(گزشتہ سے پیوستہ)
علیحدگی پسند اور شدت پسند تنظیموں کو اسلحہ اور فنڈز فراہم کرنے والے راستے اور سوراخ بند کرنا ہوں گے۔ سیاست و مذہب کے لبادے میں عوام کو ریاست اور اس کے اداروں کے خلاف من گھڑت، بے بنیاد پروپیگنڈے کرنے اور کرانے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نبٹنا ضروری ہوچکا ہے،کتنا ظلم ہے کہ مذہب اور قوم پرستی کے نام پر تعلیم یافتہ نوجوانوں حتیٰ کہ پاکستان کی پڑھی لکھی بہو بیٹیوں کو خود کش بمبار بنایا جا رہا ہے۔ کیا ایسی تنظیموں کے سرپرستوں، ہمدردوں اور سہولت کاروں کے ساتھ رعایت برتی جانی چاہئیے۔ دہشت گرد تنظیمیں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اپنے نظریات کا اسیر بناتی ہیں، انہیں یہ باورکرایا جاتا ہے کہ ریاست انہیں، ان کے حقوق نہیں دے رہی یا انہیں باور کرایا جاتا ہے کہ ریاست ان کے عقیدے کے خلاف کام کررہی ہے۔ان نوجوانوں کو جھوٹے خواب دکھا کر اپنے ساتھ شامل کر لیا جاتا ہے اور انہیں دہشت گردی کے کیمپوں میں تربیت کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔ پاکستان کی مین اسٹریم سیاسی اور مذہبی سیاسی قیادت دہشت گردی کے ایشو پر ہمیشہ دوعملی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ بلوچستان میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے بے گناہ مزدوروں کے قتل پر قوم پرست سیاسی قیادت ہمیشہ خاموش رہتی ہے۔ مذہبی سیاسی قیادت کا رویہ بھی بے حسی پر مبنی ہوتا ہے۔ انسانی حقوق کے نام پر تنظیمیں چلانے والے بھی خاموش رہتے ہیں، البتہ ایسے ایشو جو پاکستان کے لیے نقصان دہ ہوں، ان پر بڑھ چڑھ کر بولتے اوریہ تاثر دینے میں پیش پیش ہوتے ہیں کہ خدانخواستہ پاکستان ایک دہشت گرد ملک ہے۔ ’’مسنگ پرسنز‘‘ کے نام پر دئیے جانے والے دھرنے، احتجاج درحقیقت نئے دہشت گردوں کے لیے بھرتی سینٹرز ہیں جہاں ایشو پر علیحدگی پسندوں کے موقف کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں جبکہ اس کے برعکس دوسرے موقف پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز جب دہشت گردوں کے خلاف ایکشن لیتی ہیں تو اس کے خلاف واویلا کیا جاتا ہے۔ کیا دنیا کے کسی اور ملک میں اس قسم کی سیاست اور دانشوری کی کوئی جگہ موجودہے۔ کیا بھارت میں مین اسٹریم سیاسی پارٹیاں نیکسلائٹ کے حملوں کی تائید کرسکتی ہیں؟ کیا سعودی عرب میں القاعدہ، داعش وغیرہ کی کھلے عام حمایت کی جاسکتی ہے؟ کیا ایران میں مجاہدین خلق اور شاہ کے حامیوں کو اپنی بات کرنے کی آزادی ہے؟ کیا افغانستان میں طالبان حکومت اپنے مخالفوں کو بات کرنے کی اجازت دیتی ہے؟ہماری معاشرتی اقدار کا پہلا سبق خواتین کا احترام ہے، ہم اپنی بچیوں کی تعلیم وتربیت اس لیے نہیں کرتے کہ کوئی ظالم انہیں اپنے مفادات کے لیے خود کش بمبار بنا دے۔ہم اپنے بچوں کو پال پوس کر اس لئے جوان نہیں کرتے ہیں کہ وہ جہادیوں کے مفادات کی بھینٹ چڑھ کر پہاڑوں اور صحراؤں میں مارے جائیں یا کسی چوراہے میں پھٹ جائیں اور بے گناہوں کے قتل کا بوجھ اُٹھا کر خدا کے حضور پیش ہوجائیں۔ دہشت گرد تنظیموں نے خواتین کو خودکش بمبار بنا کر کئی نسلوں کو برباد کیا ہے۔ اپنے مذموم مقاصد کے لیے بے گناہ بچوں، بوڑھوں اور خواتین کا قتل کرنے والی دہشت گرد تنظیمیں کسی بھی صورت معافی کی حقدار نہیں ہیں۔ پاکستان کے دشمن طویل مدت سے بلوچستان کے امن و امان کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں، جن کا مقصد بلوچستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے، کیونکہ سی پیک منصوبے کی وجہ سے بلوچستان خاص طور پر ’’گوادر‘‘ عالمی نگاہوں کا مرکز بن چکا ہے، بلوچستان ترقی اور خوشحالی کی راہ پرگامزن ہو چکا ہے۔ بلوچستان کئی دہائیوں سے بیرونی طاقتوں کی سازشوں کا مسکن بنا ہوا ہے جس کے نتیجے میں نہ سازش کرنے والوں کوکچھ ملا اور نہ ہی بلوچستان کا کچھ بھلا ہوا۔ شدت پسندی کا مکمل خاتمہ تبھی ممکن ہوتا ہے جب معاشرے کے تمام طبقات متحد ہوں۔ ریاست اپنی طاقت اور مضبوط عزم کے ذریعے قانون شکنوں کے خلاف کارروائی کرنے کی مکمل اہلیت رکھتی ہے۔