ریاست دشمن عناصر چہار جانب سے پاکستان پر حملے کر رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں پندرہ سے زائد فرزند دفاع وطن کا فریضہ انجام دیتے ہوئے شہید ہوئے۔ کراچی ائرپورٹ کے قریب چینی شہریوں کو ہدف بنانے کے لئے خودکش حملہ کیا گیا۔ جس کالعدم گروہ نے کراچی حملے کی ذمہ داری قبول کی اس کے منصوبہ ساز سرحد پار افغانستان میں ہیں۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں میں دہشت گر حملے افغانستان سے کئے جاتے ہیں۔ ریاست نے دہشت گردوں کو فتنہ خوارج قرار دےکر درست قدم اٹھایا۔ مذہب کا نقاب اوڑھ کر پاکستان کی سالمیت پر وار کرنے والے فتنہ گروں پر بات ختم نہیں ہوتی۔ سیاسی تخریب کاروں کے کئی جتھے رنگ برنگے نقاب اوڑھ کر ملک میں انتشار کی آگ بھڑکا رہے ہیں۔ لسانی تعصب کا زہر پھیلانے والے شرپسندوں نے قوم پرستی کا نقاب اوڑھ رکھا ہے۔ جن دو صوبوں میں سرحد پار دہشت گردی کی لہر زور پکڑ رہی ہے وہاں نام نہاد قوم پرستوں کے کرتوت انتہائی قابل گرفت ہیں۔ پہلے خیبر پختونخوا کا منظرنامہ ملاحظہ کر لیں۔ اس حرماں نصیب صوبے میں پشتونوں کے نام نہاد محافظ قوم پرست دراصل خوارج کے دست و بازو بن کر انتشار کی آگ پر تیل ڈال رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب بھی سرحدوں کے محافظوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر سرحد پار سے خارجی حملہ کرتے ہیں تو جعلی قوم پرست کس کی حمایت کرتے ہیں اور کس کی مذمت کرتے ہیں؟ جواب نہایت تلخ لیکن چشم کشا ہے۔ قوم پرستوں کے جتھے انہی محافظوں پہ غراتے ہیں جو مادر وطن کی خاطر جانیں قربان کرتے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ خوارج اور جعلی قوم پرستوں کا ہدف مشترک ہے۔ البتہ انداز اور نقاب مختلف ہیں۔ ایک جتھے نے مذہب کا نقاب اوڑھا ہے تو دوسرے جتھے نے قوم پرستی کا نقاب پہنا ہوا ہے۔ دونوں جتھے فتنہ گر ہیں ۔ خوارج قومی سلامتی کے اداروں پہ دہشت گرد حملے کر کے سرحدی دفاع میں دراڑیں ڈالنا چاہتے ہیں تو ان کے قوم پرست حواری لسانی نفرت کی آگ بھڑکا کر ملک کی نظریاتی سرحدوں اور قومی سالمیت میں شگاف ڈالنا چاہتے ہیں۔ حال ہی میں کالعدم قرار دی جانے والی پی ٹی ایم کی تمام تر سرگرمیاں خارجی فسادیوں کے مقاصد کو تقویت فراہم کر رہی تھیں۔ جعلی قوم پرستوں نے ایسا ہی مشکوک طرز عمل بلوچستان میں بھی اپنایا ہوا ہے۔ ایک جانب کالعدم بی ایل اے اور اس کے متعدد دہشت گرد گروہ ترقیاتی منصوبوں کو ہدف بنا کر صوبے کی ترقی میں رخنہ ڈال رہے ہیں تو دوسری جانب نام نہاد قوم پرست انسانی حقوق اور لاپتہ افراد جیسے مسائل کا واویلا مچا کر ریاستی اداروں کے خلاف نفرت کی آگ سلگا رہے ہیں۔ بلوچستان سے اسلام آباد اور پھر گوادر تک لانگ مارچ اور دھرنوں کا بازار گرم کرنے والی ایک خاتون ڈاکٹر نے بلوچوں کے مسائل حل کرنے کے لئے کچھ کاوش نہیں کی ۔ نام نہاد یکجہتی کمیٹی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنی ذاتی تشہیر تو خوب کر لی لیکن بلوچستان کی پسماندگی دور کرنے کا کوئی راستہ نہیں دکھایا۔ کیا بلوچ نوجوان ہتھیار تھام کر دہشت گرد بننے کے لئے جنم لیتے ہیں؟ سی پیک سمیت متعدد معاشی منصوبوں اور چینی شہریوں پر حملوں کا واحد مقصد یہی ہے کہ بلوچستان میں بےروزگاری اور بےچینی پھیلے ۔ اسی بےچینی کو ریاست کے خلاف نفرت میں بدل کر بلوچ نوجوانوں کو دہشت گردی کی راہ پر دھکیلا جائے۔ علیحدگی پسندی اور بلوچ حقوق کا نقاب اوڑھنے والے فتنہ گروں کا نان و نفقہ بھارت کے ذمے ہے۔ افغانستان میں انہیں محفوظ پناہ گاہیں دستیاب ہیں۔ دشمن نے پاکستان کے خلاف چومکھی جنگ شروع کر دی ہے۔ یہ جنگ سرحدوں تک محدود نہیں رہی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی اس جنگ کا ایک بہت بڑا محاذ بن چکے ہیں۔ اندرونی استحکام کا انحصار یکجہتی ، معاشی ترقی اور سیاسی تدبر پر ہے۔ دشمن کی چو طرفہ یلغار اجتماعی قومی بصیرت اور سیاسی تدبر کی آزمائش ہے۔ صد افسوس کہ سابق حکمران جماعت پیچیدہ حالات کے تقاضوں کو سمجھنے کے باوجود غیر زمہ دارانہ طرز سیاست سے عدم استحکام کو فروغ دے رہی ہے۔ جس انداز میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے احتجاج کی آڑ میں سیاسی تماشہ لگایا اس سے نہ صرف ملک کی جگ ہنسائی ہوئی بلکہ ان کی اپنی جماعت بھی لعن طعن کا شکار بنی۔ ایس سی او کانفرنس اور ملائیشین وزیراعظم کے دورے جیسے اہم سفارتی معاملات کو نظرانداز کرتے ہوئے وفاقی دارلحکومت پہ لشکر کشی کا فیصلہ اس امر کا بین ثبوت ہے کہ انصافی قیادت انتشارکی آگ کو ہوا دے رہی ہے۔ خوارج ، جعلی قوم پرست اور نام نہاد انقلابی مل کر ریاست دشمن ایجنڈے پر کاربند ہیں۔ ایس سی او کانفرنس سے پہلے اسلام آباد پہ لشکر کشی ، خیبرپختونخوامیں خارجی دہشت گرد حملے، کراچی میں چینی شہریوں پر کالعدم مجید بریگیڈ کا خودکش حملہ ، خیبر پختونخوا میں کالعدم قوم پرست تنظیم کا جرگہ اور بڑبولے وزیراعلیٰ کی لشکر کشی دراصل ایک ہی شیطانی منصوبے کی کڑیاں ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ ریاست فتنہ گر شرپسندوں کے خلاف فیصلہ کن تادیبی اقدامات یقینی بنائے۔