرصہ قبل پختون اکثریتی ضلع موسیٰ خیل میں این 70 شاہراہ پر درجنوں دہشت گردوں نے مسافر بسوں،گاڑیوں اور مال بردار ٹرکوں کو روک کر مسافروں کی شناخت معلوم کرنے کے بعد 23 افراد کو گولیاں مار کر قتل کیا تھا۔ضلع کچھی کے علاقے بولان میں ریلوے پل کو بھی دھماکا خیز مواد سے اڑا دیا تھا جب کہ پل کے قریب سے چھ افراد کی لاشیں بھی ملی تھیں۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی وارداتوں سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ دہشت گرد اور علیحدگی پسند تنظیموں کا انٹیلی جنس نیٹ ورک فعال ہے۔ ان کی مالی لائف لائن بھی پوری طرح فعال ہے اور انہیں جدید اسلحہ کی ترسیل بھی بغیر روک ٹوک جاری ہے۔ یقینا یہ اسلحہ روڈ نیٹ ورک کے ذریعے دہشت گردوں تک پہنچتا ہے۔پاکستان کے بڑے شہروں میں چوری، ڈکیتی اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں بھی ایسے گروہ ملوث ہیں۔پاکستان کے شمال مغربی علاقے اور جنوب مغرب کی سرحد اور سرحدی اضلاع ہمیشہ آزاد اور انتظامیہ کے کنڑول سے باہر چلے آرہے ہیں۔ ان علاقوں کے بااثر لوگوں نے پاکستان کے آئین و قانون کی اتنی ہی پاسداری کی ہے، جتنا انھیں کبھی اقتدار میں حصہ مل جاتا ہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں