القرین همزاد شیطان يا مرافق ساتھی ہے جو ہر انسان کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔:::قرین ایک عربی لفظ ہے جس کا مطلب “ساتھی” ہے، اور اسلامی عقیدہ میں یہ شیطان کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ہر انسان کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اور پوری زندگی اس کے ساتھ رہتا ہے۔ قرین کا ذکر قرآن اور احادیث میں مختلف جگہوں پر آیا ہے، اور علماء و اولیاء نے اس موضوع پر گہرائی سے غور کیا ہے۔قرآن مجید میں کچھ آیات قرین کے بارے میں بتاتی ہیں اور اس کے کردار اور مقصد کو واضح کرتی ہیں۔“اور جو شخص رحمان کے ذکر سے اندھا بنے ہم اس کے لیے ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں، پھر وہ اس کا ساتھی ہوتا ہے ”(الزخرف: 36) اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر انسان اللہ کے ذکر سے غافل ہو جائے تو اس کا قرین شیطان بن جاتا ہے اور وہ اسے گمراہ کرتا ہے۔احادیث میں بھی قرین کا ذکر آیا ہے:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرین کے بارے میں فرمایا۔ حدیث صحیح مسلم میں آیا ہے:“تم میں سے ہر ایک کے ساتھ ایک ساتھی (شیطان) ہوتا ہے”صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ، کیا وہ آپ کے ساتھ بھی ہے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:“ ہاں، اور وہ میرے ساتھ ہے، لیکن اللہ نے میری مدد فرمائی اور وہ مسلمان ہو گیا۔ ”علماء اور اولیاء نے قرین کی شیطانی چالوں سے اپنے مریدوں یا طالب علموں کو بچنے کی تعلیم و تربیت کا ہرطرح اہتمام كيا. انسان کا قرین اس کی سوچوں اور اعمال پر اثرانداز ہوتا ہے، لیکن انسان کسی شیخ یا استاد کی راہنمائی سے اللہ کے ذکر میں مشغول رہ کراپنے عمل کے ذريعے قرین کے منفی اثرات سے محفوظ رہتا ہے۔ مولانا جلال الدین رومی نے قرین کے موضوع کو روحانی سیاق میں بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق، قرین صرف ایک جسمانی یا نفسیاتی شیطان نہیں ہے، بلکہ یہ انسان کی اندرونی دنیا کا عکس ہے۔ ہر انسان کے اندر دو قوتیں ہوتی ہیں: ایک نور کی قوت (ملکوتی) اور دوسری ظلمت کی قوت (شیطانی)۔ قرین وہ شیطانی قوت ہے جو انسان کو شہوت، نفس، مادیات اور برائی کی طرف لے جاتی ہے۔“انسان کے دل میں دو ساتھی ہیں، ایک نور کا ساتھی اور دوسرا دھوئیں کا ساتھی”مولانا رومی کے مطابق، قرین روحانی ترقی کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ ہے، اور اس سے بچنے کے لیے اللہ کی محبت اور فرمانبرداری میں نماز اور ذکر کی پابندی سے اس پر قابو پا سکتا ہے۔ قرین انسان کے ساتھ اس کی موت تک رہتا ہے اور مختلف طریقوں سے اسے برے اعمال اور منفی رویوں کی طرف مائل کرتا ہے۔ لہٰذا، جب بھی کوئی برا یا منفی خیال محسوس ہو تو فوراً یہ دعا پڑھنی چاہیے:“أعوذ بکلمات اللہ التامات من غضبہ و عقابہ وشر عبادہ ومن ھمزات الشیاطین وأن یحضرون۔ ”آج کے دور فتن میں، اللہ کے مخلص اولیاء اور سچے علماء ناپید ہین۔ اور عام مسلمان روحانی رہنمائی سے محروم ہیں۔ اور وہ شیطانی قرین کے شکار بن جاتے ہیں۔ لہٰذا، ہمیں قرآن اور اللہ کے ذکر کی طاقت سے اللہ کے مخلص بندے کی راہنمائی اور تعلیم و تربیت سے شیطانی قرین کے فریب سے بچا جا سکتا ہے، خاص طور پر اللہ کی پناہ طلب کرتے رہنا، کثرت سے آیت الکرسی اور معوذتین پڑھنا۔آیت الکرسی کو سونے سے پہلے، ہر فرض نماز کے بعد، اور ہر کام شروع کرنے سے پہلے پڑھنا بہت فائدہ مند ہے۔ اللہ کے فضل سے، اس ذکر اور دعا کی مدد سے انسان شیطانی وساوس اور قرین کی چالوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔